ٹرمپ سے جوتے کھانے کے بعد مودی کا چین سے یاری لگانے کا فیصلہ

پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد سے امریکی صدر ٹرمپ کی ناراضی کا شکار بھارتی وزیر اعظم مودی نے واشنگٹن کی جانب سے اپنائے گئے توہین آمیز سلوک کے ردعمل میں فیصلہ کیا ہے کہ وہ ٹرمپ پر آلو رکھنے کے لیے اپنے روایتی دشمن چین کا دورہ کریں گے۔ مودی کا دورہ دہلی اور امریکا کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران بیجنگ سے سفارتی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ پچھلے 7 برس کے دوران یہ پہلا موقع ہوگا کہ بھارتی وزیراعظم چین جائیں گے جسے وہ انڈیا کا ازلی دشمن گردانتے ہیں۔ یاد رہے کہ مودی نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں شکست کی بڑی وجہ بھی چین کو قرار دیا تھا جس کے جے سی ٹین تھنڈر جنگی جہازوں نے رافیل طیارے مار گرانے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔
بھارتی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ مودی شنگھائی تعاون تنظیم کے کثیر جہتی سربراہی اجلاس کیلئے چین جائیں گے، جو 31 اگست سے شروع ہو رہا ہے۔ یہ اعلان صدر ٹرمپ کے اس حکمنامے کے فوری بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے روس سے تیل خریدنے کی وجہ سے انڈیا پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد کرتے ہوئے اسے 50 فیصد تک بڑھا دیا ہے جبکہ پاکستان پر صرف 19 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ انڈیا نے اس فیصلے کو غیرشفاف اور غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے اپنے قومی مفاد میں ضروری اقدامات اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس نے نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے بھارت پر ٹیرف 59 فیصد تک بڑھادیا ہے، مودی ہمت دکھاؤ ، جواب دو، ملک کی مسلسل بے عزتی ہورہی ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ“ وزیر اعظم مودی ٹرمپ کی بار بار کی دھمکیوں کے باوجود ان کے خلاف اس لیے نہیں بولتے کیونکہ امریکا میں مودی کے کھرب پتی بزنس میں دوست اڈانی کے خلاف کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں۔ اڈانی نے پچھلی سال الیکشن مہم کے دوران مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو جتوانے کے لیے اربوں روپے لٹائے تھے۔ اسی لیے راہول گاندھی نے صدر ٹرمپ کی مودی سے ناراضی کے بعد انہیں دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ اڈانی کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کی ڈیل میں ہونے والی کرپشن کو بے نقاب کیا جائے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے مابین تعلقات پاک بھارت جنگ کے بعد سے خراب ہوئے۔ وجہ یہ ہے کہ مودی سرکار نے پاکستان کے ہاتھوں اپنے جنگی جہاز گرائے جانے کے بعد امریکی انتظامیہ سے رابطہ کیا جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کروا دی، لیکن بعد میں مودی نے ٹرمپ کا یہ دعوی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ جنگ بندی انہوں نے کروائی تھی۔ چنانچہ صدر ٹرمپ مودی سے ناراض ہیں اور روزانہ کسی نہ کسی بہانے انڈیا کو انگلی کرواتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد ہونے کے بعد کانگریس رہنماؤں نے سوال کیا ہے کہ مودی امریکی صدر ٹرمپ کو جواب دینے کی بجائے خاموش کیوں ہیں۔ انہوں نے مودی کو ہمت دکھانے ہوئے صدر ٹرمپ کے اقدامات کا جواب دینے کا مشورہ دیا۔
کانگریس کے مرکزی رہنما اور اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ مودی اس لیے خاموش ہیں کہ صدر ٹرمپ اڈانی، مودی اور روسی تیل کے معاہدوں میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم مودی کی خاموشی اس بات کی غماز ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے مفادات کا دفاع کرنے میں آزاد نہیں ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب راہول گاندھی نے امریکی دھمکیوں کو اڈانی گروپ کے معاملے سے جوڑا ہے، اور کرپشن کے الزامات عائد کیے ییں۔
چنانچہ بھارتی اپوزیشن کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر نریندرا مودی نے سات برس میں پہلی مرتبہ چین کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو کئی سالوں میں اپنے سب سے سنگین بحران کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھارت سے درآمد شدہ اشیا پر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹیرف عائد کئے ہیں اور نئی دہلی کی روسی تیل کی خریداری کے لئے مزید غیر واضح جرمانے کی دھمکی دی ہے۔ ادھر انڈیا نے بھی پہلی بار ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل خریدنے پر ٹیرف میں اضافے کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’امریکہ نے خود انڈیا کو روسی گیس درآمد کرنے کی ترغیب دی تھی۔‘
عمران خان کو جیل میں ڈالنے والوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے آن لائن پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر سوموار کو لکھا تھا کہ ’انھیں (انڈیا کو) اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ یوکرین میں روسی جنگی مشین کتنے لوگوں کو مار رہی ہے۔‘ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا جب انڈیا اور امریکہ کے درمیان تجارتی محصولات پر تنازع چل رہا ہے اور امریکی صدر انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان پہلے ہی کر چکے تھے تاہم اب انھوں نے ٹیرف بڑھاتے ہوئے 50 فیصد کر دیا ہے۔ ایسے میں بھارتی وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کم از کم چین کے ساتھ تو سفارتی تعلقات بہتر کرے چونکہ پاکستان کے ہاتھوں وہ پہلے ہی جنگ میں شکست اٹھا چکا ہے۔
