ریحام کے بعد کپتان کے دوست عون چوہدری بھی کتاب لکھنے لگے

وزیراعظم عمران خان کے چہیتے وفاقی وزیر مراد سعید کی جانب سے ریحام خان کو اپنی کتاب میں انکی کردار کشی کرنے اور بیہودہ الزامات لگانے پر ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس دیئے جانے کے بعد یہ اطلاعات ہیں کہ کپتان کے سابقہ انتہائی قریبی ساتھی عون چودھری بھی اب ایک کتاب لکھ رہے ہیں جس میں کئی ہوشربا انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔

خیال ہے کہ عون چودھری نے عمران خان کی ریحام خان سے دوسری اور بشری بی بی سے تیسری شادی کے نکاح نامے پر بطور گواہ دستخط بھی کیے تھے۔ تاہم اب وہ عمران خان کی سابقہ اے ٹی ایم کہلانے والے جہانگیر خان ترین کے سرگرم ساتھی ہیں۔

عون چوہدری کے کتاب لکھنے کی خبر مراد سعید کی جانب سے ریحام خان کو ہرجانے کا نوٹس دینے کے بعد سامنے آئی ہے۔ مراد سعید نے خود پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کو ایک ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیجا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں مجھ پر بیہودہ بہتان تراشی کی ہے جسکے بعد مخالفین کی جانب سے ان الزامات کی بنیاد پر میری بطور وزیر کارکردگی کو بھی متنازع بنایا جا رہا ہے۔ نوٹس میں کہا ہے کہ چونکہ ریحام خان نے آج دن تک اپنی کتاب میں لگائے گے الزام الزامات کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی لہذا انہیں ایخ سرب روپے ہرجانے کا نوٹس دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مراد سعید نے کہا ہے کہ اگر ریحام خان نے یہ نوٹس ملنے کے بعد 14 دن میں وضاحت نہ کی اور معافی نہ مانگی تو عدالت سے سخت سزا اور ایک ارب ہرجانے کی استدعا کی جائے گی۔ مراد سعید کا کہنا تھا کہ ریحام خان نے اپنی کتاب کو الیکشن 2018ء سے صرف چند ہفتے پہلے شائع کرایا تاکہ عوام پر اس کا اثر پڑ سکے۔ مراد نے کہا ہے کہ یہ کتاب لوگوں نے پڑھی لیکن اس میں جو باتیں بھی لکھی گئیں، ان پر یقین کرنے کیلئے ٹھوس شواہد کا ہونا ضروری تھا جسے آج تک پیش نہیں کیا گیا۔

عمران خان فارغ ہو جائیں گے یا مارشل لاء لگوائیں گے؟

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ‎حال ہی میں وزارتوں کو دیے گئے اہداف کی تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں مراد سعید کی وزارت کو دیے گئے 88 اہداف کو سو فیصد حاصل کر نے پر پہلا نمبر ملا۔ جس کے بعد آپ کے مسودہ کا حوالہ دے کر وزارت مواصلات کی کاکردگی کو متنازع بنایا گیا۔ جس سے درخواست کنندہ کی ہتک کے علاوہ وزارت سے منسلک اہلکاروں کی بھی حوصلہ شکنی ہوئی۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’‎مراد سعید کی تمام کامیابیوں کو متنازع بنانے کے لیے آپ کی تحریر کا حوالہ دے کر بہتان تراشی اور غلیظ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ ‎آپ کے نام سے پہلے

ایک مسودہ لیک ہوا جس کی آج تک آپ نے تردید نہیں کی اور بعد میں شائع کردہ مسودہ کا حوالہ دے کر مراد سعید پر تہمت لگائی گئی۔ آپ نے ان تمام باتوں کی کبھی تردید نہیں کی بلکہ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان کو ری ٹویٹ بھی کیا۔ جس سے مراد سعید کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ لہذا یا تو 14 دن کے اندر معافی مانگی جائے یا پھر ایک ارب روپے جرمانے کی ادائیگی اور ازا کی تیاری کی جائے۔

دوسری جانب معروف ٹیلی وژن اینکر پرسن منصور علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ اب عمران خان کے ایک اور قریبی ساتھی عون چوہدری بھی کتاب لکھ رہے ہیں جو کبھی ان کے ساتھ سائے کی طرح رہتے تھے۔ انکا کہنا ہے کہ ایک زمانے میں عمران سے ملنے کے لیے لوگ عون کے پاس جایا کرتے تھے۔ اگر وہ ناں کر دیتا تو کوئی عمران سے نہیں مل سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عون تب سے عمران کیساتھ تھے، جب نہ تو ریحام خان تھیں اور نہ ہی بشریٰ بی بی۔

لیکن اس کے بعد وقت نے پلٹا کھایا۔ پہلے انھیں اسلام آباد سے نکال کر لاہور شفٹ کیا گیا۔ انہیں پنجاب حکومت میں عہدہ دیا گیا لیکن جلد ہی وہاں سے بھی فارغ کر دیا گیا۔ منصور علی خان نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ عون کا شمار ایسی شخصیات میں ہوتا ہے کہ جو عمران کو بہت قریب سے جانتے ہیں۔

دن رات اس شخص نے اپنی فیملی کو سائیڈ لائن کر کے عمران کا ساتھ دیا اور قربانیاں دے کر ان کا ساتھ نبھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کتاب میں وہ واقعہ بھی ضرور لکھا جائے گا جب عون چودھری کو اچانک بتایا گیا کہ آپ نے حلف برداری کی تقریب میں نہیں آنا ہے۔ تاہم اس کتاب میں وہ کیا لکھ رہے ہیں، اس کا تو ان کو ہی علم ہوگا لیکن ایک بات ذہن نشین رہے کہ جس دن یہ چھپ کر مارکیٹ میں آئی تو ایک طوفان کھڑا ہو جائے گا۔

Back to top button