پاکستان سے تجارت بندکرنےکانقصان افغانستان کوہی ہوگا

پاکستان سے جاری کشیدگی کے دوران افغان طالبان قیادت نے پاکستان سے تجارت ختم کرنے کا فیصلہ کر کے اپنی تباہی اور بربادی کی بنیاد رکھ دی ہے، افغان عوام کو طالبان کا یہ فیصلہ اشیائےضروریہ کی قلت اور مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ مبصرین کے مطابق پاک افغان مذاکرات کی ناکامی اور پاکستان میں پے در پے ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک میں ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، تازہ پیشرفت کے مطابق افغان طالبان حکومت نے تاجروں کو پاکستان کیساتھ تجارت ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے افغان تاجروں اور صنعتکاروں کو درآمدات اور برآمدات کے لیے پاکستان پر انحصار کرنے کی بجائے دیگر ممالک کے ذریعے تجارت کے راستے تلاش کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ جس کے بعد پاکستان اور افغانستان کے مابین مفاہمت کی باقی ماندہ امیدیں بھی دم توڑ گئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق پاکستان پر تجارتی انحصار کم کرنے سے متعلق ملا عبدالغنی برادر کے بیان کو توجہ تو حاصل ہوئی ہے لیکن ’افغانستان کی جنگ سے تباہ اور لڑکھڑاتی معیشت‘ اس اقدام کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ کوئی بھی دوسرا پڑوسی ملک افغانستان کو ڈومیسٹک اور بین الاقوامی مارکیٹس تک ایسی رسائی نہیں فراہم کر سکتا۔‘ افغان طالبان نے پاکستان سے تجارت بند کرنے کا فیصلہ کر کے حقیقت میں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی ہے جس کا خمیازہ اسے مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قلت کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گا۔
افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر نے افغان تاجروں اور صنعت کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری پاکستان کے ساتھ تجارت بند کر دیں اور آئندہ تین ماہ کے اندر متبادل راستے اختیار کریں۔ ملا غنی نے خبردار کیا کہ اس واضح ہدایت کے بعد بھی اگر کوئی تاجر پاکستان کے ساتھ تجارت جاری رکھتا ہے تو حکومت اس کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی اور نہ ہی اس کی بات سنے گی اور اپنے نقصان کا ذمہ دار وہ خود ہو گا۔
خیال رہے کہ طالبان کے نائب وزیرِ اعظم ملا عبدالغنی برادر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے ترکی اور قطر جیسے ممالک مصالحتی کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد گزشتہ 32 دن سے ہر قسم کی تجارت کے لیے بند ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں تجارتی سامان سے لدی سینکڑوں گاڑیاں پھنس کر رہ گئی ہیں جبکہ پاک افغان تجارتی راہداری طورخم کی بندش کے باعث افغان تاجروں کو روزانہ ڈیڑھ ملین ڈالر نقصان ہورہاہے۔
واضح رہے کہ طورخم اور چمن کے علاوہ تمام 8 بارڈرکراسنگ پوائنٹس ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند ہیں۔ان پوائنٹس کوسیکیورٹی صورتحال کےباعث 12 اکتوبر سےغیر معینہ مدت کے لیے بند کیا گیا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے اس اقدام پر تاجر رہنما اور سوشل میڈیا پر صارفین اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کے اس فیصلے سے افغانستان کی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پاک-افغان مشترکہ چیمبر کے رہنما خان جان الکوزئی کے مطابق ’امارت اسلامیہ افغانستان‘ کا مؤقف یہ ہے کہ دونوں ممالک میں کشیدگی کی وجہ سے پاک افغان سرحد اکثر بند کر دی جاتی ہے، جس سے تاجروں کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ’اس نقصان سے تاجربرادری کو بچانے کے لیے ملا عبدالغنی برادر نے تجویز دی ہے کہ تجارت کے متبادل راستے تلاش کریں، جو مشکل ضرور ہو گا لیکن ناممکن کچھ نہیں ہے۔‘ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایک لحاظ سے افغانستان کیلئے پاکستان سے تجارت میں آسانیاں ہیں، یہ تجارت نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ پاک افغان باہمی تجارت میں مال بھی وقت پر پہنچ جاتا ہے جیسے اگر لاہور سے ٹرک صبح کے وقت روانہ ہو تو شام تک جلال آباد میں ہوتا ہے۔‘ تاہم جب افغانستان کی دیگر ممالک کے ساتھ تجارت ہوگی تو اس میں مشکل یہ ہے کہ ایک تو اس پر خرچہ زیادہ آئے گا اور دوسرا اس میں وقت زیادہ لگ سکتا ہے۔ جیسا کہ چین سے بہت سا سامان قازقستان کے راستے افغانستان پہنچ رہا ہے لیکن اس میں جہاں وقت زیادہ لگ رہا ہے وہیں اس میں ترسیلی اخراجات بھی کئی گنا زیادہ ہیں۔
پاکستان میں حملوں کے بعد افغانستان پر فضائی بمباری کا امکان
معاشی ماہرین کے مطابق پاک افغان تجارت کی بندش سے دونوں ممالک کو نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہے۔تاہم ایک بات حقیقت ہے کہ جب سے افغانستان میں نئی حکومت آئی ہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا حجم کافی حد تک کم ہوا ہے لیکن تجارت کی مکمل بندش سے دونوں ممالک کے تاجروں کو نقصان ہوگا کیونکہ پاکستان سے سیمنٹ، چاول، ادویات موسمی سبزیاں اور پھلوں کے علاوہ چکن وغیرہ بھی افغانستان جاتا ہے، اسی طرح افغانستان سے پھل اور سبزیاں پاکستان آتی ہیں اور اس سے تجارت سے وابستہ ہر طبقے کا فائدہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے بقول افغانستان میں تاجروں کا مشکل وقت تو گزر گیا ہے کیونکہ انار، انگور اور سیب کا موسم لگ بھگ ختم ہو چکا ہے۔ اب پاکستان کے پھلوں کی باری ہے جیسے اب پاکستان سے کیلا، امرود، مالٹا، کینو اور دیگر پھل افغانستان آئیں گے ایسے میں تجارت کیلئے سرحد کی بندش سے پاکستان کے کسانوں اور تاجروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب طورخم سرحد پر موجود کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ ایسوسی ایشن کے رہنما مجیب شنواری سمجھتے ہیں پاک افغان تجارت کی بندش سے زیادہ نقصان افغانستان کو ہوگا کیونکہ باقی کوئی ایسے متبادل راستے نہیں ہیں جہاں سے افغانستان تجارت کر سکے۔ ’مثال کے طور پر ایران پر پہلے سے عالمی سطح پر پابندیاں ہیں۔ اس کے علاوہ وسطی ایشیائی ممالک افغانستان سے دور ہیں اور وہاں سے تجارت پر زیادہ اخراجات آ سکتے ہیں، جس سے مقامی سطح پر مہنگائی ہوگی یا افغان اشیاء کو مختلف اشیاء کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق ملا غنی برادر کی جانب سے تجارتی پابندی سے اشارہ ملتا ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات خرابی کی اس نہج تک پہنچ گئے ہیں جہاں مفاہمت مشکل نظر آتی ہے۔‘ طالبان سفارتی دباؤ میں آنے کے بجائے بظاہر پاکستان کے معاملے پر جارحانہ اور ٹکراؤ پر مبنی مؤقف اپنا رہے ہیں جس سے زیادہ نقصان افغانستان کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔
