استنبول میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات ناکام ہوگئے : عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ترکیہ کے شہر استنبول میں ہونے والے پاکستان اور افغانستان کے مابین مذاکرات افغان طالبان کی ضد، ہٹ دھرمی اور منافقت کی نذر ہوگئے ہیں۔مذاکرات میں تیسرے دن بات چیت کا سلسلہ 18 گھنٹے تک جاری رہا۔
وفاقی وزیر عطا تارڑ نے کہا کہ پاک افغان مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟ اس کا تعلق قطعی طور پر پاکستان کی سفارت کاری سے نہیں،اصل وجہ افغان حکومت کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور بھارت جیسی پس پردہ طاقتوں کا گھناؤنا کھیل تھا،پہلے ہی اجلاس سے یہ واضح ہوگیا کہ افغان وفد ایک آواز ہوکر مذاکرات نہیں کررہا۔ تین مسابقتی بلاکس قندھار،کابل اور خوست افغان مذاکراتی وفد میں شامل مندوبین کو الگ الگ ہدایات دے رہے تھے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ جب بات چیت فتنۃ خوارج کے محفوظ ٹھکانوں پر تحریری ضمانتوں کے مرحلے تک پہنچی تو قندھار کے دھڑے نے آگےبڑھنے کےلیے خاموشی سے آمادگی کا اشارہ دیا تھالیکن پھر وقفے کے دوران انہوں نے اچانک اصرار کیا اور کہاکہ کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کیے جاسکتے جب تک کہ امریکا باضابطہ ضامن کے طور پر شامل نہ ہو۔حالانکہ ایسی کوئی بات ایجنڈے کا حصہ نہیں تھی اور نہ ہی اسے مذاکرات کے پچھلے ادوار میں اٹھایا گیا تھا۔
انہون نے بتایا کہ اس اقدام نے ثالثوں کو بھی حیران کردیا کیونکہ یہ سکیورٹی کےبارے میں نہیں تھا۔یہ واشنگٹن کے ذریعے مالیاتی راہداری کو دوبارہ کھولنے کےبارے میں تھا۔انہوں نے دو طرفہ سکیورٹی مذاکرات کو 3 فریقی ڈونر سے منسلک انتظام میں تبدیل کرنےکی کوشش کی۔اس سارے کھیل کا مقصد بنیادی طور پر سکیورٹی فائل کو امداد کے لیے سودے بازی کی چپ میں تبدیل کرنا تھا۔
وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ نے پاک افغان مذاکرات میں ثالثی کے کردار پر ترکیہ اور قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے مؤقف پر قائم ہے، دہشت گردی پر قابو پانے کے حوالے سے اب ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ اب ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی پر قابو پانے سے متعلق اپنی طویل عرصے سے چلی آنے والی بین الاقوامی، علاقائی اور دو طرفہ ذمہ داریوں کو پورا کرے جن میں اب تک وہ ناکام رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اس بات کا اعادہ کرتا ہےکہ وہ افغان عوام سے خیرسگالی کا جذبہ رکھتا ہے اور ان کےلیے ایک پر امن مستقبل کا خواہش مند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کبھی بھی افغان طالبان حکومت کے ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرےگا جو افغان عوام یا ہمسایہ ممالک کے مفادات کےلیے نقصان دہ ہو۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اپنے عوام کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کےلیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
