پاکستان کے ہاتھوں افغانستان کو 40 کروڑ ڈالرز نقصان کا سامنا

سابق پاکستانی سفیر برائے امریکا ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ افغانستان میں تحریک طالبان کے دہشت گرد نیٹ ورک کی موجودگی اور اس کی پاکستان مخالف کارروائیوں کے ردعمل میں پاک افغان سرحدی تجارت معطل کرنے کی سخت پالیسی نے کابل پر غیر معمولی معاشی اور سفارتی دباؤ ڈالا ہے ۔ ان کے مطابق سرحدی بندش اور تجارت کی معطلی سے طالبان حکومت کو تقریباً 40 کروڑ ڈالرز ریونیو کا نقصان ہو رہا ہے جس سے کابل کی انتظامیہ کو شدید داخلی و خارجی دباؤ کا سامنا ہے۔
معروف انگریزی روزنامہ ڈان کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے تجارتی اور سفارتی تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے منجمد ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے سفارت خانے کھلے ہیں، مگر سفارتی روابط تقریباً معطل ہو چکے ہیں۔ پاک افغان سرحد گزشتہ اکتوبر سے بند ہے اور دوطرفہ تجارت رکی ہوئی ہے۔ یہ تعطل تب پیدا ہوا جب کرم ایجنسی میں ٹی ٹی پی کے ایک بڑے حملے میں کئی پاکستانی فوجی شہید ہوئے، اس کے بعد پاکستانی فضائیہ نے افغانستان میں ٹی ٹی پی شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ افغان فورسز نے جوابی کارروائیاں کیں اور یوں سرحدی جھڑپیں باقاعدہ محاذ آرائی میں بدل گئیں۔ بعد ازاں قطر اور ترکیہ کی ثالثی سے جنگ بندی ممکن ہوئی، مگر ٹی ٹی پی کے معاملے پر مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہو گئے۔
ملیحہ لودھی کے مطابق اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ چھ ہزار ٹی ٹی پی جنگجو افغانستان میں موجود ہیں اور وہ وہیں سے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی فروری 2026 کی مانیٹرنگ رپورٹ میں بھی ٹی ٹی پی حملوں میں اضافے اور افغان سرزمین پر شدت پسندوں کے لیے سازگار ماحول کی نشاندہی کی گئی۔ نومبر 2025 کی ایک اور اقوام متحدہ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں نے دونوں ممالک کو عسکری تصادم کی طرف دھکیلا اور سرحدی بندش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اثرات کو طالبان حکومت کے استحکام کے لیے سب سے بڑا قلیل مدتی خطرہ قرار دیا گیا۔
ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ابتدا میں ڈنڈے اور پیار کی پالیسی اپنائی۔ ایک جانب فضائی کارروائیاں، ٹرانزٹ تجارت پر پابندیاں اور غیر قانونی افغان مہاجرین کی بے دخلی جیسے سخت ترین اقدامات کیے گئے، تو دوسری جانب اعلیٰ سطحی سفارتی روابط بھی جاری رکھے گئے۔ اپریل 2025 میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے کابل دورے سمیت ہونے والی ملاقاتوں میں طالبان قیادت نے ٹی ٹی پی کو کنٹرول کرنے کا وعدہ کیا، مگر اسلام آباد کے مطابق یہ یقین دہانیاں عملی اقدامات میں تبدیل نہ ہو سکیں۔
امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر کے مطابق پاکستان کے لیے ٹی ٹی پی کے دو بنیادی مطالبات یعنی قبائلی علاقوں سے فوج کا انخلا اور فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام واپس لینا، ناقابلِ قبول ہیں۔ مذاکرات کی ناکامی اور بڑھتے حملوں کے بعد اسلام آباد نے نتیجہ اخذ کیا کہ طالبان قیادت ٹی ٹی پی سے مکمل لاتعلقی اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ چنانچہ سفارتی ذرائع کے مطابق اب پاکستان کی حکمت عملی لاگت بڑھانے پر مرکوز ہے۔ سرحدی بندش اور تجارت کی معطلی اسی حکمت عملی کا مرکزی ستون ہیں۔ اندازوں کے مطابق سرحد بند رہنے سے طالبان حکومت کو سالانہ تقریباً 40 کروڑ ڈالرز ریونیو کا نقصان ہو رہا ہے۔ افغانستان کی پاکستان کو برآمدات، جو حالیہ برسوں میں 56 کروڑ سے 88 کروڑ ڈالرز کے درمیان رہی ہیں، شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ٹرانزٹ ٹریڈ کی معطلی نے افغان معیشت اور عام شہریوں پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔ اس معاشی دباؤ کا مقصد طالبان حکومت کو مجبور کرنا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف واضح اور قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔
عارف حبیب گروپ نے حکومت کو PIA سے مکمل آؤٹ کیسے کیا؟
اسلام آباد کی یہ حکمت عملی اس مفروضے پر مبنی ہے کہ معاشی مشکلات افغان عوام میں بے چینی پیدا کریں گی جو بالآخر طالبان قیادت پر دباؤ میں اضافہ کرے گی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے اندر بھی ٹی ٹی پی کے حوالے سے یکساں رائے نہیں پائی جاتی؛ کچھ حلقے اسے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں غیر ضروری رکاوٹ سمجھتے ہیں جبکہ دیگر اس کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستانی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ دباؤ کی یہ حکمت عملی ان اندرونی اختلافات کو نمایاں کر سکتی ہے۔ ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ علاقائی تناظر میں بھی پاکستان دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ رابطے بڑھا رہا ہے تاکہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مشترکہ دباؤ ڈالا جا سکے۔ تاہم آنے والے مہینے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا معاشی و عسکری دباؤ پر مبنی یہ حکمت عملی طالبان حکومت کو اپنی پالیسی بدلنے پر آمادہ کر پاتی ہے یا نہیں۔
ملیحہ لودھی کے تجزیے کے مطابق موجودہ صورتحال میں افغانستان کی طالبان حکومت سخت معاشی نقصان اور سفارتی تنہائی کا سامنا کر رہی ہے، اور اگر ٹی ٹی پی کے معاملے پر ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو یہ دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ انکے مطابق پاکستان کی پالیسی کا بنیادی مقصد واضح ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان مخالف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے، چاہے اس کے لیے کابل کو بھاری معاشی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔
