شیر افضل کو پارٹی سے نکالنے پر PTI تقسیم کا شکار ہو گئی

تحریک انصاف کے بڑبولے اور منہ پھٹ رہنما شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالے جانے کے بعد یوتھیوں میں اختلافات کی خلیج مزید وسیع ہو گئی ہے۔پی ٹی آئی میں وکلاء گروپ اور سیاسی گروپ کھل کر آمنے سامنے آگئے ہیں۔

 ذرائع کے مطابق وکلاء گروپ نے سیاسی گروپ کے خلاف بانی پی ٹی آئی کو شکایات لگائیں۔ وکلاء گروپ نے شیر افضل مروت‘ علی امین گنڈاپور‘ اسد قیصر اور جنید اکبر کے خلاف عمران خان کے کان بھرے اور وکلاء گروپ شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکلوانے میں کامیاب رہا۔ ذرائع کے مطابق وکلاء گروپ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو صوابی جلسے بارے جنید اکبر کی شکایات بھی لگائی اور بتایا کہ صوابی جلسے میں صرف تین چار ہزار لوگ آئے۔ بانی پی ٹی آئی کو بتایا گیا کہ علی امین گنڈاپور نے صوابی جلسے کیلئے فنڈز بھی نہیں دیئے۔ تاہم اس حوالے سے جنید اکبر کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور سے نہ فنڈز مانگے نہ ہی ہماری کوئی آپس میں لڑائی ہے۔ میں نے تو گنڈاپور کا ہاتھ پکڑ کر فضا میں بلند کیا اور اتفاق کا پیغام بھی دیا تھا۔

دوسری جانب شیر افضل مروت نے پارٹی میں اپنی بے دخلی کے فیصلے کا الزام سلمان اکرم راجہ پر عائد کر دیا ہے۔ جیوکے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ “ میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا، اس کا جواب میری پارٹی کے پاس بھی نہیں ہے۔ سلمان اکرم راجہ زیادہ معصوم بننے کی کوشش نہ کریں وہ غلط بیانی کررہے ہیں سارا کیا دھرا ان کا اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔پی ٹی آئی کا کارکن گھاس نہیں کھاتا، عہدوں کی بندر بانٹ سب کو نظر آرہی ہے،۔

پی ٹی آئی میں گروپنگ بارے سینئر صحافی اور تجزیہ کار  شاہزیب خانزادہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف میں سیاسی گروپ اور وکلا گروپ کے آپس میں الجھنے کی خبریں تواتر سے سامنے آرہی ہیں۔ وکلا گروپ کی طرف سے یہ تنقید سامنے آرہی ہے کہ پارٹی کی سیاسی قیادت کچھ نہیں کررہی ہے۔تاہم سیاسی گروپ کی طرف سے دعویٰ سامنے آرہا ہے کہ وکلا گروپ کی عمران خان تک زیادہ رسائی ہے۔اس لئے وہ سیاسی رہنماؤں کے خلاف ان کے کان بھرتے ہیں۔

شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ ہم اپنی پارٹی کے فنڈز کا آڈٹ کرکے چندہ دینے والوں کو کیوں نہیں بتاتے۔26 نومبر کو ہم ڈی چوک کیوں آئے، اس کا احتساب کیوں نہیں ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی ممبر کے لئے اس سے برا کیا ہوگا کہ اس کو پارٹی سے نکال دیں اور وجہ کا علم نہ ہو۔ جنہوں نے اپنا ووٹ اور ضمیر بیچا وہ شوکاز کے باوجود پارٹی میں موجود ہیں۔ ایک سال میں تیسری دفعہ مجھے نکلوایا گیا۔جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے میں جلد واپس آؤں گا۔بانی پی ٹی آئی کے گرد جنہوں نے گھیرا ڈالا ہے وہ غیر منتخب لوگ ہیں۔غیر منتخب لوگ پارٹی کے معاملات چلا رہے ہیں۔ پارٹی لیڈرز چیزیں چھپا رہے ہیں۔سلمان اکرم راجہ غلط بیانی کررہے ہیں۔ سارا کیا دھرا ان کا اور ساتھیوں کا ہے۔یہ خود کو ڈی فیکٹو سیکریٹری جنرل کہتے ہیں جسے عام زبان میں غاصب کہتے ہیں۔ بانی کو کہا گیاصوابی کا کراؤڈ مروت لائے جو ان کے نعرے لگا رہا تھا۔ اگر سارا مجمع میں لایا تھا تو پی ٹی آئی کا کراؤڈ کہاں گیا؟سلمان اکرم راجہ کو اگر ناگوار گزرا ہے تو مجھے ان کی پروا بھی نہیں ہے۔سلمان اکرم راجہ جن کی سفارش سے سیکریٹری جنرل بنے دراصل وہ با اثر لوگ ہیں۔علیمہ خان بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں اس وجہ سے احترام ہے ان کے خلاف کوئی لفظ نہیں کہہ سکتا۔میں نے کہا تھا موروثی سیاست کا قائل نہیں ہوں، یہ بات بھی ناگوار گزری۔ میرے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو اب جواب دوں گا۔ پروپیگنڈہ مشین کو وی لاگ کرکے جواب دوں گا۔ میں نہیں سمجھتا کہ پارٹی کے معاملات درست چل رہے ہیں۔سیاسی رہنما شیرافضل مروت نے کہا ہے کہ مجھے پارٹی سے پہلی بار نہیں کم از کم تیسری بار نکالا گیا ،کیوں نکالا اس کا سوال میں نے پارلیمان میں بھی کیاہے۔

 شیر افضل نے کہا مجھے عمران خان نے نہیں نکالا ، نہ وہ میرے ساتھ ایسا کرسکتے ہیں کیونکہ برے وقتوں میں انکے بہت قریب رہا، پارٹی میں لوگ میری مقبولیت سے جلتے ہیں، جیل میں عمران خان سے سیاسی ملاقاتیں میں نے شروع کروائیں، دوسری ملاقات کے بعد مجھے ہی ملاقاتوں سے باہر کر دیا گیا۔ سلمان اکرم راجہ اینڈ پارٹی نے مجھے گرایا، میں رہوں یا نہ رہوں،خان کیلئے کام کرتا رہوں گا، اچھا ہے اب ریلیکس ہوکراپنا کام کروں گا۔

ایک سوال کے جواب میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ مجھے نکالنے سے پہلے پارٹی کو میرا موقف سننا چاہیے تھا، سنے بغیرفیصلہ اندھیرنگری ہے ، بیرسٹرگوہر،علی محمد خان،علی امین گنڈا پور،شہریارآفریدی،اسد قیصر، شاندانہ گلزارکیخلاف بھی سازشیں ہورہی ہیں، موجودہ حالات میں کسی کا بھی مستقبل محفوظ نہیں ۔ تحریک انصاف سے نکالے جانے پر شیر افضل مروت کا مزید کہنا تھا کہ بار بار پارٹی سے نکال کر میری بے توقیری کی جا رہی ہے۔ میں مزید بے توقیری برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ فیصلہ بانی پی ٹی آئی کا نہیں ہے۔ مفاد پرست ٹولے نے پارٹی سے نکلوایا۔ مفاد پرست ٹولے نے ایک سال سے بانی پی ٹی آئی کو محصور کیا ہوا ہے۔ اس معاملے پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی خواہش اب نہیں۔

بلوچ قوم پرست تنظیموں کی افرادی قوت بڑھتی کیوں جا رہی ہے

تاہم شیر افضل مروت کے الزامات پر سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے ہاتھ جھاڑ دیئے اور کہا کہ اس معاملے میں میرا کوئی عمل دخل نہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی میں نظم و ضبط کیلئے یہ اقدام اٹھایا۔ تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر اور شہریار آفریدی دونوں شیر افضل مروت کی حمایت میں بول پڑے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں معاملہ اٹھانے کا اعلان کر دیا۔ جنید اکبر نے کہا کہ برے وقت میں ساتھ دینے پر شیر افضل مروت کے احسان مند ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو شیر افضل مروت سے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کروں گا۔ دوسری جانب وزیراعلٰی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کا معاملہ عمران خان کے سامنے اٹھا دیا ہے اور بانی پی ٹی آئی سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

Back to top button