190 ملین پاؤنڈز کیس کا فیصلہ آنے کے بعد نیب کے خاتمے کا امکان

کرپشن کی روک تھام کیلئے بنائے گئے ادارے قومی احتساب بیورو یعینی نیب کو بند کرنے کی افواہیں ایک بار پھر زیر گردش ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 190 ملین کیس کے فیصلے کے بعد نیب کو ختم ہی کر دیا جائے گا، جبکہ نیب کے افسران کو اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے کے سپرد کر دیا جائے گا۔نیب کو بند کرنے کی افواہوں میں اس وقت مزید شدت آگئی جب قومی احتساب بیورو نے ادارے میں رائٹ سائزنگ کے نام پر گریڈ ایک سے 19 تک کی کل 238 آسامیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

خیال رہے کہ ہر دور حکومت میں جہاں اپوزیشن نیب کو ہدف تنقید بناتی ہے وہیں اسے سیاسی انتقام کا ذریعہ قرار دے کر نیب کو بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، موجودہ حکومتی جماعتیں بھی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ایسے مطالبات کر چکی ہیں ۔

یاد رہے کہ نیب نے اپنے قیام کے بعد سے لے کر اب تک 7 سابق وزرائے اعظم، 14وزرائے اعلیٰ، 78 وزرا، 176 ایم پی اور 114 افسران کے خلاف کیسز اور انکوائریوں کا آغاز کیا، تاہم متعدد ملزمان نیب کیسز سے بری ہی ہوتے رہے۔ اور نیب پر سیاسی انتقام کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ اب ایک بار پھر نیب کی بندش کی خبریں زیر گردش ہیں۔

 نیب میں ڈاؤن سائزنگ اور نیب کی بندش کی پھیلتی افواہوں کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیب میں اچانک بڑی تعداد میں اسامیاں ختم کرنے کا اصل مقصد کیا ہے؟ اور کیا واقعی حکومت کی جانب سے نیب کو ختم کیا جا رہا ہے؟

دوسری جانب سابق نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کے انسداد کرپشن پروگرام کا دستخط کنندہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں ایسا کوئی ادارہ ہے جو کرپشن کی نشاندہی کرے یا کرپشن کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے اگر ایسا ادارہ نہیں ہوگا تو ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو ملنے والی امداد بھی متاثر ہو سکتی ہے۔عمران شفیق کے بقول نیب چونکہ اب سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال ہونے والا ادارہ بن کر سامنے آیا ہے، جبکہ حکومت نے نئی ترامیم کے تحت نیب کے اختیارات کو کافی حد تک محدود کر دیا ہے اور نیب اب صرف ایک برائے نام ادارہ رہ گیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس ادارے کو ختم کر کے ایک نیا ادارہ بنا دیا جائے جو آزاد اور خود مختار ہو، میرے خیال میں نیب کو اگر ختم کیا جائے گا تو نہ تو عدالت یا سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی اعتراض کیا جائے گا اور نا ہی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی جانب سے۔

تاہم سینئر تجزیہ کار انصار عباسی کے مطابق اسامیاں ختم کرنے کا نیب کی بندش سے کوئی تعلق نہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن کے بوجھ میں کمی کے لیے کفایت شعاری مہم اور رائٹ سائزنگ کے تحت دیگر سرکاری اداروں کی طرح نیب میں بھی اسامیاں ختم کی گئی ہیں۔ حکومتی سطح پر ابھی تک نیب کے ادارے کو ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا انصار عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ایک بات ضرور ہے کہ جب سے نیب کے ادارے کا قیام عمل میں آیا ہے ہر کسی کو معلوم ہے کہ اس ادارے کو سیاسی انجینئرنگ اور اپوزیشن کے خلاف کیسز بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیب نے سیاست دانوں کے علاوہ سول بیوروکریسی کو بھی ہراساں کیا کاروباری شخصیات کو بھی پریشان کیا جس کی وجہ سے سول بیوروکریسی اور کاروباری شخصیات نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا جس سے پاکستان کا بہت نقصان ہوا۔

انصار عباسی کے بقول مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے دور حکومت میں یہ بھی کہتی رہی کہ نیب کو ختم کیا جائے گا لیکن نیب کو ابھی تک ختم نہیں کیا جا سکا ہے، سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے دور میں نیب کو استعمال کیا اور نواز شریف فیملی اور مسلم لیگ نون کے خلاف بہت سے کیسز بنائے اور ان کو سزائیں دلوائیں اس وقت نون لیگی قیادت کو نیب سے بہت شکایات تھیں لیکن اب عمران خان کو نیب سے شکایات ہیں انصار عباسی کے خیال میں نیب کے ادارے کو ختم نہیں کیا جائے گا کیونکہ سیاسی جماعتوں کے پاس یہ واحد ایسا ادارہ ہے جسے کوئی بھی حکومتی جماعت اپوزیشن یا اپنے مخالفین کو حراساں کرنے اور ان کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کیلئے استعمال کر سکتی ہے۔

Back to top button