شیر افضل کے بعد مزید لیڈرز کی چھٹی کا امکان، PTI تقسیم کا شکار

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کے اعلان اور اسکے بعد مزید رہنماؤں کو بھی فارغ کرنے کی افواہوں نے تحریک انصاف میں ایک بڑی تقسیم کا آغاز کر دیا ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی عمران خان کی جانب سے شیر افضل مروت کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کہ باوجود بظاہر وزیراعلی خیبر پختون خواہ علی امین گنڈاپور ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ دوسری جانب پارٹی کے مرکزی عہدیداروں خصوصا سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اس دھڑے کی قیادت کر رہے ہیں جس نے عمران خان سے شیر افضل کے خلاف فیصلہ کروایا ہے۔

پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ شیر افضل مروت کا نکالا جانا پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں بغاوت کو جنم دے سکتا ہے۔  پارٹی ذرائع کے مطابق عمران خان کو اس فیصلہ کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی کیونکہ یہ واحد فیصلہ ہے جس پر بانی کے خلاف اختلافی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ اگرچہ ابھی یہ اختلاف دبے انداز میں کیا جا رہا ہے لیکن آگے بڑھ کر یہ پارٹی میں تقسیم کو جنم دے سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اگلے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں شیر افضل مروت نے کھڑے ہو کر یہ سوال کر ڈالا کہ مجھے کیوں نکالا گیا۔ انہوں نے اپنی بنیادی رکنیت ختم کرنے کے فیصلے کو پارٹی کے خلاف سازش قرار دیا۔ شیر افضل کا کہنا تھا کہ وہ روز روز کی بے عزتی برداشت نہیں کریں گے اور انہیں بھی اب حتمی کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی سامنے ارہی ہیں کہ پارٹی قیادت شیر افضل مروت کے بعد کئی دیگر رہنماؤں کو بھی پی ٹی ائی سے نکالنے کا اعلان کرنے جا رہی ہے۔

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی پہلے مرحلے میں شیر افضل مروت نے "مجھے کیوں نکالا” کا نعرہ بلند کیا مگر اگلے مرحلے میں وہ اس سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں میں کافی زیادہ مقبول ہیں اور ان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ دوسری طرف سلمان اکرم راجہ کے پاس نہ تو کوئی حلقہ ہے اور نہ ہی ان کا پارٹی میں کسی قسم کا کوئی اثر رسوخ ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک ٹیکنوکریٹ ہیں جن کا پارٹی کارکنان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ان پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ وہ الیکشن جیتنے کے بعد پارٹی سیکرٹری جنرل نہیں بنے بلکہ انہیں نامزد کیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اگلے مرحلے میں کچھ مزید پارٹی ارکان بالخصوص 26ویں ترمیم پر پارٹی لائن سے انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے کی تجویز ہے جن میں شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی اور ریاض فتیانہ کے نام بھی شامل ہے۔  اگر عمران خان نے یہ غلطی کر لی تو شیر افضل مروت کا ساتھ دینے والوں کی تعداد خود بخود بڑھ جائے گی۔ ذرائع کے مطابق پارٹی سوچ کے اعتبار سے منقسم ہوچکی ہے، ایک مفاہمت اور عملیت پسند سوچ رکھنے والا گروپ ہے جو کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی اور اس کے خلاف منفی پرا پیگنڈہ مہم چلانے کے خلاف ہے۔ اس گروپ کی رائے ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست پارٹی کو نقصان پہنچا رہی ہے، اور اس کے سیاسی مستقبل کو تاریک کر رہی ہے۔

دوسری جانب شدت پسندوں پر مبنی ہارڈ لائن رکھنے والا گروپ سمجھتا ہے کہ انٹی اسٹیبلشمنٹ پالیسی کی وجہ سے ہی پارٹی اور عمران خان مقبول ہیں اور بانی کو یہ پالیسی ترک نہیں کرنی چاہیے ورنہ ان کی سیاست کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ لیکن سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ عمران خان کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ جارحانہ پالیسی نے ان کے راستے کھولنے کی بجائے بند کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان صرف عوامی مقبولیت کے زور پر نہ تو جیل سے باہر آ سکیں گے اور نہ ہی دوبارہ اقتدار حاصل کر پائیں گے، بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں کسی بھی سیاستدان کے لیے مقبولیت کے ساتھ ساتھ قبولیت کا ہونا بھی ضروری ہے، لہذا اگر وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذرائی کی پالیسی جاری رکھیں گے تو ان کی مقبولیت تو برقرار رہے گی لیکن قبولیت ختم ہو جائے گی۔

سہیل وڑائج کے مطابق یہی وجہ ہے کہ 2024 کے عام انتخابات کے ایک سال بعد بھی تحریک انصاف لگ بھگ اُسی جگہ کھڑی ہے جہاں یہ 8 فروری 2024 کو کھڑی تھی۔ عمران خان آج بھی اڈیالہ جیل میں بند ہیں اور ان کی جماعت مشکلات کا شکار ہیں تاہم وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی بدستور ’پاپولر جماعت‘ ضرور ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قید یونے سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ان کی اپنے ووٹر پر گرفت مضبوط نہیں رہی، اسی لیے اب ان کی کال پر ووٹرز باہر نہیں نکلتے۔

سہیل وڑائج کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک برس میں  عمران خان کی کال پر اسلام آباد میں اوپر تلے مسلسل تین احتجاج اسی وجہ سے ناکام ہوئے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ 26 نومبر 2024 کی رات تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرین بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور کی زیر قیادت ریاست پاکستان کو چیلنج کرنے کے بعد جس طرح ڈی چوک سے فرار ہوئے، اس نے تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا ہے۔ اب پی ٹی ائی والے احتجاج کی کال دیں بھی تو حکومت کو ماضی کی طرح پریشانی نہیں ہوتی۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے تاکہ اپنے مطالبات کو تسلیم کروایا جا سکے، تاہم 26 نومبر کی رات عمران خان نے یہ سنہری موقع کھو دیا۔

Back to top button