اپنی چھٹی کے بعد گنڈاپور نےعمران خان کی جوابی چھٹی کروا دی

ایک وکیل کے ذریعے بے عزت کر کے ایوان وزیر اعلیٰ سے نکالے جانے والے علی امین گنڈاپور نے پی ٹی آئی سے لاتعلقی اختیار کر لی۔ کچھ عرصہ قبل تک سیاسی منظر نامے پر چھائے رہنے والے خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور منصب سے ہٹائے جانے کے بعد سے سیاسی منظرنامے سے مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں۔ سرکاری تقریبات کے ساتھ ساتھ وہ سیاسی سرگرمیوں میں بھی کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ اب تو افواہیں گرم ہیں کہ انہوں نے پی ٹی آئی کی فنڈنگ روکنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کو چھوڑنے یا تحریک انصاف میں فارورڈ بلاک بناکر آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ پارٹی قیادت سے اپنی ہتک کا بدلہ لیا جا سکے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے جوابی وار کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کو23 رکنی سیاسی کمیٹی سے بے دخل کر دیا ہے۔ جس کے بعد گنڈاپور کی پارٹی سے راہیں جد کرنے کی افواہیں حقیقت کا روپ اختیار کرتی نظر آتی ہیں۔
مبصرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اپنی ریڈ لائن قرار دینے والے علی امین گنڈاپور اب ان سے اتنے لا تعلق ہو چکے ہیں کہ وہ عمران خان کی رہائی کیلئے کوئی اقدامات کرنا تو کجا وہ اس حوالے سے منعقدہ احتجاجی سرگرمیوں اور مشاورت کا حصہ بھی نہیں بنتے۔ گنڈاپور کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پشاور میں تین بڑے اجتماعات منعقد ہوئے جن میں سے کسی ایک میں بھی علی امین گنڈا پور شریک نہیں ہوئے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی خراب صحت اور ان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اسلام آباد سمیت پشاور میں پی ٹی آئی رہنمائوں کے کئی مشاورتی اجلاس ہوئے مگر سابق وزیراعلیٰ ان اجلاسوں میں بھی نظر نہیں آئے۔ اسی طرح گزشتہ اتوار کو پشاور میں ہونے والے بڑے بڑے احتجاجی جلسے میں بھی گنڈاپور شرکت نہیں ہوئے۔ اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ علی امین گنڈاپور نہ تو احتجاجی جلسوں یا ریلیوں میں شریک ہو رہے ہیں اور نہ ہی کسی مشاورتی عمل کا حصہ بن رہے ہیں۔ گنڈاپور کی پارٹی قیادت سے کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انھوں نے پی ٹی آئی قیادت سے رابطے بھی محدود کر دئیے ہیں اب تو وہ اکثریتی پارٹی رہنماؤں کی کالز کا جواب تک نہیں دیتے ہیں۔
سابق وزیراعلیٰ گنڈا پور کی مسلسل غیرحاضری اور پارٹی سے لاتعلقی سے سوالات جنم لے رہے ہیں اور پارٹی قیادت کے علاوہ عام ورکرز بھی علی امین گنڈاپور کی پارٹی سرگرمیوں میں عدم شرکت کے باعث تشویش میں مبتلا ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ علی امین گنڈاپور اس وقت نہ تو عمران خان کے لیے اہم ہے نہ ہی ورکرز کے لیے ان کی کوئی حیثیت باقی ہے، جس کا ادراک خود سابق وزیراعلٰی کو بھی ہے۔ اسی لئے انھوں نے بچی کھچی عزت اور ساکھ کو بچانے کیلئے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ویسے بھی خیبرپختونخوا میں جنید اکبر اور اسد قیصر گروپس نے پی ٹی آئی کے معامالات اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہیں اس لئے علی امین گنڈاپور کے متحرک ہونے کا فی الحال کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔
تاہم پی ٹی آئی کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سے اختلافات کی وجہ سے پارٹی معاملات سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے اسی وجہ سے اقتدار سے بے دخلی کے بعد وہ نہ تو عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گئے ہیں اور نہ ہی جیل کے باہر کسی احتجاج یا دھرنے میں شریک ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیراعلیٰ کا عہدہ واپس لیے جانے کے بعد علی امین گنڈا پور نے پشاور کے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کی اور نہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں حاضر ہوئے ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما گنڈاپور کے پارٹی قیادت سے اختلافات کی تردید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان کے مطابق علی امین گنڈاپور کے پاس فی الوقت پارٹی کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔اس لیے وہ اپنے حلقے میں موجود ہیں۔تاہم سابق وزیراعلیٰ پارٹی کے سینیئر ورکر ہیں۔ وہ تمام مشاورت میں شامل رہتے ہیں اور پارٹی کے اندر کوئی اختلافات نہیں ہیں۔‘بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کی تحریک کے لیے سب پارٹی قائدین اور ورکرز ایک پیج پر ہیں۔ کسی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ دوسری طرف علی امین گنڈا پور کے ترجمان فراز مغل کے بقول سابق وزیراعلیٰ پارٹی اور حکومتی معاملات کی دوڑ میں حلقے کے لوگوں سے دور ہو گئے تھے تاہم اب ان کی ساری توجہ اپنے حلقے پر ہے۔‘ علی امین گنڈا پور نے پہلے بھی عمران خان کی آواز پر لبیک کہا ہے اور اب بھی جب انہیں کوئی ذمہ داری ملے گی تو وہ سب سے آگے ہوں گے۔‘
تاہم گنڈاپور کے قریبی حلقوں کے مطابق علی امین گنڈاپور عمران خان اور پارٹی قیادت سے شدید ناراض ہیں، اسی وجہ سے وہ عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے رہے۔ ان کی سرگرمیاں اس وقت صرف اپنے آبائی ضلع تک محدود ہیں اور پارٹی سے ان کا رابطہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کی جانب سے گنڈاپور کو جس طرح بغیر کسی مشاورت کےایک وکیل کی جانب سے اعلان کے ذریعے وزارتِ اعلیٰ سے ہٹایا گیا، اسے وہ اپنی بے عزتی سمجھ رہے ہیں۔ اسی لئے ان کے دوبارہ پارٹی میں سرگرم ہونے کے امکانات معدوم ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ اپنی سیاسی مصروفیات سے وقت نکال کر اپنے مشاغل پورے کر رہے ہیں۔ وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنے گھوڑوں کے فارم میں اکثر دکھائی دیتے ہیں جبکہ کبوتر اور پرندوں کے ساتھ بھی وقت گزارتے نظر آتے ہیں۔  وزیراعلیٰ ان دنوں زیادہ وقت اپنے فارم پر گزارتے ہیں-

Back to top button