جسٹس جہانگیری کے بعد کن ججز کی چھٹی ہونے والی ہے؟

 

 

 

جعلی ڈگری کی بنیاد پر برطرفی کا سامنا کرنے والے عمرانڈو جج جسٹس طارق جہانگیری کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ پنشن کے اہل ہوتے ہی آئندہ ماہ ریٹائر ہونے والے تھے۔ تاہم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے ان کی بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ پانچ سالہ مدتِ ملازمت مکمل ہونے سے محض 13 روز قبل ہی انہیں عہدے سے فارغ کر دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں جسٹس طارق جہانگیری نہ صرف بعد از ریٹائرمنٹ پنشن اور دیگر مراعات سے محروم ہو گئے بلکہ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے مستعفی ہونے کا ان کا بیانیہ بھی اپنی موت آپ مر گیا ہے۔

 

روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس طارق محمود جہانگیری آئندہ ماہ کے اوائل میں ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے تھے تاکہ وہ بعد از ریٹائرمنٹ پنشن کے فوائد حاصل کرسکیں، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی ڈگری کی وجہ سے ان کی بطور جج 5 سالہ مدت کی تکمیل سے قبل ہی 18دسمبر کو ان کی تقرری کالعدم قرار دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد بار کے ارکان چاہتے تھے کہ طارق محمود جہانگیری پنشن کے حصول کے لیے لازمی سمجھی جانے والی کم از کم 5 سال کی سروس مکمل ہوتے ہی ریٹائر ہوں۔ بحیثیت جج ان کی 5 سالہ مدت 31 دسمبر کو مکمل ہو رہی تھی، جس کے بعد وہ یکم جنوری 2026 سے پنشن کے اہل ہو جاتے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے بار ارکان نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے بھی رابطہ کیا تھا اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ طارق محمود جہانگیری کم از کم مطلوبہ مدت مکمل کرنے کے فوراً بعد، یعنی یکم جنوری کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ تاکہ انھیں ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن مل سکے کیونکہ قواعد کے مطابق جو جج 5 سالہ سروس مکمل ہونے سے پہلے استعفیٰ دے کر عہدہ چھوڑ دے یا ریٹائر ہو جائے وہ پنشن فوائد کا حقدار نہیں ہوتا۔ ذرائع کے مطابق اسی دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ جسٹس طارق جہانگیری نے یقین دہانی کے طور پر پوسٹ ڈیٹڈ استعفیٰ وزیر قانون کو دے دیا تھا جس پر 31دسمبر کی تاریخ درج تھی۔ تاہم اس سے قبل ہی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی چھٹی کروا دی ہے جس سے وہ پینشن اور دیگر بعد از ریٹائرمنٹ مراعات سے محروم ہو گئے ہیں۔

 

خیال رہے کہ 18دسمبر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے جعلی ڈگری کیس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کو جج بننے کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ طارق محمود جہانگیری کو متعدد مواقع دیے گئے کہ وہ اپنا جواب اور متنازع تعلیمی اسناد پیش کریں لیکن وہ اپنا جواب اور تعلیمی اسناد پیش کرنے میں ناکام رہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیصلے میں کہا تھا کہ طارق محمود جہانگیری جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج تعینات ہوئے تو اس وقت درست اور قابل قبول ایل ایل بی ڈگری کے حامل نہیں تھے۔  اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی منظوری دے دی تھی۔

ذرائع کے مطابق جسٹس طارق محمود جہانگیری کی چھٹی کے بعد بانی تحریک انصاف عمران خان کے لیے سیاسی ہمدردیاں رکھنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے کچھ اور جج حضرات نے بھی عہدوں سے مستعفی ہونے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، لیکن وہ یہ قدم تب تک نہیں اٹھائیں گے جب تک ان کی مدتِ ملازمت اتنی نہ ہو جائے کہ وہ تاحیات پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے اور اپنے خاندان کیلئے سہولتوں کے حق دار بن سکیں۔روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ متعلقہ ججز کیلنڈر پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ صرف تب استعفیٰ دیں جب وہ کم از کم پانچ سالہ سروس مکمل کر لیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وہی عمراندار ججز ہیں جنہوں نے اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف بھی علم بغاوت بلند کر رکھا ہے۔تاہم بغاوت کرنے سے پہلے یہ جج حضرات اپنا مستقبل محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔

 

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہائی کورٹ کا کوئی جج صرف اسی صورت پنشن اور دیگر بعد از ریٹائرمنٹ سہولتوں کا اہل بنتا ہے جب اس نے بینچ پر کم از کم پانچ سال کیلئے خدمات سرانجام دی ہوں۔ یہ مدت پوری کیے بغیر استعفیٰ دینے کا مطلب ان سہولتوں سے محرومی ہے لہذا عمراندار ججز استعفوں کے لیے مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق، کچھ ججز جو قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر غور کر رہے ہیں، انہوں نے عدالتی انتظامیہ کے سینئر افسران سے مشاورت کی ہے تاکہ یہ جان سکیں کہ کیا ایسی کوئی نظیر موجود ہے کہ کسی جج کو پانچ سال مکمل کیے بغیر پنشن دی گئی ہو۔  اطلاعات کے مطابق، انہیں ایک ایسا کیس بتایا گیا لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کے معاملے میں یہ مثال لاگو نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسے جج کا کیس ہے جنہوں نے ہائی کورٹ میں ترقی پانے سے قبل ضلعی عدلیہ میں طویل عرصہ خدمات انجام دی تھیں۔ عدالتی نظام میں ان جج صاحب کی مجموعی سروس کو مدِنظر رکھتے ہوئے انہیں بعد از ریٹائرمنٹ سہولتیں دے دی گئیں حالانکہ انہوں نے ہائی کورٹ بینچ پر پانچ سال پورے نہیں کیے تھے۔

جعلی ڈگری والے جسٹس جہانگیری عدالتی جنگ ہار گئے

ایک قانونی ذریعے نے انکشاف کیا کہ عدالتی افسران میں استعفے دینے پر غور کرنے والے جج حضرات پر واضح کیا ہے کہ ایسی نظیر ان ججز پر لاگو نہیں ہوگی جو براہِ راست بار یا دیگر ذرائع سے ہائی کورٹ میں آئے ہوں اور ان کے پاس کوئی سابقہ عدالتی سروس نہ ہو۔عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ یا کسی اور عدالت کے کسی بھی جج نے تاحال باضابطہ استعفیٰ نہیں دیا، تاہم اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے وہ ججز مستعفی ہو سکتے ہیں، جو اس وقت عمران خان کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے ہوئے اپنے ہی چیف جسٹس کے خلاف مختلف کیسز دائر کر رہے ہیں۔

Back to top button