فیض حمید کے بعد عمران اور ثاقب نثار کا احتساب کیوں لازمی ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ جب تک فیض حمید کی عبرتناک کہانی کے تمام کردار اپنے اپنے انجام کو نہ پہنچیں تب تک کہانی ختم نہیں ہوتی۔ انکا کہنا ہے کہ فیض حمید کے معاون کرداروں میں عمران خان اور جسٹس ثاقب نثار کے نام نمایاں تھے لہذا جب تک ان لوگوں کو فیض سے بھی ذیادہ سخت سزا نہیں ملتی، تب تک پاکستان اور اسکی افواج کے خلاف سازشوں کا بازار کبھی بند نہیں ہو گا۔
اپنے تازہ تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ بہت سے تجزیہ کار اور سیاسی پنڈت چند دن پہلے تک پرائیویٹ محفلوں میں بڑے یقین سے یہ بات کر رہے تھے کہ فیض حمید کے ٹرائل کا نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔ یہ مقدمہ نہیں چل رہا، صرف کارروائی ہو رہی ہے۔ کیس میں طوالت اور فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے لوگوں کے شکوک تقویت پکڑنے لگے لیکن پھر پندرہ ماہ کی طویل قانونی جنگ کے بعد اچانک فیصلہ آ گیا۔ فیصلے میں بتایا گیا کہ کوئی قانونی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا گیا۔ سب قانونی معاملات پورے ہوئے۔ فیض حمید کو حسب خواہش ہر ممکن قانونی معاونت فراہم کی گئی۔ جو وکلا درکار تھے وہ دیے گئے۔ جن گواہان سے گواہی کی خواہش کی گئی ان سے رابطہ کروایا گیا۔ ہر ثبوت کو پوری طرح چھان پھٹک کر دیکھنے کے بعد فیصلہ آیا۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ فیض حمید کیس کا فیصلہ بھی ایسا آیا جس کا کم از کم ہمارے سماج میں تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ پندرہ ماہ بعد ماضی کے طاقتور ترین ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کو سزا ہوئی اور وہ بھی چودہ سال قید بامشقت۔ فیض حمید کوئی عام شخص نہیں تھا ایک جنرل تھا، سابق ڈی جی آئی ایس آئی تھا۔ انتہائی طاقتور عسکری کردار تھا۔ اس قدر طاقتور تھا کہ جب چاہتا سیاسی جماعتوں کے خلاف دھرنے کرواتا، جب چاہتا لانگ مارچ منعقد ہوتا، جب چاہتا مذہبی تشدد پسند جماعتوں کے جنونیوں کو سڑکوں پر لے آتا، جب چاہتا ان کو ہزار ہزار کے نوٹ دے کر پرامن طریقے سے گھر روانہ کر دیتا۔ عدالتوں کے فیصلے اس کی منظوری سے آتے۔ اس کی دو سال کی محنت کبھی ضائع نہ ہوتی۔
عمار مسعود بتاتے ہیں کہ عمران خان دور میں ججوں کے تبادلے اور تقرریاں فیض کی پسند سے ہوتے۔ ایوان میں نمائندگان اس کی ایما سے پہنچتے۔ کورم اس کی منشا سے پورا ہوتا۔ قانون اس کی مدد سے بنتا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو کام کرنے کی اجازت اس کے اشارہ ابرو سے ملتی۔ میڈیا اس کی مرضی سے کام کرتا۔ چینل بند یا کھلتے اس کے حکم سے۔ اینکروں کو کروڑوں کی نوکریاں اس کے فون سے ملتیں۔ سوشل میڈیا اس کی اجازت سے عزت داروں کی بہن بیٹیوں پر گالیاں نچھاور کرتا۔ حتیٰ کہ نو مئی کے ڈانڈے بھی اس کی ذات سے جڑے ملے۔
سینیر صحافی کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں اتنے طاقتور شخص کے احتساب کی روایت نہیں۔ ہمارا انصاف صرف غریب کی گردن پر وار کرتا ہے۔ عاقلینِ ملت کہتے تھے کہ اس سماج میں ایک بھی طاقتور کا احتساب ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے، سارے سماج میں تبدیلی آ جائے، معاشرہ بدل جائے، سوچ تبدیل ہو جائے۔ مبارک سلامت، قوم کو وہ موقع نصیب ہو چکا ہے۔ اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو چودہ سال قید بامشقت سرعام سنائی جا چکی ہے۔ حیرت کی بات یہ نہیں کہ ہر چینل پر اس خبر پر بے لاگ تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ لوگ گن گن کر فیض حمید کے یہ کارنامے سر عام گنوا رہے ہیں۔ فیض حمید کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹیں بن رہی ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کوئی انہیں روک نہیں رہا۔ نہ تادیب کے لیے کوئی نادیدہ فون آ رہا ہے نہ کسی چینل کی سرزنش کی جا رہی ہے۔ ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی جس نے ملک کے خلاف، اپنے ادارے کے خلاف جرائم کیے اس کا برسرِعام میڈیا ٹرائل بھی ہو رہا ہے۔
