فلور کراسنگ پر کارروائی ہوسکتی ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ فلور کراسنگ پر کارروائی ہوسکتی ہے. میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ فلور کراسنگ ہوتی ہے تو اسپیکر قومی اسمبلی کے ڈیکلریشن پر کارروائی ہو سکتی ہے. بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے فلور کراسنگ یا پھر پارٹی کی پالیسی کیخلاف ووٹ ڈالنے والے اراکین کے بارے میں اعلامیہ موصول ہونے کے بعد ہی فیصلہ کرنے کا مجاز ہے.
الیکشن کمیشن نے تحریک عدم اعتماد، فلور کراسنگ اور ہارس ٹریڈنگ پر کارروائی کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ آئین کے حوالے الیکشن کمیشن کا وزیر اعظم کے انتخاب اور تحریک عدم اعتماد سے کوئی تعلق نہیں ہے. بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم کا انتخاب اور تحریک عدم اعتماد نیشنل اسمبلی کے قوانین کے تحت ہوتا ہے۔ ای سی پی کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف فورم پر اعلیٰ حکومتی عہدیداران کی جانب سے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور اس سے متعلقہ اراکین پارلیمان کی مبینہ فلور کراسنگ کے سلسلے میں الیکشن کمیشن نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا.
قومی حکومت کی بات کرنے والوں کی ایسی کی تیسی
ای سی پی کے وضاحتی بیان کے مطابق یہ تمام بیانات قومی میڈیا پر نشر کیے گئے ہیں اس لیے الیکشن کمیشن کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داری واضح کرے۔ اس حوالے سے ای سی پی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے انتخاب اور تحریک عدم اعتماد میں اسپیکر قومی اسمبلی بطور پریزائڈنگ افسر کے کام کرتے ہیں. الیکشن کمیشن کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ سے متعلق الیکشن کمیشن کے خلاف بیانات بے بنیاد ہیں۔
