اسٹیبلشمنٹ پر حملے کے بعد کپتان کے اتحادی دور ہونے لگے

تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے والے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بالواسطہ اسٹیبلشمنٹ کی غیرجانبداری کو جانور سے تشبیہہ دینے کے بعد اب انکی اتحادی جماعتیں بھی گڑبڑا کر ان سے دوری اختیار کرتی نظر آتی ہیں۔

یاد رہے کے کپتان کی چاروں اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم قاف لیگ، بلوچستان عوامی پارٹی اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کو اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ جماعتیں سمجھا جاتا ہے جو ان کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتیں۔ موجودہ سیاسی بحران میں اسٹیبلشمنٹ واضح طور پر خود کو غیر جانبدار اور نیوٹرل قرار دے چکی تھی جس کے بعد اضطراب کا شکار وزیراعظم نے ایک بھرے جلسے میں لفظ نیوٹرل کی تشریح کرتے ہوئے اسے جانور سے تشبیہہ دے دی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انہوں نے یہ تاثر بھی دیا کہ میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی کسی بات کو اہمیت نہیں دیتا لہذا آرمی چیف کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو ڈیزل کہنے سے منع کرنے کے باوجود عمران نے جلسے میں نو مرتبہ مولانا کو ڈیزل کہہ کر پکارا۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں وزیراعظم نے لفظ نیوٹرل کو جانور سے تشبیہہ دے کر فوجی اسٹیبلشمنٹ پر اپنا ساتھ دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جو مکمل ناکام ہوتی نظر آتی ہے کیونکہ فوجی قیادت اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے پر مصر ہے۔

وزیر اعظم کے اس بیان کو عسکری حلقوں میں خاصی تشویش بھری نظروں سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ان کی اس تقریر سے صرف ایک روز پہلے فوجی ترجمان میجر جنرل افتخار بابر نے فوج کو موجودہ سیاسی صورتحال میں غیر جانبدار اور نیوٹرل قرار دیا تھا۔ چنانچہ وزیر اعظم کے بیان کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کے بیان کو ڈی جی آئی ایس پی آر کے اعلان کا رد عمل قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ عمران خان کو پٹہ ڈالا جائے۔

مولانا نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے جنرل قمر باجوہ سے کبھی عمران خان کی شکایت نہیں کی لیکن اگر آرمی چیف نے انہیں منع کیا تھا تو انہوں نے ثابت کیا کہ وہ ان کی بات نہیں مانتے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آرمی چیف نے وزیراعظم سے پرائیویٹلی کوئی بات کی تھی تو اس کا عوامی جلسے میں اعکان کرنا انتہائی نامناسب ہے، ںکا۔کہنا ہے کہ اپنے اس عمل سے وزیر اعظم نے یہ تاثر دیا ہے کہ وہ اعتبار کے بھی قابل نہیں ہیں۔

وزیراعظم لفظ نیوٹرل کو جانور سے تشبیہہ دینے کے بعد سے شدید تنقید کی زد میں ہیں اور ان کی اتحادی جماعتیں بھی ان سے نالاں نظر آتی ہیں۔ شاید اسی لئے بار بار کے رابطوں کے باوجود بلوچستان عوامی پارٹی اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی قیادت بھی ان سے ملنے سے انکاری ہے۔ دوسری جانب قاف لیگ اور ایم کیو ایم کی قیادت بھی اپوزیشن سے کھکے عام رابطوں میں مصروف ہے اور حکومت سے علیحدہ ہونے کے واضح اشارے دے رہی ہے۔ حکومت کی اتحادی جماعتوں نے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم کی نیوٹرل والی منطق سے اتحادی جماعتوں کو یہ تاثر ملا ہے کہ حساس اداروں کے ان سے اب ویسے معاملات نہیں رہے جیسے پہلے ہوا کرتے تھے۔

اس سے قبل بھی تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں میں اختلافات موجود تھے، لیکن اس کی وجہ حکومت کی غیر تسلی بخش کارکردگی، ملکی مسائل میں مسلسل اضافہ اور مہنگائی جیسے عوامل شامل تھے۔ ان تمام مسائل اور اختلافات کے باوجود اتحادی جماعتیں حکومت کے شانہ بشانہ چل رہی تھیں کیونکہ عمومی تاثر یہی تھا کہ ملکی ادارے حکومت کے ساتھ ہیں۔ تاہم وزیر اعظم کی جانب سے نیوٹرل لفظ کی تشریح کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے اتحادی جماعتوں کو یہ تاثر ملا ہے کہ وزیر اعظم کے اداروں کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر خراب ہو چکے ہیں، چنانچہ اب حکومتی جماعت اور اسکے تحادیوں کے مابین خلیج مزید وسیع ہوتی جا رہی ہے جس کا نتیجہ اگلے چند روز میں سامنے آجائے گا۔

محسن بیگ کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور

باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن قیادت کے مابین معاملات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ چونکہ تحریک عدم اعتماد میں فیصلہ کن کردار حکومت کی اتحادی جماعتوں نے ادا کرنا ہے اسلیے اپوزیشن جماعتیں ان کے ساتھ مسلسل روابط قائم کیے ہوئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ حکومتی اتحادی جماعتوں کو اپوزیشن سے جو ضمانتیں چاہیے تھیں وہ مل چکی ہیں، اور اب حکومتی اتحاد چھوڑنے کا صرف ایک رسمی اعلان باقی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک طے شدہ اسٹریٹیجی کے تحت اتحادیوں کا حکومت سے فوری علیحدگی کا اعلان نہیں کیا جا رہا اور مناسب وقت کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ حکومتی جماعت کاؤنٹر سٹریٹجی تیار نہ کر پائے۔

After attack on establishment captain allies began disappear

Back to top button