عدالتی فیصلے کے بعد PTI کوئی تحریک کیوں نہیں چلا پائے گی؟

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جانب سے مخصوص نشستوں کے کیس کا حتمی فیصلہ جاری ہونے کے بعد تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے احتجاجی تحریک چلانے سے پرہیز کا مشورہ دے دیا ہے۔ اس مشورے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ 25 نومبر 2024 کو بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور کی جانب سے اسلام آباد دھرنے سے جوتیاں اٹھا کر بھاگنے کے بعد عمران خان کی جانب سے دی جانے والی کوئی بھی احتجاجی کال کامیاب نہیں ہو پائی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئینی بینچ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ میں خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں سے محرومی کا عمل سیاسی اور پارلیمانی محاذ پر بڑے دھچکے سے کم نہیں کیونکہ اس کی پارلیمانی قوت مزید کم ہو جائے گی۔ ایسے میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس اپنی سیاسی حیثیت و اہمیت منوانے کے لئے کیا آپشنز موجود ہیں۔ اس فیصلے سے یقینا حکومت مضبوط ہوئی ہے اور اس کی دو تہائی اکثریت بحال ہونے جا رہی ہے لیکن اس کے نتیجہ میں جمہوریت بھ کمزور ہو گی۔ جہاں تک پی ٹی آئی کی جانب سے عدالتی فیصلے پر ردعمل کا سوال ہے تو اطلاع یہ ہے کہ مرکزی قیادت نے اسکے خلاف احتجاجی تحریک نہ چلانے کا مشورہ دیا ہے۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان کو پارٹی رہنماؤں نے مشورہ دیا ہے کہ اگر عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کی کال دی جائے گی تو اسکا نتیجہ صرف شرمندگی کی صورت میں نکلے گا کیونکہ اب پارٹی کا ورکر سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار نہیں۔
لیکن احتجاجی تحریک نہ چلانے کے مشورے کی سب سے بڑی وجہ خود پی ٹی آئی کا اندرونی بحران اور انتشار کی کیفیت ہے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی جو پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین بھی ہیں وہ جیل سے باہر آنے میں اس لئے بھی دلچسپی نہیں رکھتے تھے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے جیل کے دوران ان کا باہر آنا اور آ کر کوئی سیاسی کردار ادا کرنا خود ان کے جماعتی مستقبل کے حوالہ سے خطرناک ہو سکتا ہے۔ لہٰذا فی الحال تو ان کی رہائی کے بھی کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ 9 مئی کے کیسز میں جیلوں میں بند پی ٹی آئی رہنمائوں میں اگست اور ستمبر میں عدالتوں کی جانب سے بالآخر سزائیں سنائی جانے کی تشویش ضرور موجود ہے۔
قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو جھاڑو پھر گیا، نمائندگی ختم
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اور خیبر پختون خواہ کی لیڈرشپ آپس میں دست و گریبان ہیں لہذا تحریک کی کال دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جہاں تک پختونخوا حکومت کے مستقبل کا سوال ہے تو فی الحال خود وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور پارٹی کے کٹہرے میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کپتان کہیں گے تو میں صوبائی اسمبلی بھی توڑ دوں گا۔ بار بار اسمبلی توڑے جانے کا بیان اسلام آباد کے لئے خطرناک ہو نہ ہو خود پی ٹی آئی پر اس کے اثرات اچھے نہیں پڑ رہے۔ خود تحریک انصاف کے اندر یہ چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ عمران خان کی جانب سے اسمبلیاں توڑنے کے فیصلے نے پہلے ہمیں اس نہج پر پہنچایا اور اب دوبارہ خیبر پختون خواہ اسمبلی توڑنے کی باتیں کی جا رہی ہیں جو کہ اپنے ہی پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ییں۔
سوال یہ ہے کہ اگر تحریک انصاف والے خیبر پختون خواہ حکومت بھی چھوڑ دیں گے تو پھر کہاں جائیں گے، لہٰذا پی ٹی ائی کے دانشمند رہنماؤں کا مشورہ ہے کہ اس حکومت اور اسمبلی کو غنیمت سمجھا جائے اور مزید توڑ پھوڑ کے عمل سے پرہیز کیا جائے۔
