افغان طالبان کا پاکستان کی جانب سے ہسپتال کو نشانہ بنانے کا پراپیگنڈا بے نقاب

افغان طالبان کے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا بے نقاب ہو گیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم حقیقت کچھ اور نکلی۔

 وزرات اطلاعات کے فیکٹ چیک کے مطابق جس اسپتال کو افغان طالبان نے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا، وہ دراصل کیمپ فینکس سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے۔ اصل ہدف ایک عسکری کیمپ تھا جہاں دہشت گردوں کا اسلحہ اور بارود رکھا گیا تھا، اور اسے درست طور پر نشانہ بنایا گیا۔

تصاویر سے یہ بھی واضح ہے کہ اصل ہسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے، جبکہ ہدف بنایا گیا مقام کنٹینرز پر مشتمل عسکری انفراسٹرکچر تھا۔ وزارت اطلاعات نے اس تضاد کی نشاندہی کی کہ اگر یہ واقعی منشیات کے علاج کا مرکز ہوتا، تو اسے ایسے فوجی کیمپ میں کیوں قائم کیا جاتا جہاں مہلک اسلحہ ذخیرہ ہوتا ہے؟

اقوام متحدہ نے 22 اعلیٰ طالبان ارکان پر پابندیاں…

مزید برآں، وزارت نے افغان سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے ایک متنازعہ پوسٹ اور ویڈیو کے حذف ہونے پر گہرے شکوک ظاہر کیے۔ ابتدا میں اس اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ منشیات کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا، مگر بعد میں پوسٹ اچانک ڈیلیٹ کر دی گئی۔

یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو، ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی، حقیقت کو غلط انداز میں پیش کرنے میں ناکام رہی اور اس کے پروپیگنڈے کی سچائی سامنے نہیں آ سکی۔

Back to top button