پٹرول کے بعد حکومت نے عوام پر بجلی بم بھی گرا دیا

حکومت نے بڑھتی ہوئی بجلی اور پٹرول کی قیمتوں کے دوران بجلی کے ماہانہ فکسڈ چارجز میں ہوشربا اضافہ کر کے عوام پر ایک اور بم گرا دیا ہے۔ نیپرا کی جانب سے میٹر رینٹ یا فکسڈ چارجز کو کھپت کی بجائے صارفین کے منظور شدہ لوڈ کے ساتھ منسلک کرنے کے فیصلے سے کم بجلی استعمال کرنے والے عام صارفین کے بلوں میں بھاری اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق نئے نظام کے تحت اب صارفین کو اپنی اصل کھپت کے بجائے اس گنجائش کی بنیاد پر ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے جو وہ شاید استعمال ہی نہ کریں۔ پہلے یہ چارجز زیادہ تر 300 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والوں تک محدود تھے، مگر اب لائف لائن صارفین کے علاوہ تقریباً تمام گھریلو صارفین اس کی زد میں آ چکے ہیں جس کے نتیجے میں بجلی کے بلوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
واضح رہے کہ نیپرا نے حکومت کو جنوری 2026 میں اجازت دی تھی کہ وہ فکسڈ چارجز اب کھپت کی بجائے فی کلوواٹ لوڈ کے حساب سے وصول کرے۔ نیپرا کی منظوری کے بعد اب لائف لائن صارفین کے علاوہ قریباً تمام گھریلو صارفین پر یہ چارجز لاگو ہو چکے ہیں، چاہے ان کی بجلی کی کھپت کم ہی کیوں نہ ہو۔
نیپرا کی جانب سے تبدیل کی گئی پالیسی کے تحت بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز اب ماہانہ بنیاد پر فی کلوواٹ لوڈ کے حساب سے وصول کیے جائیں گے جبکہ پہلے یہ چارجز صرف بجلی کے استعمال یعنی یونٹس کے مطابق عائد ہوتے تھے اور زیادہ تر صرف 300 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والے صارفین تک محدود تھے۔ نئے ٹیرف کے مطابق فکسڈ چارجز مختلف سلیبز میں قریباً 200 روپے سے 675 روپے فی کلوواٹ ماہانہ تک ہیں جس کے باعث کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین بھی زیادہ بل ادا کرنے پر مجبورہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بجلی کے لوڈ سے کیا مراد ہے؟ جس کی بنیاد پر صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کئے جاتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق بجلی کے بل میں یونٹس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے کتنی بجلی استعمال کی جبکہ لوڈ سے مراد وہ زیادہ سے زیادہ گنجائش ہے جو آپ کے گھر یا کاروبار کے بجلی کے کنکشن میں دستیاب ہے۔ مثال کے طور پر چھوٹے گھر کا لوڈ 2 کلوواٹ، عام گھر کا لوڈ 5 کلوواٹ اور بڑے گھر یا فلیٹ کا لوڈ 10 کلوواٹ ہو سکتا ہے۔نیپرا کے نئے نظام کے تحت فکسڈ چارجز اسی منظور شدہ لوڈ کے حساب سے عائد کیے جائیں گے، چاہے آپ نے اتنی بجلی استعمال کی ہو یا نہیں۔ اگر آپ کا لوڈ 5 کلوواٹ ہے اور فی کلوواٹ چارج 675 روپے ہے تو فکسڈ چارج 675 کے حساب سے 3375 روپے وصول کئے جائیں گے چاہے آپ اتنی بجلی استعمال کریں یا نہ کریں جبکہ 2 کلوواٹ لوڈ والے صارفین کے لیے فکسڈ چارجز ماہانہ 400 روپے تک بنتے ہیں۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیپرا کی جانب سے فکسڈ چارجز کو کھپت کی بجائے لوڈ سے منسلک کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ انرجی ایکسپرٹس کے مطابق پاکستان کی قومی گرڈ سے بجلی کی کھپت مسلسل کم ہو رہی ہے، چونکہ کیپیسٹی چارجز صرف بجلی کے زیادہ استعمال سے پورے ہو سکتے ہیں، اس لیے حکومت نے گرڈ سے منسلک تمام صارفین پر لوڈ کے حساب سے فکسڈ چارجز عائد کر دیے ہیں، تاکہ چاہے وہ بجلی استعمال کریں یا نہ کریں، مخصوص رقم حکومت کو ادا کرتے رہیں تاکہ حکومت کو کپیسٹی پیمنٹس کی ادائیگی میں کوئی ایشو نہ آئے، اس کی ’دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ صارفین جو اپنی منظور شدہ کیپیسٹی سے زیادہ سولر پینل لگا چکے ہیں، وہ بھی اب نئے فکسڈ چارجز کے دائرے میں آ جائیں گے۔‘
حکومت 271 روپے فی لیٹر پٹرول خرید کر 458 میں کیوں بیچنے لگی؟
تاہم ناقدین کے مطابق صارفین سے بجلی استعمال کیے بغیر بھی مقررہ رقم وصول کرنا کسی طور قابلِ جواز نہیں۔ ان کے بقول نیپرا کی جانب سے فکسڈ چارجز کا نفاذ خود بجلی کے موجودہ قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ نیپرا کے رولز اینڈ ریگولیشنز میں ان کی واضح اور جامع تعریف موجود نہیں۔ اس تناظر میں ایسے اقدامات نہ صرف قانونی ابہام کو جنم دیتے ہیں بلکہ پاکستان کے توانائی صارفین کے لیے مزید مشکلات اور مالی دباؤ کا سبب بھی بن رہے ہیں۔
