جعلی ڈاکٹرز کے بعد جعلی وکیل بھی عوام کو لوٹنے لگے

پاکستان کا عدالتی نظام ایک نئے اور تشویشناک بحران سے دوچار ہے۔ پاکستان میں انسانی جانوں سے کھیلنے والے جعلی ڈاکٹروں کے بعد اب عدالتوں میں دندناتے جعلی وکیلوں نے انصاف کے پورے عمل کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ شہری انصاف اور ریلیف کے حصول کیلئے لاکھوں روپے خرچ کر کے جنہیں انصاف کا محافظ اور رکھوالا سمجھتے ہیں، وہ اکثر اوقات خود جعل ساز نکلتے ہیں۔ جس سے نہ صرف انھیں مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے بلکہ ریلیف کے حصول میں بھی ناکام رہتے ہیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کی بار کونسلز نے حالیہ عرصے میں ایسے کئی افراد کو بے نقاب کیا ہے جو برسوں تک وکیل بن کر عدالتوں میں پیش ہوتے رہے۔ کچھ کیسز میں یہ "وکیل” پندرہ سے بیس سال تک پریکٹس کرتے رہے اور جج صاحبان تک انہیں جانتے تھے، مگر حقیقت میں ان کے پاس نہ ڈگری تھی اور نہ ہی بار کونسل کا لائسنس۔ تاہم اب پے در پے ایسے واقعات سامنے آنے کے بعد بارکونسلز نے وکلاء کا لبادہ اوڑھے ان کالی بھیڑوں کو انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے سابق صدر ریاست علی آزاد کے مطابق جعلی وکیل دو اقسام کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم ان افراد کی ہے جو جعلی ڈگری اور لائسنس بنا کر پریکٹس کرتے ہیں، جبکہ دوسری قسم وہ ہے جو صرف وکیل کا یونیفارم پہن کر خود کو ایڈووکیٹ ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بار کونسلز ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا اختیار رکھتی ہیں اور ان پر فوجداری مقدمات بھی قائم کیے جا سکتے ہیں۔
ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے اس مسئلے کو عوام اور عدلیہ دونوں کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ جعلی وکیل نہ صرف لوگوں سے مالی دھوکہ دہی کرتے ہیں بلکہ وکالت کے وقار اور عدلیہ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف پنجاب بار کونسل اب تک تقریباً دو ہزار جعلی وکلا کو بے نقاب کر چکی ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’ماضی میں ڈگری اور شناخت کی تصدیق کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے یہ عناصر بارز تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے تھے، تاہم اب ڈگری ویریفکیشن، بایومیٹرک سسٹم اور سخت جانچ پڑتال کے بعد ان کے لیے یہ راستہ تقریباً بند کر دیا گیا ہے۔‘
حافظ احسان کے مطابق اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ضروری ہے کہ ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس بنایا جائے جس تک عوام اور عدلیہ دونوں کی رسائی ہو۔ اس کے علاوہ ڈگری اور لائسنس کی سخت جانچ پڑتال کا نظام بنایا جائے اور عوامی آگاہی مہم کے ذریعے شہریوں کو شعور دیا جائے کہ کسی بھی وکیل کو ہائر کرنے سے پہلے اس کا بار ریکارڈ اور انرولمنٹ نمبر لازمی چیک کریں۔قانونی ماہرین نے بھی شہریوں کو مشورہ دیا کہ وکیل کی خدمات حاصل کرنے سے قبل متعلقہ بار کونسل سے اس کی تصدیق ضرور کریں۔ناقدین کے مطابق عدالتوں میں جعلی وکلاء کا معاملہ صرف مالی نقصان تک محدود نہیں بلکہ انصاف کے پورے نظام کی شفافیت اور ساکھ سے جڑا ہوا ہے۔ اگر جعلی وکیلوں کے خلاف سخت اور مستقل اقدامات نہ کیے گئے تو یہ رجحان نہ صرف عدلیہ کو کمزور کرے گا بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مزید مجروح کر دے گا۔
