مریم نواز کے بعد حنا پرویز بٹ بھی سستی شہرت کی بھوک کا شکار

سستی شہرت حاصل کرنے کی بھوک میں مبتلا وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی دیکھا دیکھی اب ان کی ٹیم کے دیگر اراکین بھی اسی راستے پر چل نکلے ہیں۔ اب مریم نواز کی تقلید کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی رکن اور مریم نواز کی قریبی ساتھی حنا پرویز بٹ نے بطور چیئرپرسن پنجاب وومن پروٹیکشن اتھارٹی جنسی زیادتی کا شکار خواتین کے گھروں کے دورے کرتے ہوئے انکی ویڈیو بنوا کر سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے مارکیٹ کرنا شروع کر دی ہیں، لہذا سوشل میڈیا پر انکی چھترول کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ حنا پرویز بٹ کی ٹیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی جانے والی ویڈیوز میں جنسی ذیادتی کا شکار خواتین کے گھر، محلے اور اہل علاقہ بھی دکھائے جاتے ہیں جبکہ ایکس اکاؤنٹ پر انکے شہر اور علاقے کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق حنا بٹ کا یہ عمل غیر قانونی ہے کیونکہ اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے تحت جنسی زیادتی کا شکار خاتون یا اس کے خاندان کی شناخت ظاہر کرنا غیر قانونی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے حنا بٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انکا یہ گھٹیا عمل متاثرہ خواتین کی رہی سہی عزت کا بھی جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔صحافی محمد عمیر نے ایکس پر لکھا کہ ’پنجاب میں لوگوں کی عزتوں سے جو گھناؤنا کھیل حنا پرویز بٹ کھیل رہی ہیں، وہ شاید ہی کسی نے کھیلا ہو۔ ہر زیادتی کے مقدمے میں یہ متاثرہ فریقین کے گھر جاتی ہیں، ساری دنیا کو ان کی شناخت بتاتی ہیں۔ یہ واقعات فیملیز کے لیے ساری زندگی کا روگ بن جاتے ہیں، ان کے رشتے نہیں ہوتے، لیکن موصوفہ اسے سستی شہرت کی خاطر استعمال کر رہی ہیں۔‘

ایک اور سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا کہ ’حنا پرویز بٹ کیمرہ مین اور میڈیا کے لاؤ لشکر کے ساتھ متاثرہ خواتین کے گھروں تک پہنچ جاتی ہیں جس سے اہلِ علاقہ کو یہ پیغام ملتا ہے کہ متاثرہ لڑکی ریپ کا شکار ہے۔‘ یاد رہے کہ چیئر پرسن پنجاب وومن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ کی ایسی ویڈیوز باقاعدہ طور پر ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ ان کے ہمراہ پولیس اہلکار اور اہلِ علاقہ بھی ہوتے ہیں۔ ویڈیوز ریکارڈ کرنے کے بعد حنا پرویز بٹ اپنی آواز میں واقعے اور دورے کی تفصیلات وائس اوور کر کے بتاتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد اردو نیوز نے حنا پرویز بٹ سے رابطہ کیا اور انکی رائے جاننے کی کوشش کی۔ تاہم موصوفہ نے اپنے اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انکا مقصد مظلوم خواتین کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ میں جب سوشل میڈیا پر متاثرہ خواتین سے ملاقات کی ویڈیوز شیئر کرتی ہوں، تو ان کے ذریعے یہ پیغام دینا مقصد ہوتا ہے کہ ریاست، قانون اور ادارے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘ حنا بٹ کا کہنا تھا کہ ’یہ ویڈیوز صرف ہمدردی کا اظہار نہیں ہوتیں بلکہ مجرموں کو واضح وارننگ ہوتی ہیں کہ اب ایسے واقعات کے بعد خاموشی اختیار کرنے  کا دور ختم ہو چکا ہے اور یہ خواتین کی آواز کو طاقت دینے کی ایک عملی کوشش ہے۔‘

انہوں نے خود پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’متاثرہ خواتین یا بچیوں کی شناخت، چہرہ، نام یا درست مقام کبھی ظاہر نہیں کیا جاتا اور تمام معلومات رازداری کے اصولوں کے تحت محفوظ رکھی جاتی ہیں۔‘

لیکن دوسری جانب قانونی ماہرین نے بھی اس عمل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے وکیل ایڈووکیٹ مدثر چوہدری نے بتایا کہ ’اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے تحت متاثرہ شخص یا اس کے خاندان کی شناخت ظاہر کرنا غیرقانونی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’جب تک متاثرہ شخص یا اس کے سرپرست کی تحریری اجازت نہ ہو تو ایسا کرنا ہرگز مناسب نہیں۔ قانون میں واضح طور پر لکھا ہے کہ متاثرہ خاتون کو پولیس سٹیشن جانے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ پولیس کو گھر پر رازداری کے ساتھ بیان لینا چاہیے۔‘

ایڈووکیٹ مدثر چوہدری نے کہا کہ ’ایسی ویڈیوز بنانا اور پھر انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنا آئینی، اخلاقی اور قانونی اعتبار سے مناسب نہیں ہے۔‘

حنا بٹ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا ریپ وکٹم یا اس کا خاندان دکھا کر قانون کی خلاف ورزی نہیں کی جا رہی تو انہوں نے کہا کہ ’یہ الزامات نہ صرف غلط ہیں بلکہ ناانصافی پر مبنی ہیں۔ ہم نے کبھی متاثرہ خواتین کی عزت نفس کو مجروح نہیں کیا بلکہ انہیں انصاف دلانا اور معاشرتی جمود کو توڑنا ہمارا فرض ہے۔‘

تاہم حقیقت یہ ہے کہ موصوفہ جھوٹ بول رہی تھیں۔ 15 جولائی 2025 کو حنا بٹ نے ایکس پر ایک متاثرہ بچی کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’وزیراعلٰی مریم نواز کی ہدایت پر آج کاہنہ میں اس کم سن بچی کے گھر گئی جس کو ایک درندے نے ظلم اور ذیادتی کا نشانہ بنایا، ایسے درندے معاشرے کا ناسور ہیں، بچی اور اس کے والدین کو یقین دلایا کہ انہیں ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔‘

اس ویڈیو میں حنا بٹ متاثرہ بچی سے ہمدردی کا اظہار کر رہی ہیں جبکہ پولیس اہلکار ٹارچ پکڑے کھڑے ہیں۔

خیال رہے کہ پنجاب وومن پروٹیکشن اتھارٹی ایک حکومتی ادارہ ہے جو صوبہ پنجاب میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد خواتین کو گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، جبری شادیوں اور دیگر امتیازی سلوک سے بچانا ہے۔

Back to top button