عمار مسعود کے بقول سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا فیض کے احتساب سے انصاف کا عمل پورا ہو گیا؟ ترازو کے دونوں پلڑے برابر ہو گئے؟ جمہوریت کے خلاف رچائی گئی بہیمانہ سازش کا پردہ چاک ہو گیا؟ کیا سب مجرمان انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہو گئے؟ کیا سب کا میڈیا ٹرائل ہو گیا؟ کیا سب کے اثاثے ضبط ہو گئے؟ کیا سب کو سزائیں سنا دی گئیں؟ کیا نواز شریف کے خلاف رچائی سازش کے سب کردار بے نقاب ہو گئے؟ انکا کہنا ہے کہ سچ ادھورا ہو تو جھوٹ کہلاتا ہے۔ انصاف یکطرفہ ہو تو وہ انصاف قرار نہیں پاتا۔ ایک شخص چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اس کو سب الزامات نہیں دیے جا سکتے۔
عمار مسعود کا کہنا ہے کہ فیض کی عبرتناک کہانی کے سب کردار اپنے اپنے انجام کو نہ پہنچیں تو کہانی ختم نہیں ہوتی۔ فیض حمید کے معاون بہت سے کردار تھے جنہوں نے اس سازش میں نفرت کا رنگ بھرا۔ بے شمار شواہد یہ ثابت کر چکے ہیں کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی سازش کا سرغنہ عمران خان تھا۔ شہداء کی یادگاروں کو نذرِ آتش کرنے کا مجرم عمران خان تھا۔ دفاعی تنصیبات پر حملوں کا منصوبہ ساز عمران خان تھا۔ پاکستانی پاسپورٹ کو جلانے والی، سبز پرچم کو پاؤں تلے روندنے والی ’خان نہیں تو پاکستان نہیں‘ والی مہم کا خالق عمران خان تھا۔ فیض حمید کے بعد اگر عمران کو اس سے بھی سخت سزا نہیں ملتی تو ملک اور افواج کے خلاف سازشوں کا یہ بازار کبھی بند نہیں ہوگا۔
وہ میڈیا جو جنرل فیض حمید کی فرمائش پر سجایا گیا، وہ اینکر جو اس کے فون سے تعینات ہوئے، وہ تجزیہ کار جنہیں کروڑوں کی نوکریاں جھوٹ بولنے کے لیے عطا کی گئیں، وہ چینل جن کی لانچنگ کا مقصد جمہوریت کو ڈی ریل کرنا تھا، وہ میڈیا کے ’گھس بیٹھیے‘ جو آج بھی چینلوں پر بیٹھے عشقِ عمران میں ڈوبے رہتے ہیں اور عمران خان مخالف بیانیہ بنانے نہیں دیتے۔ اگر ان کو سزائیں نہیں ہوئیں تو یہاں کبھی انصاف نہیں ہوگا۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹس جنھیں سرکاری پیسوں سے عمران خان کے ہر مخالف کو گالی دینے پر مامور کیا گیا، جنہوں نے نہ کسی سیاست دان کی عزت قائم رہنے دی نہ کسی صحافی کی دستار سلامت رہنے دی۔ وہ نفرت انگیز سوشل میڈیا جس نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے لوگوں کی بہنوں بیٹیوں کی تصاویر لگا کر بہتان لگائے، نفرت پھیلائی، انتشار پھیلایا۔ اگر ان قابل نفرین لوگوں کا اس موقع پر احتساب نہ ہوا تو انصاف کبھی نہیں ہوگا۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم کیسے ذکر بھول سکتے ہیں ججوں کی اس قطار کا جن کا ذکر جاوید ہاشمی نے 2014 کے دھرنے میں کر کے، دھرنے کا سارا مزا کرارا کر دیا تھا۔ سب جانتے ہیں کہ ثاقب نثار سے بندیال تک ججوں نے انصاف کے ساتھ تحریک انصاف کی باندی سا سلوک کیا۔ ثاقب نثار رعونت کی اس بلندی پر تھا کہ وہ خود کہتا تھا کہ پانچ چھ ایم پی اے تو میں ویسے ہی فارغ کروا دوں گا۔ وہ بد بخت سابق چیف جسٹس اپنے عہدے پر ہوتے ہوئے تحریک انصاف کے امیدواروں کی انتخابی مہم چلاتا تھا۔ پانامہ کا ڈرامہ ان ججوں کے تعاون سے رچایا گیا۔ قانون کی کتاب کے بجائے ڈراموں کے ڈائیلاگ فیصلوں میں لکھے گئے۔ انصاف کے ان مجرموں نے قانون کی حرمت کو خاک میں ملا دیا۔ ایک ترقی کرتے، ہنستے بستے ملک کو اپنے مفادات کی نذر کر دیا۔ اس موقع پر اگر ان ججز کو نشانِ عبرت نہ بنایا گیا تو انصاف کی خواہش ہمیشہ تشنہ رہے گی۔
فیض حمید سے پہلے کون سے فوجی افسران کورٹ مارشل ہوئے؟
عمار مسعود کہتے ہیں کہ فیض حمید تو اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ جو کیا تھا اس نے بھگت لیا۔ اب اگر ثاقب نثار جیسے ججوں کے ناپاک وجود کے گرد انصاف کا دائرہ تنگ نہیں ہوتا تو یہ ملک کبھی ٹھیک نہیں ہوگا، یہاں کبھی جمہوریت نہیں آئے گی، یہاں کبھی انصاف نہیں ہوگا۔ جمہوریت پسند لوگو! یاد رکھو جہاں فیض حمید کے فیصلے پر خوشی منانی چاہیے، وہاں یک زبان ہو کر’ اگلی بار۔ ثاقب نثار‘ کا نعرہ ضرور لگانا چاہیے۔ یہ اس ملک کی ترقی، سالمیت، استحکام، جمہوریت کی بقا اور درِ انصاف کی عظمت کے لیے ضروری ہے کہ فیض حمید کے بعد ان نجس کرداروں کو بھی انجام تک پہنچایا جائے۔
