ابصار عالم نے سیاسی سکرین پر چلنے والی فلم چربہ قرار دے دی

وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے خاموشی اختیار کرنے والے سینئر صحافی ابصار عالم نے اپنی چپ توڑتے ہوئے بتایا یے کہ انکا اس وقت چلنے والی چربہ سیاسی فلم پر لُڈیاں ڈالنے کو دل نہیں چاہ رہا، انکا کہنا ہے کہ اگر اس فلم کا ”دی اینڈ “ کچھ اور ہُوا تو دیکھیں گے،
اس لیے ابھی چُپ ہیں اور فلم کے ”دی اینڈ “ کا انتظار کر رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ججز، جرنیل، جرنلسٹس اور الیکٹیبل سیاستدانوں کا اُسی جوش و جذبے سے پُرانی فلم دوبارہ دیکھنے اور کمینٹری سُنانے کا شوق سر آنکھوں پر لیکن یہ ایسی چربہ فلم ہے جس کا ” دی اینڈ” سب کو معلوم ہے اور اگر کوئی شک تھا تو 23 مارچ کی پریڈ ختم ہونے کے فوراً بعد آرمی چیف کے “عوام میں گھُل مل جانے” اور “کھُلی ڈُھلی گُفتگو” کا سین ڈالنے سے دُور ہو گیا۔
اپنی تازہ تحریر میں ابصار عالم کہتے ہیں کہ آج کل جو کُچھ مُلک میں ہو رہا ہے ایسا پہلے بھی کئی بار ہوتے دیکھ چُکا ہوں، جیسے کارٹون کے تمام کرداروں کا، اُن کی اگلے سین کی حرکات اور ” دی اینڈ “ کا علم ہوتا ہے، اسی طرح موجودہ کہانی اور اسکے کرداروں کا کتنا اور کیا رول ہے، وہ مجھے معلوم ہے۔ ابصار کہتے ہیں کہ میں چُپ اس لیے ہوں کہ جب دُوسرے مُمالک کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سپیس ٹیکنالوجی سے مُسلح نوجوان مریخ پر بستیاں بسانے کی تیاریوں میں ہیں،
ہمارے 20 سال کے نوجوان سُود پر قرض کے پیسوں سے موٹر سائیکل خرید کر معمولی تنخواہ پر سردیوں کی تاریک راتوں میں فوڈ ڈلیوری کرنے کی جلدی میں کسی ریڈ سگنل کو توڑتے ہوئے مُخالف سمت سے آنے والی پراپرٹی ڈیلر یا اُس کے بگڑے بچے کی لینڈ کروزر کے جاپانی ٹائرز کے نیچے کُچلے جا رہے ہیں۔ اس وقت ہمارے مُلک کا اخلاقی طور پر سب سے بہترین نوجوان یا تو فوڈ ڈیلیوری میں جا رہا ہے یا پھر بائیکیا BYKEA کو جوائن کر رہا ہے تا کہ حلال رزق کما سکے۔ اس تعداد پر نہ ہی کوئی ڈیٹا دستیاب ہے اور نہ ہی اُن کے حقوق پر کوئی کام ہو رہا ہے۔
ابصار کہتے ہیں کہ میں نے ان نوجوانوں کو ”اخلاقی طور پر بہترین” اس لیے کہا کہ اپنے ارد گرد دولت کی اتنی غیر مُناسب تقسیم دیکھ کر اور انتہائی غیر مُنصفانہ نظام میں رہتے ہوئے بھی وہ جرائم پیشہ نہیں بنے اور رزق حلال کے لیے اتنا مُشکل کام انتہائی کم تنخواہ پر کرتے ہیں۔
ابصار کہتے ہیں کہ میں چُپ اس لیے ہوں کہ جب موٹروے پر سفر کرتا ہوں تو سروس ایریا کے ہر کونے کھُدرے میں ایک مڈل ایج شخص پانی کی بالٹی اور وائپر کے ساتھ آپ کی گاڑی کی ونڈ سکرین صاف کرنا شروع کر دے گا، اس اُمید پر کہ ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود شاید اُسے بیس روپے کی بخشش عنایت ہو جائے اور وہ دن بھر کی بے عزتی اور مُشقت کے بعد شام کو اپنے بچوں کی دال روٹی کا بندوبست کر سکے۔
ابصار عالم سوال کرتے ہیں کہ کیا اس ظُلم اور غیر مُنصفانہ نظام کے لیے بنایا گیا تھا پاکستان جہاں امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہوتا جائے؟ چُپ اس لیے ہوں کہ کیا ججوں، جرنیلوں، جرنلسٹس اور الیکٹیبل سیاستدانوں نے یہ سب ڈرامے کئی بار نہ صرف دیکھے ہوئے ہیں بلکہ اُن کے سینئرز ان استحصالی ڈراموں کے اہم کردار رہ چُکے ہیں، ماضی کے اُن مفاداتی ڈراموں کا جتنا نقصان مُلک کو ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھُپا نہیں،
