افغانستان کا پاکستان پر فضائی حملوں کا الزام: 10 شہریوں کی اموات کا دعویٰ

 

 

افغان طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ شب اس کے تین مشرقی صوبوں میں فضائی کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 10 شہری مارے گئے۔ تاہم اس حوالے سے تاحال پاکستان کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

افغانستان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق پاکستان نے صوبہ خوست میں "بمباری” جبکہ کنڑ اور پکتیکا میں فضائی حملے کیے۔ ترجمان کا کہنا تھاکہ رات تقریباً 12 بجے ضلع گربزو کے علاقے مغلگے میں پاکستانی فورسز نے مقامی شہری ولایت خان ولد قاضی میر کے گھر پر بم گرائے، جب کہ کنڑ اور پکتیکا میں حملوں سے چار افراد زخمی بھی ہوئے۔

یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پیر کو پشاور میں تین خودکش حملہ آوروں نے ایف سی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا،جس میں تین جوان شہید اور کم از کم نو افراد زخمی ہوئے جن میں ایف سی اہلکار بھی شامل تھے۔

خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ ٹی ٹی پی کا معاملہ ہے۔پاکستان نے افغانستان کی عبوری حکومت سے مطالبہ کیا تھاکہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی کرے تاکہ سرحد پار دہشت گردی کو روکا جاسکے۔

اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں متعدد اموات ہوئیں، جس کے بعد تعلقات مزید بگڑ گئے۔ اگرچہ اکتوبر ہی میں قطر کی ثالثی سے جنگ بندی طے پائی تھی، لیکن ترکی میں ہونے والے امن مذاکرات شدت پسند گروپوں کے معاملے پر اختلافات کے باعث کسی مستقل معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔

 

Back to top button