ایبسولیوٹلی ناٹ والے کپتان کی امریکہ سے ہی رہائی کی فریاد

معروف صحافی نصرت جاوید نے کہا ہے کہ امریکہ میں مقیم عاشقان عمران خان کی جانب سے نیویارک ٹائمز میں پورے صفحے کا اشتہار دیتے ہوئے اسی امریکہ سے خان کی رہائی کی اپیل کی گئی ہے جس کے خلاف موصوف نے ایبسولیوٹلی ناٹ کا نعرہ لگا کر پنجہ آزمائی کا اعلان کیا تھا۔ لہذا رہائی کی اس فریاد کو کم از کم شرمناک تو کہا ہی جا سکتا ہے۔
نصرت جاوید اپنے تجزیے میں بتاتے ہیں کہ 2 اگست 2025 کو نیویارک ٹائمز میں ایک فل پیج اشتہار کے ذریعے صدر ٹرمپ کو ایک جمہوریت نواز اور انسانی حقوق کا علمبردا قرار دیتے ہوئے فریاد کی گئی ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی میں اپنا کردار ادا کریں۔ فریاد کی تفصیلات پڑھ کر گماں ہوتا ہے کہ بانی تحریک انصاف مشہور افریقی حریت پسند نیلسن مینڈیلا جیسی قید کاٹ رہے ہیں حالانکہ مرحوم نے دوران قید کبھی دیسی مرغی نہیں چھکی تھی کیونکہ انہیں یہ سہولت میسر ہی نہیں تھی۔ سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ پاکستان سابق وزرائے اعظم کے ساتھ ہمیشہ بے رحمی کا سلوک ہی کرتا رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو تو پھانسی پر لٹکادئے گئے تھے۔ نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کو بھی اقتدار کھونے کے بعد ذلت بھری اسیری سے گزرنا پڑا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو دن دیہاڑے قتل کردی گئیں۔
لیکن اقتدار سے محرومی کے دنوں میں ذلت ورسوائی بھگتنے کے بعد دوبارہ حکومت حاصل کرنے والے سیاستدانوں نے ایسی قانون سازی سے ہمیشہ گریز کیا جو سیاسی قیدیوں کا وقار یقینی بنائے۔ عمران خان ’’باریاں لینے والے چور اور لٹیروں‘‘ کے متبادل کے طورپر سیاست میں آ کر وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔ غالباََ اسی باعث اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں ضرورت سے زیادہ سخت گیر ہوگئے۔ 1990ء کی دہائی میں طویل جدوجہد کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر کو یہ اختیار دلوایا گیا تھا کہ وہ اگر جیل میں بند کسی رکن کی ایوان میں موجودگی کا حکم صادر کرے تو اس حکم کی ہر صورت تعمیل ہوگی۔ لیکن عمران خان کے لگائے سپیکر اسد قیصر نے اس اختیار کو اپنے کپتان کی خوشنودی کی خاطر کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ جس ملک میں 2 اگست والا اشتہار چھپا ہے وہاں صدر ٹرمپ سے ملنے عمران خان بطور وزیر اعظم جولائی 2019ء میں گئے تھے۔ وائٹ ہائوس جانے سے قبل انہوں نے اپنے عاشقان کے ایک بڑے ہجوم سے واشنگٹن میں خطاب کیا اور تالیوں کی گونج میں یہ وعدہ کیا کہ وطن لوٹتے ہی وہ جیل میں بند سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ٹھنڈے ایئر کنڈیشنڈ کی سہولت بھی واپس لے لیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے وطن لوٹنے کے چند ہی روز بعد نواز شریف کو ’’خرابی صحت‘‘ کے نام پر لندن منتقل کرنا پڑا۔
