خیبر پختونخواہ کے بعد دہشت گرد بلوچستان میں بھی مضبوط ہونے لگے

خیبرپختونخوا کے بعد بلوچستان میں عسکریت پسندی اپنے پنجے گاڑتی دکھائی دیتی ہے۔ جہاں ایک طرف دہشتگردوں نے مختلف تخریب کاری کے واقعات سے صوبے میں بدامنی پھیلا رکھی ہے وہیں وہ عوام کی کسمپرسی اور غربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بے بس نوجوانوں کو کھلے عام عسکریت پسندی کی طرف مائل کرتے نظر آتے ہیں۔ بلوچ نوجوانوں میں ریاست مخالف عسکریت پسندوں بارے سافٹ کارنر پیدا ہونے کی وجہ سے بلوچستان میں شرپسندوں کو قابو کرنا سیکورٹی اداروں کیلئے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے بلوچستان میں کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے پہاڑوں سے اتر کر شہری علاقوں میں گشت کرنے اور قومی شاہراہوں پر ناکہ لگانے جیسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اب تو شدت پسند کھلے عام دندناتے ہوئے عوام کو احکامات نہ ماننے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قومی شاہراہوں پر ناکہ لگانے، نجی تقریبات پر دھاوا بولنے، سیکورٹی اہلکاروں پر حملہ کرنے، ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کے متعدد واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور عسکری اداروں کو مل بیٹھ کر اس معاملے پر غور کرنا چاہیے کیونکہ بلوچستان میں امن و امان کے مسائل پہلے ہی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ اب مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔
سابق سیکریٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کے مطابق بلوچستان کا مسئلہ صرف دہشت گردی یا فوجی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ اس میں سیاسی اور اقتصادی عوامل بھی شامل ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو سیاسی تحریکیں چل رہی ہیں ان میں سیاسی عناصر اور پاکستان مخالف عناصر کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ممکن نہیں۔اُن کے بقول "ان تمام عناصر کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جانا چاہیے۔”
اُن کا کہنا تھا کہ "میری رائے میں بلوچستان کا مسئلہ بہت نازک ہے، یہ کسی لوہار کا کام نہیں ہے بلکہ سنار کی پیچیدہ کاریگری جیسا معاملہ ہے جسے بڑی احتیاط سے حل کرنا چاہیے۔”اس کے لیے پاکستان اور بلوچستان کے سینئر سیاست دانوں کو اکٹھا ہو کر ایسی تنظیموں سے بات کرنا ہو گی جنہوں نے اپنا سیاسی چہرہ بنا رکھا ہے۔اُن کے بقول اگر یہ سمجھا جائے کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف فوج یا صرف سیاست دان ہی حل کر سکتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے تعاون کے بغیر کام کریں تو یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہو گا۔
اُن کے بقول بلوچستان کے حقیقی نمائندوں کو حکومت دی جائے اور وفاق کے فراہم کردہ وسائل کو حقیقی معنوں میں عوام پر خرچ کیا جائے تب ہی اس مسئلے کا دیرپا حل ممکن ہو گا۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار رشید بلوچ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کی جانب سے کارروائیوں میں اضافے سے بظاہر لگتا ہے کہ ان کی افرادی قوت اور وسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ رشید بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران صوبے میں بد امنی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2024 میں بی ایل اے کی جانب سے بیک وقت 18 سے 20 مقامات پر حملے کیے گئے۔اس سے قبل مچھ میں بھی حملہ آور دن کی روشنی میں شہر میں داخل ہوئے اور گلی محلوں میں گھومتے پھرتے دکھائی دیے۔
زہری واقعے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ یہ واقعہ سیکیورٹی لیپس کی وجہ سے رونما ہو ا ہو تاہم بلوچستان کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے لیے ہر جگہ سیکیورٹی فراہم کرنا ناممکن ہے۔ان کے بقول بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں مسلح تنظیموں کو پہاڑی سلسلے کے باعث کافی سپورٹ ملتی ہے۔
بلوچ قوم پرست تنظیموں کی افرادی قوت بڑھتی کیوں جا رہی ہے؟
تاہم بعض دیگر مبصرین کے مطابق بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شرپسندانہ کارروائیاں سیکیورٹی کی ناکامی نہیں تاہم ان میں انٹیلی جینس ناکامی کا کچھ عنصر ضرور شامل ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پے در پے بدامنی کے واقعات کی بنیادی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عسکری پسند تنظیموں نے اپنی کارروائیوں کا طریقۂ کار تبدیل کردیا ہے اور ان کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کو انگیج کرنے کی ایک کوشش کی گئی ہے کیوں کہ بیک وقت صوبے کے مختلف علاقوں میں حملے کیے جا رہے ہیں۔انہو ں نے مزید کہا کہ گو کہ بلوچستان میں قیادت اور سیاسی خلا برقرار ہے جس کا فائدہ علیحدگی پسند تنظیموں کو ہو رہا ہے ۔ عوام جو پہلے ان تنظیموں کو اسپیس نہیں دے رہی تھی اب شاید وہ عوام کے قریب آنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ جس کہ وجہ سے سیکیورٹی فورسز کو ایسے عناصر کو قابو کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
