افغان طالبان ٹی ٹی پی کو لگام ڈالنے سے گریزاں کیوں؟

پاکستان مخالف دہشتگردانہ اور شرپسندانہ کارروائیوں کیلئے افغان سرزمین کا استعمال دھڑلے سے جاری ہے۔ تازہ پیشرفت کے مطابق سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے دہشتگردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے7 دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیا ہے۔ جس کے بعد عسکری قیادت نے ایک بار پھر افغانستان سے سرحد کے اطراف میں مؤثربارڈر منیجمنٹ یقینی بنانے اور عبوری افغان حکومت سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین کا استعمال روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم باہمی اختلافات کا شکار افغان حکومت پاکستان کے بارہا مطالبات کے باوجود ٹی ٹی پی کو لگام ڈالنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔

خیال رہے کہ ایم روز قبل آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد چین، پاکستان اقتصادی راہداری خعنخ سی پیک کے خلاف پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آرمی چیف کا یہ بیان افغان طالبان کے خلاف ایک اور چارج شیٹ ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ ظاہر ہوتا ہے۔منگل کو کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان مبینہ طور پر افغانستان میں چھپے ہوئے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان ٹی ٹی پی کو پاکستان میں دہشت گردی کا ذمے دار سمجھتا ہے۔ پاکستان کا یہ گلہ رہا ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے آرمی چیف کے بیان پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ لیکن ماضی میں افغان طالبان اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔افغان طالبان کا مؤقف رہا ہے کہ پاکستان اپنے ہاں ہونے والی دہشت گردی کا ذمے دار افغانستان کو ٹھہرانے سے گریز کرے۔

خیال رہے کہ ٹی ٹی پی نے بشام میں چینی انجینئرز پر ہونے والے حالیہ خودکش حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ لیکن مارچ میں ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کالعدم تنظیم نے پاکستان بھر میں 65 حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔افغان امور کے ماہر اور سینئر تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ بلوچستان میں جاری شدت پسندی کے واقعات کے بارے میں تو وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن پاکستان میں چینی انجینئرز پر داسو ڈیم اور بشام میں ہونے والے دونوں خودکش حملوں میں ٹی ٹی پی ملوث تھی۔ زاہد حسین کے مطابق ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں بیٹھی ضرور ہے تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انھیں افغان طالبان کنٹرول کر رہے ہیں۔زاہد حسین کے بقول پاکستان کی بارہا درخواستوں کے باوجود افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کاررروائی نہیں کی۔ کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ٹی ٹی پی افغان طالبان کے خلاف ہو سکتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی مختلف گروہوں کا مجموعہ ہے اور اس میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ کارروائیوں پر سیخ پا ہیں۔ ان تنظیموں میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ قابلِ ذکر ہے اور انہوں نے پاکستان میں پہلے بھی اس طرز کی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔

دوسری جانب کابل میں مقیم سینئر تجزیہ کار عبدالوحید وحید کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے عائد کردہ الزامات میں کچھ نیا نہیں ہے بلکہ اس قسم کے الزامات وقتاً فوقتاً لگائے جاتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی کارروائی کو افغانستان کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں ہے۔اُن کے بقول اس نوعیت کے الزامات سے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید خراب ہوں گے۔ان کے مطابق پاکستان کی جانب سے پے در پے سخت بیانات اور الزامات کو وہ مستقبل میں کسی بڑی کارروائی کے لیے ماحول بنائے جانے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ دہشتگرد گروپ ایسے حملوں کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان مسلح تصادم چاہتے ہیں۔ تاہم دونوں ہمسایہ ملکوں کو خطے میں کشیدگی بڑھانے سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر معاملات حل کرنے چاہئیں۔ تاہم دوسری جانب ماہرین کے مطابق دہشتگردانہ کارروائیوں کے دوران پاکستان کی جانب سے دوستی کا ہاتھ بڑھانا ناممکن ہے اعتماد سازی کو پروان چڑھانے کیلئے افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کو لگام ڈالنا ضروری ہے۔

Back to top button