صدارتی آرڈیننس کے بعد الیکشن کمیشن اور حکومت کا پھڈا

کپتان حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پر کاٹنے کے لیے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے انتخابی قوانین میں یکطرفہ تبدیلیوں کے بعد حکومت اور الیکشن کمیشن کا ایک بار پھر سے میچ پڑ گیا ہے۔ اٹارنی جنرل کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کو مطمئن کرنے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد اس حوالے سے بدترین ڈیڈ لاک پیدا ہو چکا ہے کیونکہ حکومت نے ترمیم واپس لینے سے انکار کر دیا ہے، لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی اتھارٹی منوانے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں؟

صدر عارف علوی کے جاری کردہ آرڈیننس کے ذریعے ایکٹ میں دفعہ 181 (اے) کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نیا قانون پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی یا بلدیاتی حکومت کے منتخب رکن بشمول آئین یا کسی دوسرے قانون کے تحت کسی بھی عہدے پر فائز رکن کو اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی علاقے یا حلقے میں عوامی جلسوں میں جاسکیں یا خطاب کرسکیں۔

تاہم ای سی پی حکام نے کہا کہ انتخابی ایکٹ کی دفعہ 233 کے تحت سیاسی جماعتوں، انتخابی مہم میں حصہ لینے والے امیدواروں اور انتخابی مشق میں شامل دیگر افراد کے لیے ضابطہ اخلاق وضع کرنا ان کا کام ہے۔ الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 233 میں کہا گیا ہے کہ کمیشن، سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت سے، سیاسی جماعتوں، انتخاب لڑنے والے امیدواروں، انتخابی ایجنٹوں اور پولنگ ایجنٹوں کے لیے ضابطہ اخلاق وضع کرے گا۔ ساتھ ہی کمیشن سیکیورٹی اہلکاروں، میڈیا اور انتخابی مبصرین کے لیے بھی ضابطہ اخلاق وضع کرے گا۔

اس کے علاوہ سیاسی جماعت، امیدوار، الیکشن ایجنٹ، پولنگ ایجنٹ، سیکیورٹی اہلکار، میڈیا اور مبصر انتخاب کے دوران اس ضابطہ اخلاق کی پابندی کریں گے۔ دفعہ 233 میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو آئین کی دفعہ 222 کے تحت کوئی بھی ایسا قانون منظور کرنے سے روک دیا گیا ہے جس کا تاثر چیف الیکشن کمشنر یا خود کمیشن کے کسی بھی اختیارات کو چھیننے یا ختم کرنے کا ہو۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کے انعقاد سے پہلے یہ ترمیمی آرڈیننس لانے کا مقصد حکومت کی جانب سے کےپی کے الیکشن کے دوران وسیع پیمانے پر سرکاری وسائل کا استعمال کرنا ہے۔ اٹارنی جنرل کا موقف ہے کہ اپوزیشن اور حکومتی ممبران کا حق ہے کہ وہ الیکشن مہم چلائیں جبکہ الیکشن کمیشن نے اس ترمیم کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت کے میڈیا دشمن پیکا قانون پر پہلی ضرب لگ گئی

اس حوالے سے الیکشن کمیشن حکام کی ٹیم نے سیکرٹری عمر حمید کی سربراہی میں اٹارنی جنرل بیرسٹر خالد جاوید خان سے ملاقات کی جس میں الیکشن کمیشن نے واضح کہا کہ الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترمیم آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے لہذا اسے واپس لیا جائے۔ الیکشن کمیشن حکام کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ضابطہ اخلاق مرتب کرتا ہے لہذا حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے من مرضی سے ترمیم متعارف کروانا غیر آئینی اقدام ہے جسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا متحرک کردار انتخابی مہم سے متعلق صدارتی آرڈیننس کے اجراء کی وجہ بنا ہے۔ کمیشن کی جانب سے حکومتی رہنمائوں کو انتخابی مہم سے روکنے کی بنیادی وجہ سرکاری وسائل اور اثرورسوخ کا بےجا استعمال روکنا تھا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی قانون پر عمل درآمد کے جذبے کو دیکھتے ہوئے حکومت اس کی ترمیم کی جانب راغب ہوئی تاکہ وفاقی اور صوبائی وزراء، دیگر کابینہ ارکان اور منتخب نمائندوں کو اجازت دی جاسکے کہ وہ خیبر پختون خوا اور پنجاب کے لوکل الیکشنز کے آئندہ انتخابات میں مہم چلاسکیں۔

نئے صدارتی آرڈیننس سے الیکشنز ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے جو کہ 120 روز تک قابل عمل رہے گی۔ قلیل مدتی ترامیم کا بظاہر مقصد حکومتی عہدیداروں کو سیاسی مہم چلانے کے لیے قانونی راستہ فراہم کرنا ہے۔ ان ترامیم کی مدد سے ارکان پارلیمنٹ، صوبائی اور لوکل گورنمنٹ کے ارکان آئین کے تحت حلقے میں کہیں بھی عوامی اجتماعات کرسکتے ہیں۔

ناقدین کے خیال میں ضمنی انتخابات میں پے در پے شکستوں کی وجہ سے تحریک انصاف چاہتی ہے کہ وہ سرکاری وسائل اور وزرا کا اثر ورسوخ استعمال کرکے بلدیاتی انتخابات اور عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرے۔ انہی مقاصد کے لئے کپتان حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے انتخابی ضابطہ اخلاق میں ترمیم کی تھی جس پر اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ سب سے بڑے سٹیک ہولڈر الیکشن کمشین نے اعتراض اٹھاتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ صرف ضمنی انتخابات میں ہی نہیں بلکہ لوکل الیکشنز کے دوران بھی ای سی پی نے وفاقی اور صوبائی وزرا کے حلقوں میں انتخابی مہم چلانے کا نوٹس لیا تھا اور ایک موقع پر ڈیرہ اسماعیل خان سے ایک وفاقی وزیر کو بھی نکالنے کا حکم دیا تھا۔ ای سی پی کے جرمانے سے بچنے کے لیے موجودہ حکومت میں ایسا ہوا ہے کہ اس کے کچھ کابینہ ارکان نے استعفیٰ دے دیا ہے جس کا مقصد پی ٹی آئی امیدواروں کی انتخابی مہم چلانا ہے۔ خیبر پختونخوا کے لوکل گورنمنٹ انتخابات کے پہلے مرحلے میں شدید نقصان اٹھانے کے بعد حکومت کوئی چانس نہیں لینا چاہتی اور وہ پرجوش طریقے سے انتخابی مہم چلانا چاہتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشنز ایکٹ میں ترمیم کرنے والے متنازع آرڈیننس کے تحت وزیروں سمیت عوامی عہدے داروں کو انتخابی امیدواروں کی مہم میں حصہ لینے کی اجازت ملنے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت ای سی پی کے اجلاس میں نوٹ کیا گیا ہےکہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد حکومت انتخابات میں اپنا اثر و رسوخ اور ریاستی وسائل استعمال کر سکے گی، جس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ تمام امیدواروں کو مہم چلانے کے لیے ایک جیسے مواقع نہ ملیں۔ الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 181 میں کہا گیا ہے کہ ‘کوئی بھی حکومتی عہدیدار یا منتخب نمائندہ بشمول مقامی حکومت کا عہدیدار یا منتخب نمائندہ، اس حلقے کے انتخابی پروگرام کے اعلان کے بعد کسی حلقے کے لیے کسی ترقیاتی اسکیم کا اعلان نہیں کرے گا’۔

Back to top button