بشری اور علیمہ کے بعد کیا عمران کا قاسم اور سلیمان کارڈ چلے گا؟

عمران خان نے اپنی رہائی کے لیے دوبارہ ایک بڑی مزاحمتی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے جس کی قیادت لندن میں مقیم انکے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان کے ذمہ لگائی جا رہی ہے۔ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں اعلان کیا ہے کہ عمران خان کے دونوں بیٹے پہلے رہائی کی لابنگ کے لیے امریکہ جائیں گے اور پھر ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پاکستان آ جائیں گے۔

سیاسی حلقوں میں قاسم خان اور سلیمان خان کی مجوزہ حکومت مخالف تحریک میں ممکنہ شمولیت کے سیاست اور تحریک انصاف پر پڑنے والے اثرات کی بازگشت زور و شور سے جاری ہے۔ ایسے میں کچھ سوشل میڈیا صارفین نے موروثی سیاست پر بات کی تو کچھ نے قاسم اور سلیمان کا موازنہ بینظیر بھٹو اور مریم نواز سے کرتے ہوئے لکھا کہ دونوں نے ہی اپنے والد کی اسیری کے بعد سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اسیری کے دوران بینظیر بھٹو سیاسی طور پر متحرک ہوئی تھیں اور بعد میں انھوں نے ہی پیپلز پارٹی کی باگ دوڑ سنبھالی۔ آج ان کے بیٹے بلاول بھٹو پارٹی کے چیئرمین ہیں۔ ادھر سابق وزیر اعظم نواز شریف کیی بیٹی مریم نواز اب پنجاب کی وزیر اعلی ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسی اور مثالیں بھی موجود ہیں۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ قاسم اور سلیمان سیاسی طور پر کس طرح اور کتنے متحرک ہوں گے۔ دونوں اپنی والدہ جمائما خان کے ساتھ برطانیہ میں ہی رہائش پذیر رہے اور عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران بھی ان کا کسی قسم کا سیاسی کردار سامنے نہیں آیا۔ تاہم گزشتہ چند دنوں سے انھوں نے سوشل میڈیا پر عمران خان کی قید سے متعلق بات چیت کی ہے اور چند انٹرویو بھی دیے ہیں۔

ایسے میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا عمران خان کے بیٹے اپنے والد کی جماعت کو ایک بڑی تحریک چلانے میں مدد سے سکتے ہیں؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ ان کی ممکنہ آمد سے تحریک انصاف پر کیا اثرات پڑیں گے؟

دوسری جانب قاسم اور سلیمان کے بارے میں پہلا بیان اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی بہن علیمہ خان نے دیا تھا جب انھوں نے کہا کہ قاسم اور سلیمان نے خود کہا ہے کہ پہلے وہ امریکہ کا رخ کریں گے اور وہاں جا کر بتائیں گے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی کیا صورتحال ہے۔

علیمہ خان کے مطابق امریکہ کے بعد وہ پاکستان آئیں گے اور وہ اس احتجاجی تحریک میں اپنا حصہ لینا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد وزیر اعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناللہ خان نے مقامی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ عندیہ دیا کہ اگر عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان میں کسی قسم کی تحریک میں شمولیت اختیار کی تو انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

اس بیان پر تحریک انصاف کا ردعمل بھی سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ ’علیمہ خان نے بتایا ہے کہ قاسم اور سلیمان پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیوں کہ کئی ماہ سے ان کا اپنے والد سے رابطہ نہیں کروایا گیا ہے۔‘ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’اس بیان کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے اور کسی جمہوری معاشرے میں سیاسی رہنماوں کے اہلخانہ کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’قاسم اور سلیمان کی حفاظت کو سیاسی معاملہ نہیں بنانا چاہیے اور نہ ہی اسے خطرے میں ڈالنا چاہیے۔‘

علیمہ خان کے بیان کے بعد پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ عمران خان کے بیٹے نہ صرف پاکستان آئیں گے بلکہ وہ احتجاجی تحریک کا بھی حصہ بنیں گے۔ عمران خان اور ان کے خاندان کے قریب سمجھے جانے والے زلفی بخاری نے عمران کے بیٹوں کی احتجاجی تحریک میں شمولیت اختیار کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی پاکستان واپسی کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ زلفی بخاری کی رائے میں ’اس سے بہت فرق پڑے گا اور کارکنان کو نیا جذبہ ملے گا۔‘

تاہم تجزیہ کار ضیغم خان نے کہا ہے کہ اس وقت عمران خان کے بیٹوں کا پاکستان آنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ان کو نہیں لگتا کہ عمران خان کے بیٹوں کے پاس پاکستانی پاسپورٹ بھی ہوگا۔ ان کے مطابق ’ایسی صورتحال میں ایف آئی اے ائیر پورٹ سے ہی ان کا ویزہ منسوخ کر سکتی ہے۔‘ گرفتاری سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ محض ڈرانے اور دھمکانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔‘

پنجاب اسمبلی: اپوزیشن کے 26 معطل ارکان کے خلاف نااہلی ریفرنسز پر کارروائی کا آغاز

لیکن سینئر صحافی مظہر عباس نے ایکس پر لکھا کہ عمران کے بیٹے پہلی بار 5 اگست سے عمران خان کی رہائی کے لیے شروع ہونے والے احتجاج کا حصہ ہوں گے۔ انھوں نے لکھا کہ ’سابق وزیر اعظم کی بہن پہلے ہی صف اول میں کھڑی ہیں اور اب ان کے بیٹوں کے کردار اور مستقبل کی سیاست پر زور و شور سے چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔‘ تاہم ضیغم خان کی رائے میں سابق وزیر اعظم کے دونوں بیٹے ’سمندر پار رہتے ہوئے پاکستانیوں کو متحرک کر سکتے ہیں۔ انکے خیال میں وہ برطانوی اشرافیہ کا حصہ ہوتے ہوئے وہاں فیصلہ سازوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔‘

تاہم سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کی رائے میں اگر رکاوٹوں کے باوجود بھی وہ پاکستان آ جاتے ہیں تو یہاں کے شدید موسم اور نامساعد حالات میں ان کے لیے سیاسی تحریک چلانا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اس وقت پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر متعدد مقدمات قائم ہیں اور ’ریاست مزید بھی سخت رویہ رکھے ہوئے ہے تو ایسی جماعت کی قیادت ایک چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔‘ ان کے مطابق ’احتجاجی تحریک کا تعلق عوام کے موڈ پر بھی ہے۔ اگر روزانہ اچانک مگر تسلسل سے لوگ بڑی تعداد میں نکلتے رہیں گے تو پھر ہی کہیں یہ احتجاج رنگ لا سکتا ہے، ورنہ ایسی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی جہاں صرف لوگ 26 تاریخ کو نکلیں اور پھر 27 تاریخ کو مڑ کر ان کا پتا بھی نہ چلے کہ وہ گئے کدھر ہیں۔‘

Back to top button