ایرانی میزائل حملوں کےبعد ایک نئی جنگ چھڑنےکا خطرہ منڈلانےلگا

اسرائیل کے جنگی جنون نے بالاخر ایران کو بھی جوابی حملے کرنے پر مجبور کر دیا ہے جس کے بعد خطے میں ایک بڑی جنگ شروع ہونے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں جس کی لپیٹ میں کئی ممالک آ سکتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایران کے میزائل حملوں کو ایک سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اسے ان کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی، جبکہ دوسری جانب ایرانی لیڈر خامنائی نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جوابی کاروائی کی تو اسے اور بھی بڑے حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس ساری صورتحال میں امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھل کر کھڑا ہے اور اس کے جنگی جنون کو اور بھی بڑھاوا دے رہا ہے۔

حال ہی میں امریکی صدر جو بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنی الوداعی تقریر میں فخریہ انداز میں بتایا کہ انہوں نے روسی جارحیت کے خلاف یوکرین اور اس کے عوام کا کیسے دفاع کیا۔ لیکن جب بات مشرق وسطیٰ کی آتی ہے تو انکی پالیسیز میں تضاد نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلی جارحیت اور جبر کا سامنا کرتے فلسطینی عوام کے لیے جو بائیڈن نے کسی قسم کی تشویش کا اظہار نہیں کیا بلکہ اس کے بجائے اسرائیل کو مظلوم کے طور پر دکھایا۔ انہوں نے عالمی ممالک پر زور دیا کہ وہ جنگ جیتنے کے لیے یوکرین کی مدد کریں اور کہا کہ جب تک اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق دیرپا امن کے قیام تک، اس وقت تک امریکا کبھی بھی اس معاملے پر ’آنکھ بند‘ نہیں کرے گا۔

معروف سفارتکار اور صحافی ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بار بار خلاف ورزی کی لیکن اس کے باوجود جو بائیڈن نے اپنی تقریر میں اس کا ذکر نہیں کیا۔ جو بائیڈن نے غزہ میں جنگ بندی کی ضرورت پر بات کی اور خطے میں بڑی جنگ سے اجتناب برتنے سے متعلق بیان دیا۔ لیکن ان کا یہ بیان محض لفاظی لگا کیونکہ ان کی انتظامیہ گزشتہ مہینوں سے مشرق وسطیٰ تنازع میں جو کردار ادا کررہی ہے وہ سب سے سامنے ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قراردادوں کو امریکا نے جس طرح ویٹو کیا اور اسرائیل کو بلاتعطل ہتھیاروں کی فراہمی سے امریکا کا اس جنگ میں کردار ثابت ہوچکا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں واشنگٹن نے اسرائیل کو 12 ارب ڈالرز سے زائد کے ہتھیاروں کی فراہمی کی اور اپنی افواج کو بھی خطے میں تعینات کیا تاکہ وہ ’اسرائیل کی حفاظت‘ کرسکے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیل نے امریکا کی جانب سے8.7 ارب ڈالرز کی اضافی امداد وصول کی۔

ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ گزشتہ 11 ماہ میں بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیلی بمباری اور فوجی جارحیت سے شہید ہونے والے 14 ہزار مظلوم بےگناہ فلسطینیوں کے بارے میں انتہائی شاذو نادر ہی اپنے لب کھولے۔ انہوں نے کبھی بھی ہسپتالوں اور طبی عملے پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت نہیں کی جبکہ امریکی سرکاری ترجمان اکثر ان حملوں کے بارے میں میڈیا کے سوالات پر بھڑک اٹھتے ہیں جو بلاشبہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ امریکا کے اس مؤقف نے اسرائیل کو اپنے مظالم جاری رکھنے کا لائسنس دے دیا ہے۔ اسے حوصلہ ملا ہے کہ وہ غزہ میں نسل کشی جاری رکھے جبکہ وہ سلامتی کونسل کی انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفے، غزہ میں امداد کے داخلے کی اجازت جیسے مطالبات کو بھی نظر انداز کررہا ہے۔ اس نے عالمی عدالت برائے انصاف کے احکامات کو بھی نظر انداز کیا۔

