گنڈاپور کے خلاف ایکشن سے PTI  میں مزید دراڑیں پڑنے کا امکان

 

 

 

تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی تعریف اور پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرنے کے جرم میں علی امین گنڈاپور کے خلاف انضباطی کارروائی کا اعلان تو کر دیا ہے، تاہم پارٹی کے اندرونی حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا قدم پارٹی میں موجود دراڑوں کو مزید گہرا کر دے گا۔ انکے مطابق بظاہر نظم و ضبط قائم کرنے کی اس کوشش سے پی ٹی آئی میں داخلی تقسیم مزید نمایاں ہونے کا خدشہ ہے، جس سے خان کی جماعت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔

 

پارٹی ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی کو سراہنا اور پی ٹی آئی قیادت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھانا ناقابل معافی ہے۔ انکے مطابق گنڈاپور نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور ہمشیرہ علیمہ خان سے متعلق بھی ایسے بیانات دیے جو کہ غیر مناسب تھے اور پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے گنڈاپور کے انٹرویوز اور تقاریر کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گنڈاپور کے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو اور دیگر بیانات کی چھان بین کے بعد ان کے خلاف انضباطی کارروائی کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ بانی چیئرمین کے اہل خانہ سے متعلق کسی بھی قسم کا بیان برداشت نہیں کیا جائے گا، جبکہ سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عندیہ دیا کہ گنڈاپور کے خلاف پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر جلد ایکشن لیا جائے گا۔

 

یاد رہے کہ علی مین گنڈاپور نے سما ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے جتنی کوششیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی ہیں اتنی کوشش ان کی اپنی پارٹی قیادت نے بھی نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ محسن نقوی نے تو آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی عمران خان کو ریلیف دینے کی بات کی اور یہ کام محسن نقوی کے علاوہ اور کوئی نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب میری وزارت اعلی سے فراغت کے بعد سے عمران خان کی رہائی کی تحریک چلانا تو دور کی بات، اب تو ان سے ملاقات کرنا بھی ممکن نہیں رہا اور اس صورتحال کی ذمہ دار صرف اور صرف جیل سے باہر موجود پارٹی قیادت ہے۔

 

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ پارٹی کے اندر اختیار اور بیانیے کی جنگ کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف وہ دھڑا ہے جو مزاحمتی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب کچھ رہنما مفاہمتی انداز اپنانے کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔ گنڈاپور کی جانب سے محسن نقوی کی تعریف کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جسے پارٹی کے سخت گیر حلقوں نے اصولی موقف سے انحراف قرار دیا۔ علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلیٰ سے ہٹائے جانے کا پس منظر بھی اسی داخلی کشمکش سے جڑا بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں پارٹی لائن سے انحراف، متنازع بیانات اور بعض انتظامی فیصلوں پر اختلافات کے باعث عہدے سے الگ کیا گیا۔ ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ خیبر پختونخوا میں پارٹی تنظیم کو متحد رکھنے میں ناکام رہے اور انہوں نے ذاتی بیانیے کو پارٹی پالیسی پر فوقیت دی۔

 

اسی وجہ سے گنڈاپور کو ہٹا کر ان کی جگہ جگہ سہیل آفریدی کو وزارت اعلیٰ سونپی گئی، تاہم اس تبدیلی کے اثرات صوبائی سیاست پر مثبت کی بجائے منفی طور پر سامنے آئے۔ پارٹی کے اندر ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ قیادت کی بار بار تبدیلی سے نہ صرف حکومتی کارکردگی متاثر ہوئی بلکہ کارکنوں میں بھی بے چینی پیدا ہوئی۔

 

خیبر پختونخوا، جو تحریک انصاف کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا، وہاں تنظیمی کمزوری کی شکایات سامنے آنے لگیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کے آنے کے بعد صوبائی حکومت نے نسبتاً محتاط طرز سیاست اختیار کیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کی رہائی کے مطالبے کی شدت میں کمی محسوس کی گئی۔ جہاں پہلے صوبائی حکومت کھل کر وفاقی حکومت پر تنقید کرتی اور احتجاجی بیانیے کو تقویت دیتی تھی، وہیں اب بیانات میں نرمی دیکھی جا رہی ہے۔ ناقدین کے نزدیک اس تبدیلی نے پارٹی کے بنیادی بیانیے کو دھندلا دیا ہے۔

 

چنانچہ پی ٹی آئی کے اندر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ گنڈاپور کے خلاف کارروائی سے پارٹی کے اندر ایک اور گروپ بندی جنم لے سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں گنڈاپور کے حامی ارکانِ اسمبلی اور کارکن اس فیصلے کو سیاسی انتقام یا اندرونی طاقت کی کشمکش کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ اگر یہ اختلافات کھل کر سامنے آتے ہیں تو پارٹی کی پارلیمانی اور تنظیمی یکجہتی متاثر ہو سکتی ہے۔

عمران خان کی صحت پر پی ٹی آئی کا مؤقف سیاسی ہے : رانا ثنا اللہ

دوسری جانب پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ نظم و ضبط کے بغیر کوئی سیاسی جماعت نہیں چل سکتی۔ ان کے مطابق ذاتی آراء اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے پارٹی کی ساکھ متاثر ہوتی ہے، اس لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ایسے اقدامات پارٹی کو مضبوط کریں گے یا مزید تقسیم کا سبب بنیں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اس وقت قیادت کے بحران، بیانیے کی کشمکش اور تنظیمی چیلنجز سے بیک وقت دوچار ہے۔ علی امین گنڈاپور کے خلاف انضباطی کارروائی وقتی طور پر نظم و ضبط کا پیغام تو دے سکتی ہے، لیکن اگر اندرونی اختلافات کو سیاسی بصیرت سے حل نہ کیا گیا تو یہ قدم جماعت میں مزید دراڑیں ڈال سکتا ہے۔ ایسے میں عمران خان کی جماعت کے لیے سب سے بڑا چیلنج داخلی اتحاد برقرار رکھنا اور اپنے بنیادی بیانیے کو واضح رکھنا ہے، بصورت دیگر سیاسی کمزوری میں اضافہ ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔

 

Back to top button