عمران کے بعد حسینہ واجد نے بھی ٹرمپ سے اقتدار کی امید لگا لی

پی ٹی آئی اور بنگلہ دیش کی عوامی لیگ، دونوں کے بیشتر رہنما اور سپورٹرز یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ اقتدار میں واپس آنے والے ٹرمپ ان کی لیڈر شپ کو دوبارہ گود لے لیں گے اور ان کا دور پلٹ آئے گا۔ یوں حالات اور خواہشات نے حسینہ واجد اور عمران خان کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا ہے۔ حالانکہ کم از کم عمران خان کے لیے زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں اور مستقبل قریب میں ان کے اڈیالہ جیل سے باہر آنے اور اقتدار میں واپسی کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے عمراندار ہو جانے والے صحافی مائیکل کوگل میںن نے اپنے ایک حالیہ تجزیے میں یوتھیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

 ٹرمپ کی جیت سے جڑی پی ٹی آئی کی امیدوں سے متعلق مائیکل کوگل مین لکھتے ہیں ’’ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی مذمت کی اور کہا کہ ملک مجموعی طور پر افراتفری کی حالت میں ہے۔ ’’اسی طرح جیل میں قید سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے حامیوں کو امید تھی کہ ٹرمپ، خان کی حالت زار پر بھی پوسٹ کرنے کا کچھ وقت نکالیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے باوجود سوا چھ لاکھ پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی میں شامل، خان کے بہت سے حامیوں کا خیال ہے کہ دوسری بار اقتدار میں آنے والے ٹرمپ، سابق وزیر اعظم عمران خان کی وکالت میں دلچسپی لیں گے۔ کیوں کہ اس سے پہلے جب ٹرمپ صدر تھے تو انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان سے کئی بار ملاقات کی تھی اور انہیں اپنا ’’اچھا دوست‘‘ قرار دیا تھا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ ملاقاتیں دوستی سے زیادہ مفاد سے وابستہ تھیں۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو افغانستان سے امریکی انخلا کا عمل شروع کرنے کے لیے عمران خان کی مدد درکار تھی۔ اب منظرنامہ تبدیل ہوچکا ہے‘‘۔ کوگل مین کے بقول ’’ٹرمپ کی اپنی انتخابی مہم کے دوران خان پر خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور پاکستان، ممکنہ طور پر ان کی ترجیحات کی فہرست میں نہیں ہوں گے‘‘۔

لیکن خوابوں کی دنیا میں رہنے والے پی ٹی آئی کے بعض رہنما اور خاص طور پر اوورسیز چیپٹر خود فریبی سے باہر نکلنے کو تیار نہیں اور آنکھیں موندے ’’عمران اور ٹرمپ بھائی بھائی‘‘ کے نعرے لگانے میں مصروف ہے۔ اس ضمن میں زلفی بخاری، شہباز گل اور حماد اظہر جیسے پی ٹی آئی رہنماؤں نے تو اپنے کارکنوں کو ’’ٹرمپ کی بتّی‘‘ کے پیچھے لگا ہی رکھا ہے۔ سابق صدر عارف علوی بھی پیچھے نہیں رہے۔

پاکستان کے اس معروف دندان ساز نے ٹرمپ کے نام اپنے خط میں چاپلوسی کی کلاسک مثال پیش کرتے ہوئے فرمایا ’’آپ کی جیت نے موجودہ اور آنی والے آمروں پر کپکپی طاری کردی ہے۔ میں پاکستانی عوام کی جانب سے مبارک باد پیش کرتا ہوں، ہم جمہوری قوموں کے طور پر مسلسل تعاون کے منتظر ہیں۔ آپ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں، آپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں‘‘۔

دوسری جانب عوامی غیض و غضب پر ملک سے فرار ہونے والی بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم حسینہ واجد کی پارٹی عوامی لیگ نے بھی ’’بُت‘‘ سے امیدیں لگا رکھی ہیں۔ پی ٹی آئی سپورٹرز کی طرح حسینہ واجد کے پیروکاروں کو آس ہے کہ ٹرمپ اقتدار سنبھالتے ہی ان کی مفرور لیڈر کی واپسی کا راستہ ہموار کردے گا۔ خاص طور پر انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کی جانب سے بنگلہ دیش کے ہندوؤں سے ہمدردی کے اظہار نے عوامی لیگ کی امیدوں کو بڑھاوا دیا ہے۔ لیکن وہ بھی اس حقیقت کو فراموش کیے بیٹھے ہیں کہ ٹرمپ کی یہ ہمدردی حسینہ واجد کی حمایت میں نہیں، بلکہ بھارت کو خوش کرنے کے لیے تھی جسے امریکہ نے اپنا اسٹریٹجک پارٹنر بنایا ہوا ہے۔

امریکہ میں عمران خان کے پیروکاروں کی طرح ریاست مشی گن میں حسینہ واجد کے کارندوں نے بھی ’’عوامی یوتھ الائنس‘‘ بنا رکھا ہے جو دن رات اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بنگلہ دیش میں ڈاکٹر یونس کی زیر نگرانی چلنے والی عبوری حکومت کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے۔ عوامی لیگ کے حامی ان بنگلہ دیشی نژاد امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ بھارت کی خوشنودی کے لیے اس کی ایجنٹ حسینہ واجد کی مدد کرے گا۔ ٹرمپ کی جیت پر حسینہ نے بھی ٹرمپ کو مبارکباد کا خط لکھا ہے۔ لیکن وہ چاپلوسی میں علوی کو شکست نہیں دے سکی۔

Back to top button