اسرائیل نہ صرف نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ وہ مغربی کنارے پر اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بھی بڑھا چکا ہے۔ اس نے حماس اور حزب اللہ کے کمانڈران کو شہید کیا بلکہ لبنان میں اپنی کارروائیاں مزید تیز کردی ہیں۔ ملیحہ۔لودھی کا کہنا یے کہ اسرائیل نے لبنان میں جب پیجرز حملے کیے تب واشنگٹن اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے چپ سادھ لی گئی۔ اگر اسرائیل کے بجائے کوئی اور ملک ایسی کوئی کارروائی کرتا تو مغرب یقیناً اسے دہشت گردی قرار دیتا۔ یہ واضح طور پر دہشت گردی ہی تھی۔ اسرائیل نے مغربی کنارے میں اپنے وحشیانہ حملوں کا سلسلہ تیز کیا جس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت ہوئی اور انفرااسٹرکچر کو انتہائی سنگین نقصان پہنچا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے جو بائیڈن انتظامیہ کی کمزور پوزیشن اور امریکی سیاسی توجہ انتخابات پر ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آزادانہ کارروائیاں کیں جبکہ علاقائی جنگ کے خطرے کے حوالے سے واشنگٹن کی تنبیہات کو نظر انداز کیا۔ بنیامن نیتن یاہو کو یہ بھی اندازہ ہوچکا ہے کہ امریکا اسرائیل کو روکنے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کرے گا بالخصوص تب کہ جب وہ اسرائیل کے ’دفاع کے حق‘ کو جواز بنا کر اس کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی کے معاہدے کے لیے امریکا نے بہت تاخیر سے کوشش کی لیکن اس نے اسرائیل پر دباؤ نہیں ڈالا جس نے اسرائیلی حکومت کو اتنا وقت دے دیا کہ وہ امن کی کوششوں کی آڑ میں اپنی وحشیانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے۔

بنیامن نیتن یاہو نے جنگ بندی یا امن معاہدے پر کسی طرح کی دلچسپی ظاہر نہیں کی کیونکہ ان کی سیاسی بقا کا دارومدار ہی جنگ جاری رکھنے پر ہے۔ انہیں کرپشن الزامات کا سامنا ہے۔ بنیامن نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں جنگ بندی کے عالمی مطالبات کو مسترد کردیا۔ تاہم بائیڈن انتظامیہ میں موجود چند حلقے اسرائیل کے اس غلط گمان سے اتفاق کرنے لگے ہیں کہ تشدد اور جبر کے زیادہ استعمال سےامن ممکن ہے۔ اسرائیل نے اپنے اس دعوے کو تنازعہ کا ’نیا مرحلہ‘ قرار دیا ہے۔ اسی بنا پر تل ابیب نے لبنان پر متعدد فضائی حملے کیے جنہیں حالیہ دہائیوں کی سب سے بڑی کارروائی بھی کہا جاسکتا ہے۔ ان حملوں میں 700 افراد شہید ہوئے۔ ان حملوں کے بعد سے بڑی جنگ کے خطرات بڑھ چکے ہیں جوکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ حسن نصراللہ کی شہادت کے بعدحزب اللہ کے اتحادی ایران کا مؤقف انتہائی اہم ہوگا۔ اب تک ایران نے تحمل سے کام لیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کے بھڑکانے کے باوجود جنگ کا حصہ بننے سے گریز کیا ہے۔ اپنی سرزمین پر حماس کے سربراہ اسمعٰیل ہنیہ کے قتل کے بعد بھی انہوں نے جوابی کارروائی کا حکم نہیں دیا۔ لیکن حسن نصر اللہ کے قتل کے بعد ایران کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا اور اس نے بھی اسرائیل پر میزائل داغ دیے جس سے خطے میں ایک نئی جنگ چھڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ بار بار یہی منترا پڑھتا یے کہ اسرائیل کو دفاع کا حق حاصل ہے، گویا جیسے امریکہ اسرائیل کو ہر بین الاقوامی قانون کو توڑنے، جنگ جرائم کا ارتکاب، ممالک کی خودمختاری پر حملہ اور پوری قوم کو صفہ ہستی سے مٹانے کی اجازت دیتا ہے۔ اس روش سے اسرائیل محفوظ نہیں ہوگا بلکہ اس کے دشمنوں میں اضافہ ہوگا اور وقت کے ساتھ ساتھ قابض قوتوں کے خلاف مزاحمت مضبوط ہوگی۔ دوسری جانب عرب حکومتوں نے اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی سے روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے صرف مذمتی بیانات جاری کیے۔ عرب ممالک کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی نہیں کیے جانے کی صورت میں اسرائیل کو اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا حوصلہ ملا ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیل ایرانی میزائیل حملوں کا کیا جواب دیتا ہے اور کیا دنیا ایک نئی جنگ کا سامنا تو نہیں کرنے والی؟؟؟

Back to top button