بنگلہ دیش کے بعد افغانستان میں بھی پرو پاکستان تبدیلی کا امکان

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ہمارے غیبی ٹوٹکوں کے طفیل بنگلہ دیش میں بھارت نواز حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد اب افغان طالبان کی احسان فراموش حکومت کے خلاف بھی افغانستان کے اندر سے ہی ایک مخالف اتحاد بننا شروع ہو گیا ہے، لہازا آنے والے دنوں میں افغانستان کے اندر ایسی کھچڑی پکنے والی ہے جس سے ریاستِ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں موثر کمی ہو گی اور پنگے لینے والے ہاتھ لگا لگا کر روئیں گے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کوئی مانے نہ مانے، ہمارا کوئی عمل دخل تھا یا نہیں، مگر سچ تو یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں پاکستان مخالف شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے سے بھارتی پالیسیوں کو شکست ہوئی ہے اور بالواسطہ ہی سہی پاکستان کو فائدہ ہوا ہے۔ گزشتہ 50سال سے سقوط ڈھاکہ نے ریاستی بیانیہ پر جو مردنی طاری کر رکھی تھی اب اسے پھر سے تازہ ہوا مل گئی ہے، بنگلہ دیش میں تبدیلی نے خطے میں ہماری اہمیت کو اور بھی اُجاگر کیا ہے۔ بھارتی الیکشن کے نتائج وہ دوسرا مثبت اشارہ ہے جو ثابت کرتا ہے کہ ہندوتوا اور مودی کے انتہا پسندانہ بیانیے کی پاکستانی مخالفت درست تھی، بھارتی عوام نے مودی کی پالیسیوں کو وسیع پیمانے پر رد کر دیا۔ بھارت سے غیر سرکاری مذاکرات کرنے والے ایک مہربان نے آف دی ریکارڈ گفتگو میں بتایا کہ الیکشن نتائج کے بعد سے بھارت کے جرنیلوں، افسروں اور دانشوروں کے رویے میں تبدیلی آئی ہے، پہلے وہ ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے تھے، پاکستان سے بات ہی نہیں کرنا چاہتے تھے، کشمیر کے مسئلے کو نظر انداز کرنا چاہتے تھے۔ لیکن مودی کو الیکشن میں جو جھٹکا ملا ہے اس سے وہاں زمینی حقائق کا ادراک ہونا شروع ہو گیا ہے۔ لگتا ہے کہ اب بھارت کا تکبر ٹوٹنا شروع ہو گیا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ مذاکرات کا دروازہ کھلے گا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں افغانستان سے ہمارے مسئلوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، افغانستان سے دہشت گرد مسلسل پاکستان میں گھس کر کارروائیاں کرتے ہیں اور افغانستان کی طالبان حکومت نہ تو انہیں منع کرتی ہے اور نہ ہی روکنے پر آمادہ ہے، بلکہ اگر سچ کہا جائے تو پاکستانی اور اور افغان طالبان بھائی بھائی ہیں اور دونوں پاکستانی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ پاکستان نے سمجھانے کی تمام تر کوششیں کر لی ہیں۔ اس نے محبت اور پیار کے پیغامات بھیجے، اور افغان طالبان کی مسلسل بین الاقوامی حمایت کی مگر طالبان حکومت باز نہیں آئی۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ریاست پاکستان چاہے تو ایک ہی ہلے میں افغان حکومت کو اڑا دے، لیکن وہ افغانستان سے لڑنا نہیں چاہتی، ایسے میں اب پردہ غیب سے افغان طالبان کیخلاف افغانستان کے اندر ہی ایک مخالف سیاسی اتحاد بننا شروع ہو گیا ہے جس میں گلم جم ملیشیا کے سربراہ عبدالرشید دوستم، احمد شاہ مسعود کے ساتھی اور دوسرے لبرل گروپ شامل ہیں۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں افغانستان کے اندر جو بھی کچھ ہو گا اس سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں موثر کمی آئے گی، فی الحال ریاست پاکستان نے طالبان مخالف اتحاد کی مدد کرنے کا فیصلہ نہیں کیا لیکن اگر افغان طالبان نے غیب والوں کو مجبور کر دیا تو پھر افغان حکومت بھی برقرار نہیں رہ سکے گی۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں افغان طالبان کو یاد رکھنا چاہئے کہ روس کے ساتھ جنگ ہو یا امریکہ کے ساتھ، پاکستانی ریاست اگر ان کی مدد کر کے انہیں نہ بچاتی تو اب تک وہ مٹ چکے ہوتے، پاکستان نے امریکہ کے ساتھ اپنے مفادات کو مجروح کر کے بھی افغان طالبان کو بچایا مگر انہیں اس کا احساس تک نہیں۔ پاکستان اور امریکہ میں ناراضی کی بڑی وجہ افغان طالبان کی حمایت تھی مگر اب ایسا لگ رہا ہے کہ یہ پاکستان کی ایک فاش غلطی تھی، لہٰذا اس غلطی کا مداوا کرنے کا اغاز ہو چکا ہے اور یہ امید کی جا سکتی ہے کہ بنگلہ دیش کی طرح افغانستان کے حالات بھی پاکستان کے لیے مثبت انداز میں بدلیں گے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان کی سرحد ایران سے بھی ملتی ہے، لیکن ایران سے ہمارے تعلقات اتار چڑھائو کا شکار رہے ہیں۔ بلوچستان کے اندر دہشت گردی کرنے والے عناصر ایران اور افغانستان کو اپنی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو ایران ہی سے بلوچستان میں مداخلت کرواتا تھا۔ ان حالات کے باوجود پاکستان نے مغربی دنیا کے اس مطالبے کو ہمیشہ مسترد کیا ہے کہ پاکستان ایران کے خلاف معاندانہ پالیسی اپنائے یا ایران سے دشمنی کر کے مقابلے بازی پر آ جائے، جلد یا بدیر ایران کو بھی احساس ہو جائے گا کہ بھارت سے اسکی دوستی کی پینگیں خود اسے نقصان پہنچا رہی ہیں، ایک طرف تو بھارت اسرائیل کا اتحادی ہے اور دوسری طرف ایران کا، ایران کو یہ تضاد کیوں نظر نہیں آ رہا۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ چین سے ہماری مثالی دوستی ہے۔ لیکن دفاعی تعاون زیادہ اور تجارتی شراکت داری بہت کم ہے۔ سی پیک کے حوالے سے پہلے جیسی سرگرمی بھی نظر نہیں آ رہی، چین کو اپنے لوگوں کی سیکورٹی کے حوالے سے تحفظات تھے۔ شروع شروع میں تو ریاست دفاعی لائن اختیار کرتی رہی لیکن اب واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ چینی افسروں پر حملے مغربی طاقتوں کے اشارے پر ہو رہے ہیں اور امریکہ اور چین کی جنگ ہماری سرزمین نہیں پر ہونی چاہئے۔ چین براہ راست افغانستان سے دہشت گردی کی سہولت کاری کی شکایت کرنے پر آمادہ نہیں تھا جس سے پاکستان اور چین کے مابین غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ دہشت گردوں سے مذاکرات اور اپنی سیکورٹی خود کرنے کی چینی خواہشات کو بھی پاکستانی فیصلہ سازوں نے مسترد کر دیا ہے، اس لئے پاکستان کے چین سے تعلقات اب محبت کے دائرے سے نکل کر حقائق کی نگری میں آ گئے ہیں، امید یہ کی جا رہی ہے کہ حقائق پر مبنی دوستی زیادہ فائدہ مند اور عملی ہو گی آنے والے دنوں میں چھوٹی موٹی غلط فہمیاں ختم ہو جائیں گی، اب زبانی جمع خرچ کم اور گوادر کو مکمل کرنے جیسے عملی کاموں پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بارے کافی سوچ بچار کے بعد ماضی کی تلخ باتوں کو بھلایا جا رہا ہے اور مستقبل میں پھر سے اکٹھے چلنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے امریکہ کو مکمل اعتماد میں لیا گیا ہے اور وہاں سے سرحد پار پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں پر امریکہ کو بھی تشویش ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ سے پاکستان کے تعلقات معمول کے مطابق چل رہے ہیں، تاہم پاکستان میں تعینات برطانوی سفیر جین میریٹ کی سیاسی سرگرمیوں پر سفارتی حلقوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ انکا اعتراض یے کہ برطانوی سفیر کو تو آزادی ہے کہ وہ پاکستان میں جس کو چاہے مرضی ملیں، لیکن برطانیہ میں پاکستانی سفیر سے کوئی یبرٹش عہدیدار ملنے کو تیار نہیں۔ پاکستانی سفارتی حلقوں کا اصرار ہے کہ ایسی سرگرمیاں برابری کی بنیاد پر ہونی چاہئیں۔

Back to top button