اداکار اور استاد، ڈراما سیریل وارث کا ’مولاداد‘: شجاعت ہاشمی

 

 

 

کلاسک ڈراما سیریل ’’وارث‘‘ میں اپنے لازوال کردار مولاداد کے ذریعے ناظرین کے دلوں میں گھر کرنے والے سینئر اداکار شجاعت ہاشمی کی وفات سے پاکستانی ٹیلی وژن کے اس سنہری دور کی ایک اور اہم آواز ہمشہ کیلئے خاموش ہو گئی۔ کئی دہائیوں تک معیاری ڈراموں کے ذریعے ناظرین کو متاثر کرنے والے شجاعت ہاشمی نہ صرف اپنی منفرد اداکاری بلکہ کردار کی گہرائی کو حقیقت کے قریب پیش کرنے کی صلاحیت کے باعث پہچانے جاتے تھے۔ چاہے وہ’’وارث‘‘ میں مولاداد کا کردار ہو یا دیگر ڈراموں اور فلموں میں شاندار پرفارمنس، شجاعت ہاشمی نے ہمیشہ اپنی اداکاری سے کہانی کو ایک نئی جہت دی۔ اپنی انھی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے وہ موت کے بعد بی اپنے مداحوں کے دلوں میں ایک حسین یاد بن کر آج بھی زندہ ہیں۔

خیال رہے کہ 1979 سے 1980 کے دوران پاکستان ٹیلی وژن پر نشر ہونے والا امجد اسلام امجد مرحوم کا تحریر کردہ کلاسک ڈراما سیریل ’وارث‘ پاکستانی شوبز انڈسٹری کی تاریخ کے اہم ترین ڈراموں میں شمار ہوتا ہے۔ ’وارث‘ میں متعدد یادگار کردار پیش کیے گئے تھے، جن میں سے ایک نمایاں کردار ’مولاداد‘ کا تھا، جسے سینیئر اداکار شجاعت ہاشمی نے نہ صرف ادا کیا بلکہ امر کردیا۔

 

شجاعت ہاشمی کا کردار مولاداد کہانی کے اہم اور پیچیدہ کرداروں میں سے ایک تھا۔یہ کردار بظاہر سادہ مگر اندر سے چالاک اور رازدار شخصیت کا حامل ہے۔ کہانی میں مولاداد کی موجودگی کئی واقعات کو نئی سمت دیتی ہے، اس کی زندگی کے راز اور ماضی کے تنازعات آہستہ آہستہ سامنے آتے ہیں۔ اس کے تعلقات، شادی اور دشمنیوں کی کہانیاں ڈرامے میں کشمکش اور سسپنس پیدا کرتی ہیں۔ مولاداد کا تعلق دلاور کے کردار سے بھی ایک دلچسپ زاویہ فراہم کرتا ہے، جہاں بدلہ لینے والے دلاور اور مولاداد کے درمیان تناؤ کہانی کو مزید پرکشش بناتا ہے۔ شجاعت ہاشمی نے مولاداد کے کردار کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا، جس میں چہرے کے تاثرات، دیہی ماحول کے مطابق باڈی لینگویج اور خاموش مناظر میں کردار کی شدت شامل تھی۔ ان کی مہارت کی بدولت یہ کردار آج بھی پاکستانی ڈراما تاریخ کے یادگار کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔ شجاعت ہاشمی کی اسی اداکاری نے انہیں پاکستان ٹیلی وژن کے نمایاں اداکاروں کی صف میں لا کھڑا کیا جس کے بعد 1994 میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

 

وارث کے علاوہ شجاعت ہاشمی نے متعدد ڈراموں اور فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے، جن میں ’’زرد دوپہر‘‘، ’’جھلہ‘‘، ’’نقاب‘‘، ’’رات کا پچھلا پہر‘‘، ’’رانی اور رضیہ‘‘، ’’کرچیاں‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے 20 سے زائد فلموں میں بھی شاندار پرفارمنسز دی، جن میں ’’خاک اور خون‘‘، ’’لاجواب‘‘، ’’سوہرا تے جوائی‘‘، ’’نوکر تے مالک‘‘، ’’چاچا تے بھتیجا‘‘، ’’دوستانہ‘‘، ’’ووہٹی دا سوال اے‘‘ شامل ہیں۔

 

بہت کم لوگ جانتے ہیں ڈرامہ اور فلم انڈسٹری میں اپنے منفرد لہجے اور شخصیت کی وجہ سے اپنی الگ شناخت بنانے والے شجاعت ہاشمی اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی تھے، شجاعت ہاشمی نے انگریزی ادب میں ایم اے کر رکھا تھا، اپنے فن میں مہارت کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا۔ ساتھی اداکاروں کے مطابق ’’شجاعت ہاشمی ایک پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے انسان تھے، جن کے چہرے پر تاثرات کا اندازہ لگانا عام زندگی میں بھی مشکل تھا۔ انہوں نے نہ صرف وارث بلکہ ریڈیو، ٹی وی اور فلم انڈسٹری میں اپنا الگ مقام بنایا۔ ان کی وفات سے شوبز میں پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں ہو سکے گا۔‘‘ تاہم شجاعت ہاشمی کی وفات کے باوجود ان کے کردار، اداکاری اور فلموں کے ذریعے ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مولاداد جیسے کردار آج بھی پاکستانی ڈراما ناظرین کے دلوں میں امر ہیں، اور ان کی اداکاری نئی نسل کے فنکاروں کے لیے مشعل راہ ہے۔ ان کی خدمات اور فن کی عظیم میراث شوبز کی دنیا میں تادم زیست زندہ رہے گی اور عوام ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ شجاعت ہاشمی، ایک اداکار، ایک استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی امر شخصیت تھے جنھوں نے اپنے فن اداکاری اور فنکارانہ صلاحیتوں سے پاکستانی ڈراما انڈسٹری اور فلمی دنیا کو روشن کیا۔

 

Back to top button