افغان طالبان حکومت بکھرنے لگی، آپس کے اختلافات نمایاں

برطانوی نشریاتی ادارے نے دعوی کیا ہے کہ افغان طالبان کی عبوری حکومت کے اتحادی دھڑوں کے مابین شدید ترین اختلافات پیدا ہو گئے ہیں جس کے بعد حکومت کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ بی بی سی نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کے امیر کے حکومتی اتحاد میں شامل قندھار اور حقانی دھڑوں سے پالیسی سازی پر واضح اختلافات پیدا ہونے کے بعد حکومتی اتحاد میں اور دراڑیں نمایاں ہو رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ اختلافات نہ صرف نظریاتی نوعیت کے ہیں بلکہ حکومتی فیصلوں، خارجہ پالیسی، سماجی امور اور ریاستی نظم و نسق تک پھیل چکے ہیں۔ بی بی سی کا دعوی ہے کہ اسکی یہ رپورٹ ایک سال سے زائد عرصے پر محیط تحقیق، درجنوں طالبان عہدیداروں، سابق ارکان، سفارتی ذرائع اور علاقائی تجزیہ کاروں سے گفتگو کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت اس وقت مختلف طاقتور گروہوں کے اشتراک سے چل رہی ہے، تاہم ان گروہوں کے درمیان افغانستان کے مستقبل، عالمی برادری سے تعلقات اور داخلی پالیسیوں پر شدید اختلافات موجود ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے اندر سب سے نمایاں تقسیم قندهار میں موجود اعلیٰ قیادت اور کابل میں سرگرم حکومتی دھڑے کے درمیان دیکھی جا رہی ہے۔ قندهار سے تعلق رکھنے والی قیادت، جو طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخونزادہ کے زیادہ قریب سمجھی جاتی ہے، سخت گیر مذہبی پالیسیوں اور عالمی برادری سے کم سے کم روابط کی حامی ہے۔ اس گروہ کا مؤقف ہے کہ اسلامی شریعت کے نفاذ میں کسی قسم کی لچک کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، چاہے اس کے نتیجے میں افغانستان کو سفارتی تنہائی یا معاشی دباؤ کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔
اس کے برعکس کابل میں موجود طالبان حکومت کا ایک نسبتاً عملی اور محتاط دھڑا ہے جو سمجھتا ہے کہ افغانستان کی بقا اور معاشی استحکام کے لیے عالمی برادری سے محدود مگر مؤثر روابط ضروری ہیں۔ وزیر دفاع ملا محمد یعقوب اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی پر مشتمل اس گروہ کا خیال ہے کہ اگرچہ اسلامی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، تاہم تعلیم، معیشت اور انسانی مسائل پر ایسی پالیسیاں اپنانا ناگزیر ہے جن سے عالمی پابندیوں میں نرمی اور امداد کی بحالی ممکن ہو سکے۔
طالبان حکومت کی صفوں میں ایک طاقتور فریق حقانی نیٹ ورک ہے، جس کے سربراہ سراج الدین حقانی اس وقت افغانستان کے وزیر داخلہ ہیں۔ حقانی نیٹ ورک ماضی میں عسکری کارروائیوں اور سکیورٹی معاملات میں نمایاں کردار ادا کرتا رہا ہے اور اب بھی سکیورٹی پالیسیوں میں اس کا اثر و رسوخ نمایاں ہے۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق حقانی دھڑا بعض معاملات میں قندهار دھڑے کی سخت گیر قیادت سے مختلف رائے رکھتا ہے، خاص طور پر بین الاقوامی سطح پر افغانستان کی تنہائی کم کرنے اور انتظامی امور کو زیادہ عملی بنیادوں پر چلانے کے حوالے سے۔ اسی طرح طالبان کابینہ میں وزیر دفاع ملا یعقوب، جو طالبان کے بانی ملا عمر کے صاحبزادے بھی ہیں ، ایک اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ ملا یعقوب اور ان سے وابستہ دھڑا بھی سراج الدین حقانی کی طرح افغانستان کی طویل المدت سلامتی اور ادارہ جاتی استحکام کے حق میں ہے، تاہم ان کے مؤقف اور قندهار میں موجود افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان اختلافات کا اظہار خواتین کی تعلیم، ملازمت، میڈیا پر پابندیوں، انٹرنیٹ کے استعمال اور بیرونی دنیا سے سفارتی تعلقات جیسے حساس معاملات پر ہوتا رہا ہے۔ بعض مواقع پر کابینہ کے اندر اختلافات اس قدر بڑھ گئے کہ اہم فیصلے تاخیر کا شکار ہوئے یا ان پر عملدرآمد ممکن نہ ہو سکا۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ نے نجی محافل میں ان اختلافات پر تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ اگر اندرونی اتحاد برقرار نہ رکھا گیا تو اس سے اسلامی امارت کے استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
تاہم طالبان قیادت نے ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تردید کی ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو بی بی سی کی رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سلسلہ وار پیغام میں کہا کہ اسلامی امارت کی صفوں میں کسی قسم کا کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ ان کے مطابق تمام فیصلے اسلامی شریعت کے مطابق کیے جاتے ہیں اور قیادت کے درمیان کسی بھی معاملے پر اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ایسی رپورٹس من گھڑت ہیں اور ان کا مقصد طالبان حکومت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔
پاکستان سے UAE جانے والے مسافروں کے لیے نیا معاہدہ کیا ہے؟
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ طالبان حکومت بظاہر متحد نظر آتی ہے، لیکن مختلف دھڑوں کے درمیان پالیسی اختلافات ایک حقیقت ہیں جن کا اثر حکومتی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق فیصلہ سازی میں تاخیر، معاشی مشکلات اور عالمی سطح پر عدم اعتماد جیسے مسائل طالبان حکومت کے لیے بڑے چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر طالبان قیادت ان اختلافات کو مؤثر انداز میں حل کرنے میں ناکام رہی تو اس کے اثرات نہ صرف حکومت کے اندرونی استحکام بلکہ افغانستان کی مجموعی سیاسی اور معاشی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق آنے والے مہینے یہ طے کریں گے کہ طالبان حکومت ان اندرونی اختلافات کے باوجود اپنی گرفت مضبوط رکھنے میں کامیاب رہتی ہے یا یہ دراڑیں مزید گہری ہو جاتی ہیں۔
