افغان حکام کی پاکستان کیخلاف اشتعال انگیز،حملوں کی دھمکی دیدی

جنگ بندی کے باوجودافغان حکام کی پاکستان کیخلاف اشتعال انگیزی،حملے کی صورت میں پاکستان کے شہروں کونشانہ بنانےکی کھلے الفاظ میں دھمکی دیدی۔
افغانستان میں پولیس اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران پڑھے گئے پاکستان مخالف ترانوں نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ترانوں میں اسلام آباد کو آگ لگانے اور لاہور میں جھنڈے گاڑنے جیسے اشتعال انگیز اشعار شامل تھے۔
تقریب میں پاکستان کے خلاف شدید نفرت انگیز زبان استعمال کی گئی جس نے سفارتی حلقوں میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے وزیر نوراللہ نوری نے 7 نومبر کو سندھ اور پنجاب پر حملوں کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد یہ واقعہ سامنے آیا۔
طالبان انٹیلیجنس سے منسلک ڈیجیٹل میڈیا اکاؤنٹس بھی کئی بار اسلام آباد پر خودکش حملوں کی دھمکیاں دے چکے ہیں، جس سے پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے پاک افغان تعلقات پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے اور دہشت گردی کے خطرات بڑھنے کا امکان ہے۔
نیوز ایجنسی کے مطابق افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سے کوئی حملہ ہوا تو فوری جوابی کارروائی ہوگی، اگر افغانستان پر حملہ ہوا تو اسلام آباد کو براہِ راست نشانہ بنایا جائے گا۔
افغان حکام کے مطابق جوابی حملے کی پالیسی اب افغانستان حکومت واضح کر گئی، نیوز ایجنسی کے مطابق افغان فریق مذاکرات کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔افغان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی وفد نے مذاکرات میں غیر سنجیدہ رویہ دکھایا۔
