افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے : افغان وزیر خارجہ

 

 

 

 

افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو باغی اور مخالف تصور کیا جائے گا۔

کابل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے علما کی جانب سے ایک روز قبل متفقہ طور پر منظور کی گئی ایک پانچ نکاتی قرارداد کی توثیق کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز کابل یونیورسٹی میں افغانستان کے 34 صوبوں سے آئے ایک ہزار سے زائد علما و مشائخ نے ایک قرار داد پاس کی تھی،جس میں موجودہ نظام کی حمایت،ملکی سالمیت کے تحفظ، افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے،افغان شہریوں کی بیرونِ ملک عسکری سرگرمیوں میں شمولیت کی مخالفت اور مسلم امہ کے باہمی اتحاد پر زور شامل تھا۔

اپنے خطاب میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے واضح کیا کہ علماء کے فتوے کے مطابق افغان قیادت کسی شخص کو اپنی سرزمین سے دوسرے ممالک میں مسلح کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور اس ہدایت کی خلاف ورزی کرنےوالے کے خلاف اسلامی امارت کارروائی کی مجاز ہوگی۔

اگرچہ امیر خان متقی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا،تاہم عمومی تاثر یہی ہےکہ ان کا اشارہ پڑوسی ملک پاکستان کی جانب ہے۔

پاکستان کے ساتھ حالیہ تناؤ کا حوالہ دیتےہوئے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ ان واقعات نے ظاہر کیا ہےکہ افغان پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور موجودہ نظام کا تحفظ صرف سیکورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری پر لازم ہے۔اس قرار داد کی روشنی میں اسلامی ممالک کو بہتر باہمی تعلقات کے قیام کےلیے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں اور علماء نے ایک بار پھر مسلمانوں میں اتحاد اور باہمی قبولیت پر زور دیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔پاکستان کا مؤقف ہےکہ افغانستان میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجو سرحد پار کارروائیاں کرتے ہیں،دوحہ اور اس کے بعد استنبول میں مذاکرات کے دوران اگرچہ قطر اور ترکی کی ثالثی سے وقتی امن پر اتفاق ہوا، لیکن سرحدی بندش کے باعث دوطرفہ تجارت تاحال متاثر ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ میں پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان علماء کی قرار داد پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھاکہ اس بیان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا،تاہم اسلام آباد بدستور افغان قیادت سے تحریری ضمانتیں چاہتا ہے۔

 

 

Back to top button