پیپلز پارٹی کے بعد MQM اور JUI بھی شہباز شریف سے ناراض

شہباز شریف کی زیر قیادت وفاق میں قائم اتحادی حکومت گرداب میں پھنسی دکھائی دیتی ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت کو دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں پی ٹی آئی اور جے یو آئی کی جانب سے ملک گیر احتجاج کی دھمکیوں کا سامنا ہے وہیں حکومتی اتحادی پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم بھی حکومت سے نالاں دکھائی دیتی ہیں۔ ایم کیو ایم کے ناراضی تو اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما پریس کانفرنسز میں یہ کہتے سنائی دے رہے کہ اگر ہمارے مطالبات ہی پورے نہیں ہونے تو ہمیں حکومت میں رہنے کا کوئی شوق نہیں۔ تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کو پی ٹی آئی کی جانب سے تو شروع دن سے سخت رد عمل کا سامنا تھا ہی تاہم اچانک ایسے کیا حالات بنے کہ جہاں جے یو آئی تحریک انصاف کی ہمنوا ہو گئی وہیں حکومتی اتحادی جماعتوں نے بھی شکووں اور شکایات کے انبار لگا دئیے؟
خیال رہے کہ حکومت کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج تو شروع دن سے جاری ہیں تاہم اب اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت جمعیت علما اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو دینی مدارس کی رجسٹریشن کے بل کی منظوری کے لیے 17 دسمبر تک کی مہلت دی ہوئی ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگر 17 دسمبر تک مدارس رجسٹریشن بل منظور نہ ہوا تو وہ حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دینگے۔دوسری جانب اپوزیشن کے علاوہ حکومت کو اتحادیوں کی جانب سے بھی شکایات کا سامنا ہے اور گزشتہ چند دنوں سے حکمراں اتحاد کی بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے تحفظات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ تحفظات کو دور کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پی پی کی رابطہ کمیٹی کے درمیان 3 مرتبہ ملاقات ہوئی تاہم پیپلز پارٹی کے تحفظات تاحال برقرار ہیں۔ تاہم اب حکمراں اتحاد کی دوسری بڑی جماعت ایم کیو ایم کے سربراہ نے بھی حکومت سے ناراضی کا اظہار کر دیا ہے۔
ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے مطابق اگرچہ ہم حکومتی اتحاد میں شامل ہیں، لیکن بڑی سیاسی جماعتوں کی اتحاد میں شامل چھوٹی جماعتوں کی طرف توجہ کم ہوتی ہے اس لیے ہمیں حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے اور اپنی ناراضی کا اظہار کرنا ہے تب ہی جا کر ہمارے مطالبات پورے ہوں گے۔تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ خالد مقبول صدیقی کے حکومت چھوڑنے والے بیان کا مطلب یہ تھا کہ ایم کیو ایم کو وزارتوں یا اقتدار کا کوئی شوق نہیں ہے اور خالد مقبول صدیقی نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ہر دور میں اپنی قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دیا ہے، ایم کیو ایم جاگیرداروں اور وڈیروں کی پارلیمان میں نمائندگی نہیں چاہتی بلکہ یہ چاہتی ہے کہ کسان کی نمائندگی کسان اور غریب کی نمائندگی غریب کرے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کا شروع دن سے حکومت سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ اختیارات کونسلر لیول تک منتقل کر دیے جائیں جس پر حکومت کا وعدہ ہے کہ وہ 27ویں ائینی ترمیم کے ذریعے تمام تر اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کر دے گی۔ اب ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اور ریاست ہمارے ساتھ کیے گئے وعدے پر سنجیدہ ہے۔
جہاں ایک جانب ایم۔کیو ایم حکومت سے اپنے مطالبات پورے نہ کرنے کر تحفظات کا اظہار کر رہی ہے وہیں گزشتہ کچھ عرصے سے پیپلزپارٹی قیادت کی جانب سے بھی حکومت سے عدم مشاورت اور وعدوں پر عملدرآمد نہ کرنے کی وجہ سے کھل کر ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت سے ناراضی بارے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر الزمان کائرہ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اس وقت تو حکومت کے لیے کوئی خطرہ بن کر سامنے نہیں آ رہی بلکہ ہم حکومت کی تشکیل سے قبل ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے حکومت کو یادہانی کرا رہے ہیں اور اللّٰہ نہ کرے کہ وہ وقت آئے کہ جب ہمیں حکومت کو کوئی ڈیڈ لائن دینی پڑ جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکراتی کمیٹیوں کی بیٹھک جاری ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ معاملات حل ہو جائیں گے۔
قمر الزمان کائرہ نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے کہ جس کے ساتھ ملنے سے ن لیگ نے وفاق میں حکومت قائم کی تھی اور ہم نے حکومت سے کوئی نئے مطالبات نہیں کیے ہیں بلکہ یہ وہی 25 مطالبات ہیں جو کہ حکومت قائم ہونے سے قبل سامنے رکھے گئے تھے اور ان مطالبات کو پوری کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔ انہون نے مزید کہا کہ ہمارا حکومت سے صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ان مطالبات کو منظور کیا جائے جن میں صوبائی حکومتوں اور انتظامیہ سے متعلق امور شامل ہیں۔
کیا پرویز خٹک ن لیگ میں شامل ہو کر گنڈاپور سے ٹکر لینے والے ہیں؟
تاہم پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے وفاقی حکومت بارے تحفظات اور مطالبات بارے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ حکمراں اتحاد میں شامل ضرور ہیں لیکن وہ ایک الگ الگ سیاسی جماعتیں بھی ہیں جن کے اپنے منشور ہیں اور اتحادیوں کے درمیان ہر بات پر اتفاق ہونا ضروری نہیں ہے اور کبھی کبھار کچھ اختلافات ہو ہی جاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ساتھ ایسے کوئی تحفظات نہیں ہیں کہ جن کو دور نہ کیا جا سکے یا جن پر کوئی ڈیڈ لاک ہو اور ن لیگ ان جماعتوں کے مطالبات کو تسلیم کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ ان مطالبات کو جلد پورا کیا جا سکے۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی اتحادیوں کے معاملے میں بہت سنجیدہ ہیں جن کی کوشش ہے کہ کسی بھی حکومتی اتحادی کو حکومت سے کوئی شکایت نہ ہو اس لیے انہوں نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی قیادت میں ایک کمیٹی بھی قائم کی ہوئی ہے جو اتحادیوں کے تحفظات کو سنتی ہے اور فوری طور پر دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کی قیادت میں کمیٹی پیپلز پارٹی سے ملاقاتیں بھی کر چکی ہے اور پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کر رہی ہے جبکہ ایم کیو ایم نے اس وقت تک تو حکومتی سطح پر کسی بھی معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار نہیں کیا ہے لیکن پھر بھی ایم کیو ایم سے حکومتی کمیٹی ملاقات کر کے معاملات حل کر لے گی۔
