رواں مالی سال میں گاڑیوں کی فروخت میں واضح کمی

پاکستان میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں گاڑیوں کے مختلف شعبہ جات میں طلب میں نمایاں کمی آئی۔جس کے بعد کاروں کی فروخت میں 39.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی اور 3 ماہ کے دوران صرف 31 ہزار 107 یونٹس فروخت ہوئے ۔ اس کے علاوہ ٹرکوں کی فروخت میں 49.7 فیصد، بسوں میں 26 فیصد، ٹریکٹرز میں 31.6 فیصد، جیپ میں 58 فیصد، پک اپس میں 48 فیصد اور 2/3 وہیلر گاڑیوں کی فروخت میں 19.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔
ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ کمی سوزوکی ویگن R کی فروخت میں دیکھنے میں آئی جو 73 فیصد کم ہو کر محض 2 ہزار 168 رہی جس کے بعد ہونڈا سوک اور ہونڈا سٹی کی فروخت 68 فیصد کمی کے ساتھ 3 ہزار 926، ٹویوٹا کرولا کی فروخت 58 فیصد کم ہو کر 5 ہزار 503 فیص جبکہ سوزوکی سوئفٹ کی فروخت 59 فیصد کم ہو کر 524 رہی جبکہ سوزوکی کلٹس کی فروخت 25 فیصد کمی کے بعد 3 ہزار 598، سوزوکی مہران 85 فیصد کمی کے ساتھ ایک ہزار 249، جبکہ سوزوکی بولان کی فروخت 71 فیصد کمی کے بعد ایک ہزار 106 یونٹس تک محدود رہی۔
دوسری جانب تجارت اور کاروبار کی پیمائش کا آلہ سمجھی جانے والی ٹرکوں کی فروخت 847 سے کم ہوکر ایک ہزار738 رہ گئی، ہینوپاک 652 سے کم ہوکر 365، ماسٹر 285 سے کم ہو کر 121 اور سوزو 801 سے کم ہوکر 388 کی تعداد میں فروخت ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کے باعث گاڑیاں تیار کرنے والوں کی جانب سے قیمتوں میں مسلسل اضافہ، مختلف پاورز کے انجن پر 2.5 سے 2.7 فیصد تک فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی کا نفاذ اور خام مال کی درآمد پر اضافی کسٹم ڈیوٹی نے کاروں کی فروخت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔اس کے علاوہ آٹو فنانسنگ میں بھی بلند شرح سود کے باعث کمی دیکھی گئی جبکہ موٹر سائیکل اور دیگر گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث متعدد مرتبہ اضافہ ہوا۔تاہم گزشتہ ماہ کے دوران کاروں کی فروخت میں معمولی سا اضافہ دیکھنے میں آیا اور اگست میں 9 ہزار 126 یونٹس کی فروخت کے مقابلے ستمبر میں 10 ہزار 923 یونٹس فروخت ہوئے لیکن یہ تعداد مجموعی طور پر ایک سہہ ماہی کے اعداد و شمار پر اثر انداز نہیں ہوسکی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button