جام کمال کے بعد اب قدوس بزنجو کی فراغت کا منصوبہ

مرکز میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل کئے جانے کے بعد بلوچستان میں ایک بار پھر سیاسی تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ وزیراعظم کی فراغت کے فورا بعد وزیراعلی بلوچستان کی بھی چھٹی کروا دی جائے گی۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں کا جو خفیہ معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق مرکز میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد بلوچستان میں بھی وزیر اعلی تبدیل کیا جائے گا۔

چانچہ نئی سیاسی صف بندیوں کے بعد باپ پارٹی کے تیسرے وزیر اعلیٰ کی آمد کی باز گشت سنائی دے رہی ہے اور دھڑے بندی اور سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں میر عبدالقدوس بزنجو کی چھٹی یقینی ہے۔ بلوچستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے باپ پارٹی سے خفیہ معاہدے کے بعد جمیعت العلماءاسلام ف وزیر اعلیٰ بلوچستان کی حمایت چھوڑ کر ان کے مخالف جام کمال کے ساتھ مل جائے گی اور یوں قدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی۔ اس مہم جوئی میں قدوس بزنجو سے بغاوت کرنے والے میر ظہور بلیدی کی بجائے دوبارہ جام کمال خان یا میر سلیم کھوسہ نئے وزیر اعلیٰ بلوچستان ہوسکتے ہیں

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی رضا الرحمان کا کہنا ہے کہ اس وقت بلوچستان عوامی پارٹی دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے جن میں سے ایک کی قیادت جام کمال کر رہے ہیں جبکہ دوسرے گروپ کی سرپرستی وزیر اعلیٰ قدوس بزنجو کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے جو صورتحال بن گئی ہے اس میں بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ اراکین اہمیت اختیار کر چے ہیں جن میں سے تین کے بارے میں یہ بتایا جارہا ہے کہ وہ جام کمال کے ساتھ ہیں جبکہ دو قدوس بزنجو کے ساتھ۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ جام کمال خان اور تحریک انصاف کے پارلیمنی رہنما سردار یارمحمد رند کی، جو کہ عمران خان سے ناراض ہیں،

سابق صدر آصف زرداری سے ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جام کمال خان کی جے یو آئی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواسع سے بھی ملاقات ہوئی ہے جبکہ سردار یارمحمد رند کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی۔ جام کمال کی یہ کوشش تھی کہ قومی اسمبلی کے اراکین کے ذریعے بلوچستان میں بھی تبدیلی کے لیے کسی کھیل کا آغاز کیا جائے۔ انکی خواہش یے کہ جس طرح قدوس بزنجو اور چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے جام کمال کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا کر دھچکا دیا تھا اسی طرح وہ ان دونوں کو دھچکہ دیں۔ انکا واحد مقصد قدوس بزنجو سے بدلہ لینا یے خواہ وزیر اعلیٰ کوئی بھی شخص بن جائے۔

تاہم جب تک قدوس بزنجو کو جے یو آئی اور بی این پی سمیت متحدہ اپوزیشن کے 23 اراکین کی حمایت حاصل رہے گی، انہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ انھیں نواب اسلم رئیسانی اور نواب ثناءاللہ زہری کی بھی حمایت حاصل ہے۔ لیکن اب اطلاعات ہیں کہ باپ پارٹی کے پانچوں ایم این ایز کی اپوزیشن جماعتوں سے خفیہ ڈیل کے بعد یہ طے ہو گیا ہے کہ جمیعت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی عمران خان کی رخصتی کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلی کو بھی تبدیل کر دیں گی۔

حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے ماحول اگرچہ اسلام آباد اور لاہور میں گرم ہے لیکن تحریک عدم اعتماد کے تناظر میں اچانک بلوچستان کے حوالے سے بھی چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ یہ چہ مگوئیاں اسلام آباد میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ جام کمال اور تحریک انصاف کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی رہنما سردار یارمحمد رند کی حزب اختلاف کے رہنماﺅں سے ملاقاتوں کے بعد سے شروع ہوئیں۔ تاہم ان میں شدت سینیئر وزیر میر ظہور بلیدی کی وزیر اعلیٰ میر قدوس بزنجو سے بغاوت کے بعد آئی۔

بلیدی نہ صرف بلوچستان عوامی پارٹی میں دوبارہ جام کمال دھڑے کا حصہ بن چکے ہیں بلکہ انھوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ باپ کے اراکین پارلیمنٹ اور اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے قدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔

صحافی محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

ظہور بلیدی کا کہنا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماﺅں، اراکین اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کی قائدین سے مشاورت کے بعد قدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا ‘بلوچستان میں قدوس بزنجو کے تباہ کن طرز حکومت کے پیش نظر BAP کے مرکزی و صوبائی قائدین، ممبران سینٹ،صوبائی و قومی اسمبلی اوراتحادیوں کی مشاورت سے قدوس بزنجو کی بد عنوان اور نااہل حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی جو بلوچستان میں بدامنی، بے چینی اور بری طرز حکمرانی کا موجب بن گئی ہے۔‘

دوسری جانب باپ میں جام کمال کے حامی سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ہم حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں کررہے ہیں بلکہ حکومت کو جگا رہے ہیں کہ اس کی جو آئینی اور قانونی ذمہ داریاں ہیں وہ پوری کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت لوگوں کے مسائل کے حل،دھشت گردی کی روک تھام اور ترقی کے حوالے سے ناکام رہتی ہے تو ہم اس کے خلاف تمام آپشن استعمال کرسکتے ہیں۔

After Jam Kamal now Qudus Bizenjo’s vacation plan Urdu News

Back to top button