چیف جسٹس بن کر یحیٰی آفریدی کو 3 برس پہلے ریٹائر ہونا پڑے گا

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس آف پاکستان بننے کا اعزاز تو حاصل ہو گیا لیکن اس کے نتیجے میں انہیں صرف 62 سال کی عمر میں ہی بطور جج ریٹائر ہونا پڑ جائے گا حالانکہ سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 برس ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کی عمر اس وقت 59 سال ہے اور چیف جسٹس بننے پر انھیں ریٹائرمنٹ کی مقررہ عمر یعنی 65 سے تین برس قبل ہی ریٹائر ہونا پڑے گا۔ اس کی بنیادی وجہ 26 ویں آئینی ترمیم ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کا تقرر اب تین سال کے لیے ہو گا اور یہ مدت مکمل ہونے پر چیف جسٹس کو ریٹائر سمجھا جائے گا چاہے وہ 65 سال کی عمر کو نہ بھی پہنچا ہو۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کی جگہ نئے چیف جسٹس بننے والے جسٹس یحیی آفریدی نے کامن ویلتھ کے اسکالرشپ پر کیمبرج سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں یحییٰ آفریدی، جسٹس منصور شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ ایک ہی لا فرم میں پارٹنر بھی رہ چکے ہیں۔

یاد رہے کہ جسٹس آفریدی نے 3 نومبر 2007 کی ایمرجنسی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ بعد ازاں آرٹیکل چھ کے تحت بننے والی خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کا ٹرائل شروع ہوا تو انہیں اس تین رکنی بینچ کا سربراہ بنا دیا گیا۔ چنانچہ پرویز مشرف کے وکلا کی جانب سے اعتراض کیا گیا تھس کہ وہ مشرف کے اقدام کے خلاف درخواست گزار رہ چکے ہیں اس لیے وہ یہ کیس نہیں سکتے۔

اس کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی نے خود کو اس کیس سے الگ کر لیا تھا۔

کیا عمراندار ججز آسانی سے 26 ویں آئینی ترمیم کو قبول کر لیں گے؟

جسٹس آفریدی نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں اکثریتی آٹھ ججوں کے فیصلے کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور اپنا اختلافی نوٹ جاری کیا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور کے ایچیسن کالج سے حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا جب کہ انھوں نے قانون کی تعلیم برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے حاصل کی ہے۔ جسٹس آفریدی نے 1990 میں ہائی کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے پریکٹس شروع کی۔ انہوں نے سال 2004 میں سپریم کورٹ میں وکالت کا آغاز کیا۔ اس دوران وہ خیبر پختونخوا کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی عہدے پر بھی کام کرتے رہے۔ سال 2010 میں پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات ہونے سے پہلے وہ آفریدی، شاہ اور من اللہ لا فرم کا حصہ تھے۔

سال 2012 میں جب جسٹس آفریدی کو پشاور ہائی کورٹ کا مستقل جج تعینات کیا گیا تو انھوں نے اس ادارے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ہائی کورٹ میں چار سال کام کے بعد 30 دسمبر 2016 کو جسٹس آفریدی کو پشاور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا۔ پشاور ہائی کورٹ میں چھ برس کا عرصہ گزارنے کے بعد 28 جون 2018 کو انھیں سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔ جسٹس آفریدی نے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس میں فائز عیسی کی درخواست کو مسترد کیا تھا۔ تاہم حال ہی میں وہ چیف جسٹس کے ساتھ ان چار ججوں میں شامل تھے جنھوں نے مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو الاٹ کرنے کی مخالفت کی تھی۔

Back to top button