افغان طالبان نے TTP امیر کو کابل کی ریڈ زون میں شفٹ کر دیا

تحریک طالبان پاکستان کے مطلوب امیر کمانڈر نور ولی محسود کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ اس وقت کابل کی ریڈ زون یعنی ہائی سیکیورٹی ڈپلومیٹک ایریا کے ایک سیف ہاؤس میں بطور مہمان رہائش پذیر ہے۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کمانڈر نور ولی محسود کو تحریک طالبان افغانستان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی خصوصی ہدایت پر کابل کی ریڈ زون میں رہائش دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نور ولی محسود کو پاکستانی فضائیہ کی جانب سے افغانستان میں فضائی حملے شروع ہونے کے بعد کابل کے محفوظ ترین علاقے میں منتقل کیا گیا ہے تاکہ اس کی جان کو تحفظ دیا جا سکے۔
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نور ولی محسود پاکستان میں دہشت گردی کی سینکڑوں ہولناک کارروائیوں کا مرکزی منصوبہ ساز اور ماسٹر مائنڈ ہے، جس کی وجہ سے وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں نمبر ون کے طور پر شامل ہے۔ نور ولی محسود نے پچھلے کچھ برسوں میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز، عوامی مقامات، مساجد، امام بارگاہوں اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی سینکڑوں کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی اور ان پر عمل درآمد کرایا۔ ان کاروائیوں میں سینکڑوں افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ کمانڈر نور ولی محسود کو ایک انتہائی خطرناک دہشت گرد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نور ولی محسود نہ صرف افغانستان میں چھپا ہوا ہے بلکہ وہاں سے اپنی دہشت گرد سرگرمیوں کو منظم بھی کر رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ افغان طالبان حکومت نے نور ولی محسود کو اپنے ملک میں پناہ دے رکھی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ پناہ افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی ہدایت پر دی گئی ہے، جو اس وقت افغانستان کے سب سے طاقتور مذہبی اور سیاسی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ اس صورتحال نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کا شمار طالبان کی قیادت میں ایک اہم اور بااثر شخصیت کے طور پر ہوتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک مذہبی عالم ہیں اور انہوں نے طالبان کے اندر ایک نظریاتی رہنما کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔
2016 میں جب افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تو ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو افغان طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے نظریاتی تسلسل کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ ملا عمر نے طالبان کی بنیاد رکھی اور انہیں ایک مضبوط عسکری و نظریاتی تحریک میں تبدیل کیا، تاہم ان کی وفات کے بعد قیادت میں خلا پیدا ہو گیا تھا۔ ملا ہیبت اللہ نے اس خلا کو پُر کرتے ہوئے طالبان کو دوبارہ منظم کیا اور ایک متحد قیادت فراہم کی، جس کے نتیجے میں طالبان افغانستان میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم افغانستان میں افغان طالبان کی کامیابی اور وہاں سے امریکی اتحادی فوجوں کا انقلاب پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ لیکن بجائے کہ پاکستان کو اس کا فائدہ ہوتا، وہ الٹا اس کا خمیازہ بھی بھگت رہا ہے چونکہ طالبان حکومت بھارت نواز پالیسی لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔
ملا ہیبت اللہ کی قیادت میں افغان طالبان نے نہ صرف اپنی عسکری حکمت عملی کو مضبوط کیا بلکہ اپنے نظریاتی بیانیے کو بھی مزید سخت کیا۔ وہ زیادہ تر پس پردہ رہ کر فیصلے کرتے ہیں اور عوامی سطح پر کم ہی نظر آتے ہیں، تاہم تنظیم کے اندر ان کا اثر و رسوخ انتہائی مضبوط ہے اور اہم فیصلے انہی کی منظوری سے کیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ نے عید الفطر پر افغان محاذ پر جو عارضی جنگ بندی کی تھی وہ اب ختم ہو چکی ہے اور فضائی حملوں کا دوبارہ سے اغاز کیا جا چکا ہے تاکہ سرحد پار پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں استعمال ہونے والے مراکز کا صفایا کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ پاکستانی فضائیہ اور دیگر سیکیورٹی ادارے افغانستان کے اندر موجود ان ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں پاکستان مخالف شدت پسند عناصر موجود ہیں۔ ان حملوں میں نہ صرف دہشت گردوں کے مبینہ مراکز بلکہ افغان فوج کے اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات بھی شامل ہیں، جنہیں دہشت گردوں کی معاونت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری تنازع کی بنیادی وجہ سرحد پار دہشت گردی ہے۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو وہاں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت نہ صرف ان عناصر کو پناہ دیتی ہے بلکہ انہیں لاجسٹک اور آپریشنل معاونت بھی فراہم کرتی ہے، جس کے باعث پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان الزامات کو افغان طالبان کی جانب سے مسترد کیا جاتا رہا ہے، تاہم پاکستان اس مؤقف پر قائم ہے کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ سفارتی سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے متعدد بار مذاکرات کی کوششیں کی گئیں، لیکن یہ کوششیں خاطر خواہ نتائج نہ دے سکیں۔ اسی تناظر میں پاکستان نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے براہ راست کارروائیوں کا راستہ اختیار کیا ہے، تاکہ ان خطرات کا مؤثر طریقے سے خاتمہ کیا جا سکے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے اور اگر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال نہ ہوئی تو خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس کشیدگی کے اثرات نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان پرعزم ہے کہ اس مرتبہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گردی کے مراکز کو تباہ کر کے ہی دم لے گا تاکہ پاکستان میں دہشت گردی کا طویل ہوتا سلسلہ ختم کیا جا سکے۔
