پی آئی اے کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری کافیصلہ

وفاقی سیکریٹری نجکاری عثمان باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری ترجیح ہے۔
سینیٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس ہوا جس میں دوران بریفنگ سیکریٹری وزارت نجکاری نے کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر نجکاری کے بجائے اوپن بڈنگ کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو ملک یا کمپنی زیادہ قیمت دے گی، ایئرپورٹ کا انتظام اس کے حوالے ہوگا، اسلام آباد کے بعد کراچی اور لاہور ایئرپورٹ کو بھی آوٹ سورس کیا جائے گا۔
سیکریٹری نجکاری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کو آوٹ سورس کرنے کے لیے مالی مشیر کا تقرر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے ڈی بی ائیر پورٹس کی آوٹ سورسنگ میں پاکستان کی مدد میں دلچسپی رکھتا ہے، تینوں ایئرپورٹس کی آوٹ سورسنگ کے بعد موجودہ عملہ دیگر چھوٹے ایئر پورٹس پر لگانے کا منصوبہ ہے۔
عثمان باجوہ نے بتایا کہ2024 میں پی آئی اے کی نجکاری کامیاب نہیں ہو سکی تھی، اس موقع پر سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ عارف حبیب گروپ کے خلاف ایک درخواست سپریم کورٹ میں ہے کیا اس کا فیصلہ پو گیا، جس پر سیکریٹری نے بتایا کہ نجکاری کمیشن نے اداروں سے جانچ پڑتال کروائی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ کمپنی کے خلاف کوئی کارروائی یا بلیک لسٹ والی چیز ہمارے سامنے نہیں آئی، عدالت کے فیصلے کا بھی کوئی مواد سامنے نہیں آیا۔
سینیٹر پلوشہ نے سوال کیا کہ کیا عارف حبیب گروپ کے خلاف مسابقتی کمیشن کا عائشہ اسٹیل والا فیصلہ بھی نہیں ملا، سیکریٹری نے بتایا کہ نجکاری کمیشن کو کسی ادارے سے ایسا کوئی فیصلہ موصول نہیں ہوا۔
سینیٹر بلال احمد کا کہنا تھا کہ بولی دہندگان کو بغیر ایوی ایشن تجربہ کس طرح بولی میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی، سینیٹر افنان اللہ خان نے جواب دیا کہ نجکاری کے لیےایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی۔
سینیٹر بلال احمد نے کہا کہ اگر ریڑھی پر رکھ کر چیزیں بیچنی ہیں تو پھر ٹھیک ہے، اس سے پہلے نجکاری سے بہت سارے لوگ اس لیے ڈس کوالیفائی کیے گئے کہ وہ تکنیکی معیار پورا نہیں کرتے تھے۔