لیکن گھسی پٹی کہانی پر مُشتمل وہی پُرانے ڈرامے نئی کاسٹ کے ساتھ چلائے جا رہے ہیں تا کہ نئی نسل جس کو تاریخ کا ادراک نہیں اُسے مزید تقسیم اور گُمراہ کر دیا جائے۔ اپنے ہی مُلک کی جوان نسل کو مُنقسم اور گُمراہی میں رکھنا اس لیے ضروری ہے تا کہ اس مُلک کے استحصالی حُکمران گروہ کو سستی لیبر اپنے ذاتی اور محکمانہ کاموں کے لیے ہمیشہ مُیسر رہے۔ آپ کسی جج، جرنیل، اینکر یا الیکٹیبل سیاستدان کے بچے کو نہ تو موٹر سائیکل پر فوڈ ڈیلیوری کے منافع بخش کاروبار میں مصروف دیکھیں گے، نہ بائیکیا چلانے کا ایڈونچر کرتے ہوئے، نہ ہی سیکورٹی گارڈ اور نہ ہی موٹروے اور ٹریفک سگنل پر کسی جج، جرنیل، اینکر یا الیکٹیبل سیاستدان کا بچہ وائپر سے گاڑیوں کے شیشے صاف کر رہا ہو گا۔
لیکن اس استحصالی حکمران گروہ کے اپنے بچے پرائیویٹ سکولوں میں پرائیویٹ گارڈ کے ساتھ پرائیویٹ ہسپتالوں سے علاج کروا کر امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں تعلیم پانے کے بعد جوانیاں وہاں گُزارتے ہیں، پھر پُر باش اُدھیڑ عُمری میں “وطن کی مُحبت” میں واپس آکر یہاں حُکمرانی شُروع کردیتے ہیں اور ہمیں مغربی مُعاشرے کے انصاف، ترقی اور امن کی کہانیاں سُناتے سُناتے یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ہم میں کون کونسی ذہنی، جسمانی اور موسمی کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے انصاف، برابری، امن، معاشی خوشحالی اور جمہوریت کا نظام یہاں چل ہی نہیں سکتا۔
ابصار عالم کہتے ہیں کہ کسی بھی جدید معاشرے اور قوم کی ترقی، اور معاشرتی توازن کے لیے سب سے اہم کردار جج اور صحافی کا ہوتا ہے کیونکہ ان کا کام سچ اور جھُوٹ میں سے سچ کا ساتھ دینا ہوتا ہے۔ یہ ”نیوٹرل” ہو ہی نہیں سکتے۔ دُنیا کا کوئی بھی مُعاشرہ جرنیل اور سیاستدان سے اُن اعلی اخلاقی اقدار کا مُطالبہ کبھی بھی نہیں کرتا جس معیار کا مُطالبہ جج اور جرنلسٹ سے کیا جاتا ہے۔
لیکن ہمارے ہاں اس کے برعکس ہے۔ یہاں سیاستدان سے فرشتگی کا مُطالبہ کرتے کرتے اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دینے والے جج، جرنیل اور جرنلسٹ کے سات خُون بھی مُعاف ہوتے ہیں۔ ججز، جرنیل، جرنلسٹس اور الیکٹیبل سیاستدانوں کا اُسی جوش و جذبے سے پُرانی فلم دوبارہ دیکھنے اور کمینٹری سُنانے کا شوق سر آنکھوں پر لیکن یہ ایسی چربہ فلم ہے جس کا ” دی اینڈ” سب کو معلوم ہے۔
آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا
وہ کہتے ہیں کہ اس فلم کے اینڈ بارے اگر کوئی شک تھا تو 23 مارچ کی پریڈ ختم ہونے کے فوراً بعد آرمی چیف کے “عوام میں گھُل مل جانے” اور “کھُلی ڈُھلی گُفتگو” کا سین ڈالنے سے دُور ہو گیا۔پے در پے اندرونی اور بیرونی ناکامیاں اُٹھانے کے بعد بھی اگر کُچھ لوگوں میں خلق خُدا کی آواز اور رائے کا ٹھٹھا اُڑانے کی ہٹ دھرمی ابھی زندہ ہے تو سوچتا ہوں کہ ”کیا ہم سب خود کو دھوکہ دے رہےہیں؟ “
اپنی تحریر ختم کرتے ہوئے ابصار عالم کہتے ہیں کہ میڈیا والوں کو انسان بننے کا درس دینے والے کبھی اپنے کارناموں اور رویوں کی الماری کھولنے کی جُرآت کریں تو اتنے گڑے مُردے نکلیں گے کہ انسان اور جانور کی تفریق کرنا مُشکل ہو جائے گا۔ لہٰذا چربہ فلم پر لُڈیاں ڈالنے کو دل نہیں چاہ رہا، اس فلم کا ”دی اینڈ “ کچھ اور ہُوا تو دیکھیں گے۔ اس لیے چُپ ہوں اور ”دی اینڈ “ کا انتظار کر رہا ہوں۔
Absar Alam termed the movie on political screen as a replica ] video
