عمران خان بالکل ٹھیک ہیں،سپرنٹنڈنٹ نے تصدیق کردی ،طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ سے بات ہوئی ہے، اور عمران خان کی حالت بالکل ٹھیک ہے، انہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔
عمران خان سے ملاقات نہ کروانے کے معاملے پر تحریکِ انصاف کے اراکین نے سینیٹ میں احتجاج کیا، جس دوران حکومتی ارکان کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی۔ پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔
پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے عمران خان سے متعلق سوال کیا مگر کوئی جواب نہیں ملا، عوام کی بے چینی میں بہت اضافہ ہو رہا ہے۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر غلط اور بے بنیاد خبریں پھیلائی جا رہی تھیں، یہ خبریں پاکستان سے باہر سے پھیلائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے بارے میں اٹھائے گئے تمام دعوے بھارتی میڈیا نے اچھالے، لیکن سپرنٹنڈنٹ سے بات کرنے کے بعد واضح ہے کہ عمران خان محفوظ ہیں اور ان کی صحت بھی ٹھیک ہے۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتیں روک دی گئی ہیں، ہمیں بتایا جائے کہ گزشتہ تین ہفتوں میں کون ان سے ملا ہے؟ اگر ملاقات نہ کرائی گئی تو ہم ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دیں گے۔
اس موقع پر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آپ ایوان کو نہ چلنے دینے کی دھمکی نہیں دے سکتے۔
بعد ازاں کورم کی نشاندہی پر اجلاس 30 منٹ کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
وقفے کے بعد جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو پی ٹی آئی ارکان نے دوبارہ احتجاج کیا اور ایوان میں ’عمران سے ملاقات کراؤ‘ کے نعرے لگائے۔