نصرت کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ نیویارک ٹائمز میں عمران کو امریکی اثاثہ قرار دینے کا والق جو اشتہار چھپا ہے اس کے لئے کتنے لاکھ ڈالرز خرچ ہوئے ہوں گے۔ اسکے علاوہ یہ بھاری بھر کم رقم ادا کرنے والوں کا سراغ لگانے کی کوشش ہورہی ہے۔امریکہ بارے مشہور ہے کہ وہاں کوئی ’’فری لنچ‘‘ نہیں ہوتا اور نیویارک ٹائمز کوئی خیراتی ادارہ نہیں بلکہ ایک طاقتور ترین ’’کمرشل‘‘ اخبار ہے جو ایک ایک لفظ کی قیمت وصول کرتا ہے۔ ایسے میں عمران کے نادان دوستوں سے پوچھنا یہ ہے کہ امریکہ میں اتنے برس گزارنے کے باوجود وہ اس حقیقت کے بارے میں کیوں بے خبر ہیں کہ صدر ٹرمپ نیویارک ٹائمز کو لیفٹ/لبرل خیالات کاحامل سمجھتا ہے اور اسے ’’فیک نیوز‘‘ پھیلانے والوں میں سرفہرست رکھتا ہے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ امریکہ میں مقیم عاشقان عمران کو اگر بھاری بھر کم رقم خرچ کرنے کی توفیق میسر ہے تو تھوڑی محنت کے بعد ٹرمپ کے پسندیدہ چینل ’’فاکس‘‘ پر عمران کے بیٹوں کا انٹرویو بھی کروایا جاسکتا تھا۔ لیکن خان کے عاشقان فرطِ جذبات میں یہ حقیقت بھی بھول گئے کہ جس شخصیت کو وہ عمران پر ظلم وستم کا تنہا ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں اسے ٹرمپ ہی نے دو ماہ قبل وائٹ ہائوس میں دوپہر کے کھانے پر بلایا تھا۔ یہ ملاقات طے شدہ وقت سے کہیں آگے تک چلی جسکے نتیجے میں مختلف شعبوں میں پاک-امریکہ تعلقات کو گہرا اور مضبوط تر بنانے کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ اب حالات یہ ہیں کہ امریکہ اور پاکستان کے وفود اور اہم سیاسی رہ نما تقریباََ ہر روز ایک دوسرے کے ملک پہنچے ہوتے ہیں۔
عمران خان کے نادان دوستوں کو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کی بدولت برطرفی کے بعد ان کے ممدوح پاکستان کے تقریباََ ہر شہر گئے تھے۔ عوام کے بھاری اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستانیوں کو کہانی سنائی کہ امریکہ انہیں سازش سے وزیر اعظم کے منصب سے ہٹانے کا ذمہ دار ہے۔ واشنگٹن کو ان کی یہ ادا پسند نہیں آئی۔ لیکن ایبسلوٹلی ناٹ کا نعرہ دینے والے عمران امریکی جذبات کو جوتے کی نوک پر رکھ کر روسی صدر پوٹن سے ملنے چلے گئے۔ اس ملاقات کے بعد امریکہ میں مقیم پاکستانی سفیر کے حوالے سے کپتان نے یہ دعوی کیا کہ انہیں تڑیاں لگائی گئیں۔ ان تڑیوں کا ذکر عمران خان نے اسلام آباد بھیجے سائفر کے ذریعے ’’ریکارڈ‘‘ کا حصہ بنا دیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیدی
لیکن نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میں نے ’’سائفر کہانی‘‘ پر ایک لمحے کو بھی اعتبار نہیں کیا حالانکہ پاکستانیوں کی بھاری تعداد اسے سچ سمجھتی رہی۔ انکا کہنا ہے کہ قوم یوتھ ایسا کرتے ہوئے اس گماں میں مبتلا ہو گئی تھی کہ پاکستان کو بالآخر اقبال کا وہ ’’شہباز‘‘ مل گیا ہے جو پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرتے ہوئے دنیا کی واحد سپرطاقت سے پنجہ آزمائی کرنا چاہتا ہے۔ لہذا جس امریکہ سے پنجہ آزمائی کی توقع تھی اسی کے صدر سے عمران خان کی رہائی کی فریاد کو کم از کم شرمناک تو کہا ہی جا سکتا ہے۔
