افغانستان کے طالبان حکمران لڑ پڑے، کابل اور قندھار گروپ آمنے سامنے

پاکستان میں انتشار پسندی کو فروغ دینے والےافغان طالبان میں اختلافات کی خلیج مزید گہری ہوگئی۔ افغانستان میں طالبان کی قیادت میں اختلافات بڑھنے لگے ہیں۔ جس کے بعد کابل اور قندھار گروپ آمنے سامنے آگئے ہیں۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ حالیہ دنوں میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ افغان طالبان کے اندر سب اچھا نہیں ہے،برطانوی میڈیا کا کہنا ہے طالبان حکومت کو اس وقت شدید معاشی مسائل درپیش ہیں۔ عام افغان مسائل کا حل مانگ رہے ہیں، ایسے میں افغان طالبان کے اندرونی اختلافات افغان حکومت کیلئے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق افغان طالبان میں نا اتفاقی میں شدت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ افغان طالبان کی تعلیمی پالیسیوں سے ناخوش وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو سعودی عرب گئے ایک مہینہ سے زیادہ ہو گیا ہے۔ جس پر کابل میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ حقانی افغانستان واپس آنے سے گریزاں کیوں ہیں۔خیال رہے کہ سراج الدین حقانی نے ایک بیان میں کہا تھا اپنی رائے اور فکر کوعوام پر مسلط نہیں کرنا چاہیے، سارے نظام کو چیلنج کرنا، ہدف اور یرغمال بنانا درست نہیں۔ دوسری جانب نائب وزیر خارجہ عباس استنکز بھی اپنے خاندان سمیت قطر منتقل ہو گئےہیں انھوں نے بھی اب تک افغان حکام سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ جبکہ اب نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبد الغنی برادر بھی قطر چلے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تینوں رہنماؤں کی روانگی کو افغان طالبان کے سر براہ مولوی ہیبت اللہ کی تعلیمی پالیسیوں سے اختلافات قرار دیا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک جانب اہم حکومتی ذمہ داران افغانستان چھوڑ کر بیرون ملک مقیم ہو چکے ہیں وہیں دوسری طرف افغان وزیر برائے پناہ گزین خلیل حقانی خودکش حملے میں جان کھو بیٹھے ہیں۔ حقانی گروپ ان کی موت کا الزام مخالف طالبان پر لگارہا ہے۔ جس کے بعد سراج الدین حقانی کے لوگ کابل سے نکل چکے ہیں جبکہ قندھار میں موجود طالبان امیر ملا ہیبت اللہ اخوند نے مزید افغان جنگجو کابل لانے کا حکم دے دیا ہے جس کے بعد کابل اور قندھار گروپ لے باہمی اختلافات میں مزید شدت آنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ میں کابل میں مقیم ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ نے گزشتہ دنوں وزارت تعلیم سمیت تمام کالجز اور یونیورسٹیوں کے سربراہوں سے اسلامی نظام تعلیم اور خواتین کیلئے علیحدہ نظام تعلیم کے حوالے سے جواب طلب کیا ہے، کہ گزشتہ دو برس میں وزارت تعلیم کے عہدیداروں نے اس حوالے سے کیا پیش رفت کی ۔ اگر تیاریاں مکمل ہیں تو اپریل سے شروع ہونے والے تعلیمی سال پر خواتین کی تعلیم پر پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا جائے۔ ذرائع کے بقول ملا ہیبت اللہ اخونزادہ سمیت ان کے سخت گیر ساتھیوں کو شام کے اسلام پسندوں کی کامیابیوں سے سیکھنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ گزشتہ تین برسوں میں افغان طالبان عالمی سطح پر تنہائی ختم کرنے میں نہ صرف ناکام رہے بلکہ یہ تنہائی مزید بڑھ رہی ہے۔ طالبان کے معتدل رہنماؤں کا موقف ہے کہ محمد الشرح ماضی میں القاعدہ کا حصہ رہے ہیں اور القاعدہ کے شام کے سر براہ بھی رہے ہیں۔ تا ہم اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے ایک معتدل اسلام پسند رہنما کے طور پر اپنے آپ کو متعارف کروایا ہے۔ وہ پوری دنیا میں شام کو اس کا اصل مقام دوبارہ دلوار ہے اور دنیا کے ساتھ اپنے روابط بھی بڑھا رہے ہیں۔ باوجود اس کے کہ اسرائیل اور ایران سمیت کئی ممالک ان کو اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ان کی تمام توجہ عالمی سفارتکاری پر ہے۔ اس کی تازہ مثال روس کے ساتھ معاہدہ ہے۔ جس کے بعد روس کو محدود پیمانے پر شام میں موجودگی دی جارہی ہے۔ روس نے شام کی تعمیر نو میں حصہ لینے کا بھی اعلان کر دیا ہے اور مرکزی بینک کو شامی کرنسی کے نئے نوٹوں کی فراہمی بھی شروع کر دی ہے۔ جبکہ افغان طالبان کو اپنا وجود عالمی سطح پر منوانے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے جبکہ اہم حکومتی ذمہ داران افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، مولوی عباس اور مولوی عبد الغنی برادر کے ملک سے باہر رہنے کو احتجاج قرار دیا جارہا ہے۔ جبکہ مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کی جانب سے خواتین کی تعلیم سے پابندی اٹھانے کے فیصلے کو ان رہنماؤں کو واپسی پر رضامند کرنا قرار دیا جارہا ہے۔
دوسری جانب افغانستان کے کئی ماہرین اور بیرون ممالک سفارتکاروں نے سراج الدین حقانی ، مولوی عباس اور مولوی عبد الغنی برادر کی حمایت شروع کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ افغان طالبان پر مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کا کنٹرول تاحال برقرارہے تاہم خواتین کی تعلیمی سرگرمیوں سمیت دیگر پابندیاں طالبان کیلئے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے مولوی بیت اللہ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ جبکہ امریکا کی جانب سے بھی دباؤ بڑھانے کا امکان ہے کیونکہ روس کے امریکا کے ساتھ معاملات طے ہونے کے بعد طالبان اور روس کے درمیان تعلقات میں بھی سرد مہری آ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان کے کئی رہنما نہ صرف بددل ہیں۔ بلکہ وہ افغانستان چھوڑنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر حقانی نیٹ ورک کے سر براہ اور وزیر داخلہ افغانستان آئندہ چند دنوں میں واپس نہیں آتے تو افغانستان میں بہت بڑی تبدیلی آنے کا امکان ہے۔ کیونکہ حقانی نیٹ ورک کا امریکا کو شکست دینے میں بہت بڑا کردار ہے۔ حقانی نیٹ ورک بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے حق میں بھی نہیں۔ وہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے اور پاکستان کیساتھ تعلقات خراب کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتا ہے۔
