اسلام آباد دھماکے کے بعد لاہور اور کراچی میں بھی حملوں کا خطرہ

 

 

 

اسلام آباد کچہری میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد کی اموات نے ملک بھر میں سکیورٹی خدشات کو شدید تر کر دیا ہے اور اب لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں بھی ایسی دہشتگرد کاروائیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ حملہ تحریکِ طالبان پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے ایما پر کیا، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شدت پسند عناصر اب لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہری و معاشی مراکز کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

 

دہشت گردی کے خدشات کے پیشِ نظر پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے صوبے بھر میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو ’پیشگی، مربوط اور فعال اقدامات‘ اٹھانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پہلے ہی امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں سکیورٹی فورسز مسلسل دہشت گردوں ہے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ اسلام آباد پولیس نے حالیہ دھماکے کے بعد شہر بھر میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ تمام ناکوں پر چیکنگ کا نظام مزید مؤثر بنایا گیا ہے جبکہ ریڈ زون میں داخل ہونے والی گاڑیوں کو مکمل شناخت کے بعد ہی جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق حساس مقامات پر سی سی ٹی وی نگرانی اور سونگھنے والے کتوں کے ذریعے تلاشی کے اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔

 

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نومبر کے مہینے میں خریداری، تقریبات اور مذہبی اجتماعات کے باعث رش میں اضافے سے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے ایک سرکاری نوٹیفکیشن میں آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور، تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز اور ریسکیو اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہائی الرٹ رہیں اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات اٹھائیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حساس، اہم اور گنجان آباد علاقوں میں سکیورٹی بڑھائی جائے اور تمام اضلاع میں تیار کردہ سکیورٹی پلان پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

 

ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومتِ پنجاب کی اوّلین ترجیح ہے اور تمام اداروں کو انتہاپسندی کے خطرات کے خلاف پیشگی کارروائیاں یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ لاہور میں خصوصی طور پر مارکیٹوں، شاپنگ مالز اور تعلیمی اداروں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے جبکہ اہم شاہراہوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بین الصوبائی بس ٹرمینلز پر بھی چیکنگ سخت کر دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق کراچی سمیت صوبے کے تمام بڑے شہروں میں 30 نومبر تک سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی۔

 

ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ویک اینڈز پر بھی ہائی الرٹ رہیں اور غیر متعلقہ افراد کا داخلہ محدود کر دیں۔ تمام بڑے شہروں کے داخلی و خارجی پوائنٹس پر چیکنگ کو مزید سخت کیا جا رہا ہے جبکہ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو جرائم سے متاثرہ اور مضافاتی علاقوں میں مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی خطرے پر بروقت قابو پایا جا سکے۔

بلوچستان میں محکمہ داخلہ کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیش نظر لورالائی روٹ (این-70) پر ٹرانسپورٹ، نجی گاڑیاں اور ٹیکسی سروسز کو 14 نومبر تک بند رکھا گیا ہے۔ محکمہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی امن و امان کے پیش نظر عارضی طور پر نافذ کی گئی ہے۔ تاہم، مقامی یا اندرونی علاقوں میں شہریوں کے آمد و رفت پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ بلوچستان میں فورسز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پنجاب اور سندھ کی سمت جانے والی شاہراہوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کریں اور مشکوک نقل و حرکت پر فوری کارروائی کریں۔

 

خیبر پختونخوا میں بھی امن و امان کی صورتحال پہلے سے ہی تشویشناک ہے۔ باجوڑ، شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور کے نواحی علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی آپریشنز جاری ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق شدت پسند عناصر افغانستان کی سرحدی پٹی سے ملک کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے سدباب کے لیے بارڈر سکیورٹی اور انٹیلی جنس نگرانی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد خودکش حملے میں افغان طالبان اور بھارت ملوث نکلے

پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ چوکنا رہیں، سکیورٹی اہلکاروں سے تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ محکمہ داخلہ سندھ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پُر ہجوم مقامات پر غیر ضروری جانے سے گریز کریں، گاڑیاں غیر محفوظ مقامات پر پارک نہ کریں اور کسی مشکوک شخص یا بیگ کی اطلاع پولیس ہیلپ لائن 15 یا رینجرز واٹس ایپ 1101 پر دیں۔ کراچی اور لاہور میں تمام شاپنگ مالز، مارکیٹس، تعلیمی اداروں اور ٹرانسپورٹ مراکز پر واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز اور 24 گھنٹے سی سی ٹی وی نگرانی لازمی قرار دی گئی ہے۔

 

Back to top button