مائنس عمران نیا پاکستان ، کامیابیوں کی نئی داستان

 

 

 

 

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی اور جیل جانے کے بعد سے پاکستان کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کی چھٹی کے بعد پہلے سٹیج پر ملک ڈیفالٹ سے بیچ نکلا، پھر بھارت کو ذلت آمیز شکست دے کر پوری خطے میں اپنی دھاک بٹھائی اور اب ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کراکے پاکستان دنیا کے نقشے میں ایک اہم اور باوقار کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔ سارا عالم آج پاکستان کی اس بڑی سفارتی کامیابی کو سراہا رہا ہے، سوائے بھارت کے، جہاں صف ماتم بچھی ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر بھی ہذیانی کیفیت طاری ہے۔

 

ناقدین کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب ساری دنیا پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف کر رہی ہے اور مودی کے اپنے لوگ ہی اس پر چار حرف بھیج رہے ہیں، حسب روایت عمران خان کے کلٹ پیرو کاروں کو وطن عزیز کی یہ کامیابی بھی ہضم نہیں ہو رہی ہے ۔ حتی کہ پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر بھی پاکستان کی اس بے مثال کامیابی پر ایک لفظ نہیں لکھا گیا، بلکہ مسلسل ایسے ٹوئیٹس اور رپورٹس ری پوسٹ کی جارہی ہیں، جن میں پاکستان کی اس کامیابی کو دھندلانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ یوں وہ اس معاملے میں بھارتیوں کے ساتھ ایک پیج پر نظر آتے ہیں جبکہ بعض مواقع پر پی ٹی آئی کے حامی اور سوشل میڈیا انقلابی بھارت سے بھی ایک ہاتھ آگے نکل گئے اور اپنے پیجز اور پروفائلز پران رپورٹس کو نمایاں کرتے دکھائی دئیے، جن میں کہا گیا تھا کہ ایران نے امریکی تجاویز مسترد کر دی ہیں یا پاکستان کی ثالثی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ ناقدین کے مطابق یوتھیوں کی ان ٹوئٹس کامقصد صرف ایک ہی تھا کہ کسی طرح پاکستان کی کامیابی کے تاثر کو کمزور کیا جاسکے۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ناصرف سفارتی محاذ میں کامیابی عطا کی بلکہ پوری دنیا اس وقت وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے گن گاتی نظر آرہی ہے۔

 

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آرہی ہے، ایسے میں پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کی سفارتی کامیابی پر تحفظات اور تنقید کی بنیادی وجوہات کے پیچھے یہ خوف پوشیدہ ہے کہ اگر اسی طرح موجودہ سیاسی اور فوجی قیادت کو کامیابیاں ملتی رہیں تو ان کا نام نہاد انقلابی لیڈر عمران خان ماضی کا حصہ بنتا چلا جائے گا جبکہ مستقبل قریب میں عمران خان کے جیل سے باہر آنے کے امکانات بھی معدوم ہیں۔

ناقدین کے مطابق جہاں پاکستان میں پی ٹی آئی کے کلٹ فالورز حکومت کی سفارتی کامیابی پر ناخوش ہیں وہیں

دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں پاکستان کے کلیدی کردار نے بھارت کے لئے بھی حد درجہ سفارتی سبکی اور داخلی سطح پر دباؤ کی صورتحال پیدا کر دی ہےجبکہ مودی سرکار خوف کا شکار ہے کہ اگر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے تو عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مزید بلند ہو جائے گا، جو بھارت کی ان کوششوں کے لئے بڑا دھچکا ہوگا جن کے ذریعے وہ پاکستان کو سفارتی طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، جہاں پاکستان عالمی سطح پر امن کے پیامبر کے طور پر ابھرا ہے، وہیں بھارت خود کو اس اہم علاقائی معاملے میں تنہا اور غیر متعلقہ محسوس کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھارت کا پالتو گودی میڈیا بھی مودی کی جی بھر کر تذلیل کر رہا ہے۔ جبکہ بھارتی اپوزیشن پارٹی کانگریس بھی مودی کو خوب لتاڑرہی ہے

مبصرین کے مطابق خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کی دنیا بھر میں ستائش کی جا رہی ہے حتیٰ کہ یورپین کونسل اور یورپی کمیشن کے صدور نے بھی اپنے علیحدہ علیحدہ پیغامات میں پاکستان کے سفارتی کردار کی دل کھول کر تعریف کی ہے۔ ناقدین کے بقول اس تعریف کے سبب یقینا بھارت اور بیرون ملک بیٹھے پی ٹی آئی کے حامیوں کے سینے پر سانپ لوٹ گئے ہوں گے ، جو ایک عرصے سے پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کر کے اس کا جی ایس پی پلس سٹیٹس ختم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تا ہم ان کی یہ خواہشات پوری نہیں ہو پار ہیں۔ اب تک پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس نا صرف برقرار ہے، بلکہ اب تو یورپی یونین کی جانب سے اسے دو ہزار ستائیس تک بڑھا بھی دیا گیا

Back to top button