جڑواں بچوں کی پیدائش میں 3گنا اضافہ

ماہرین صحت کہتے ہیں کہ حیران کن طور پر موجودہ عہد میں ماضی کے کسی بھی دور کے مقابلے میں جڑواں بچوں کی پیدائش کی شرح میں 3 گنا اضافہ ہوچکا ہے۔

عالمی سطح پر بچوں کی پیدائش کی شرح میں کمی آئی ہے یامختلف ممالک میں تو یہ کافی سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ایسا تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہےاورتحقیقی رپورٹس میں مسلسل پیشگوئی کی جا رہی ہے کہ جڑواں بچوں کی پیدائش کی شرح میں اضافہ برقرار رہے گا۔

ماہرین کے مطابق اس کی متعدد وجوہات ہیں مثال کے طور پر سماجی عناصر جیسے زیادہ عمر میں خواتین کا حاملہ ہونا اور بانجھ پن سے بچنے کے لیے کرائے جانے والے علاج کی شرح بڑھنے جیسے عناصر بنیادی ہیں۔اگرچہ انسانوں میں جڑواں بچوں کی پیدائش زیادہ عام نہیں مگر ہر 60 میں سے ایک حمل کے دوران ایسا ہوتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ حمل ٹھہرنے کی صورت میں خواتین میں جڑواں بچوں کا امکان بھی بڑھتا ہے کیونکہ ہارمونز میں وقت کے ساتھ تبدیلیاں آتی ہیں۔

Back to top button