سزاؤں کے بعدتحریک ا نصاف  کادوبارہ اجتماعی  استعفے دینےپرغور

 عدالتی کارروائیوں نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی حیثیت کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے تناظر میں سامنے آنے والے عدالتی فیصلے، بالخصوص اہم پارٹی رہنماؤں کو سنائی جانے والی سزاؤں نے پی ٹی آئی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ اب تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 75 اراکین 9 مئی کے مقدمات کی زد میں آ چکے ہیں، جن میں سے صرف قومی اسمبلی کے 52 ارکان پر سنگین الزامات ہیں۔ فیصل آباد عدالت کے 31 جولائی کے فیصلے میں عمر ایوب، زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا اور رائے حسن نواز کو سزا سنائی جا چکی ہے، جبکہ دیگر 48 اراکین کے مقدمات بھی اختتامی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

9مئی کے مقدمات میں ملوث پی ٹی آئی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے خلاف مسلسل سامنے آنے والے فیصلوں کے بعد تحریک انصاف کا اپنی پارلیمانی طاقت کو برقرار رکھنا ناممکن دکھائی دیتا ہے اسی لئے اب ایک بار پھر پی ٹی آئی اراکین نے عمران خان کو اپنی رہی سہی ساکھ کو بچانے کیلئے قومی اسمبلی سے فوری مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا ہے۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی، خیبرپختونخوا اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے 75اراکین کیخلاف 9 مئی کے مقدمات درج ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 83 اراکین میں سے 52ارکان 9مئی کے سنگین مقدمات میں ملوث ہیں جن میں 31جولائی کوفیصل آباد کیس میں پی ٹی آئی کے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان ، پارلیمانی لیڈر زرتاج گل وزیر، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا اور رکن قومی اسمبلی رائے حسن نواز کو سزائیں دی گئی ہیں جبکہ دیگر 48 پی ٹی آئی ارکان قومی اسمبلی کے خلاف مقدمے اپنے اختتامی مراحل میں ہیں جن کو آنے والے چند دنوں میں سزائیں متوقع ہیں۔ مبصرین کے مطابق عدالتوں کی جانب سے قومی اسمبلی میں موجود پی ٹی آئی حماکیت یافتہ اراکین 52اراکین کو سزائیں سنائے جانے کے بعد ان کی نااہلی نوشتہ دیوار ہے جس سے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی طاقت 83 سے سکڑ کر 31اراکین تک محدود ہو جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے مستقبل قریب میں 52اراکین کی یقینی نااہلی کو دیکھتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کواسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا ہے تاکہ عوام کے سامنے مظلومیت کارڈ زوروشور سے کھیلا جا سکے تاہم عمران خان نے اس حوالے سے فوری فیصلہ کرنے کی بجائے مزید غوروفکر کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

تاہم بعض دیگر مبصرین کے مطابق 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ میں 52 پی ٹی آئی اراکین کو سزاؤں اور نااہلی کے باوجود پارلیمانی منظر نامے میں پی ٹی آئی اپنے حمایت یافتہ 31 ارکان کے ساتھ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کی حیثیت برقرار رکھے گی۔ پارلیمانی ذرائع نےبتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی نوٹیفائی ہونے تک سزایافتہ ارکان ایوان کی پارلیمانی کارروائی میں حصہ لے سکتے ہیں جبکہ گرفتاری کی صورت میں سپیکر کے پاس پرو ڈکشن آرڈر جاری کرنے کا اختیار بھی ہے ، ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کا آمدہ اجلاس 4اگست سے شروع ہو رہا ہے ، اس وقت تک نئی پارٹی پوزیشن سامنے آسکتی ہے ۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کو ابھی تک فیصل آباد عدالت کا فیصلہ موصول نہیں ہوا ، عدالتی فیصلہ موصول ہونے کے بعد الیکشن کمیشن سزا یافتہ پی ٹی آئی کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا باضابطہ اعلامیہ جاری کرے گا۔ الیکشن کمیشن کے نوٹفکیشن کے بعد سزا یافتہ اراکین کو قومی وصوبائی اسمبلیوں کی پارلیمانی کارروائی سے الگ کیا جا سکے گا۔

مبصرین کے مطابق مسلسل سامنے آنے والے عدالتی فیصلوں کے بعد اب یہ بات صاف دکھائی دے رہی ہے کہ عدالتی فیصلوں کی لہر سے پی ٹی آئی کی پارلیمانی حیثیت شدید متاثر ہو گی۔ 52 اراکین کی متوقع نااہلی سے عمران خان کی حکمت عملی پر ایک بڑا سوالیہ نشان اُٹھتا ہے۔یہ بحران محض قانونی نہیں بلکہ سیاسی اور پارلیمانی بھی ہے۔ اگر یہ 52 ارکان نااہل ہو جاتے ہیں تو پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں عددی حیثیت 83 سے 31 تک محدود ہو جائے گی، جو کسی بھی بڑی اپوزیشن پارٹی کے لیے نہایت کمزور پوزیشن ہے۔ مبصرین کے بقول یہ تعداد اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے ناکافی تو نہیں، مگر غیر مؤثر ضرور ہو گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول "اس صورتحال میں عمران خان کے سامنے دو ہی راستے ہیں: یا تو وہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دے کر مظلومیت کا بیانیہ مزید طاقتور کریں، یا باقی بچ جانے والی پارلیمانی قوت کے ذریعے ایوان میں موجود رہ کر قانونی لڑائی لڑیں۔”ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندرونی حلقوں نے عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسمبلیوں سے مستعفی ہو کر نئی سیاسی مہم کی بنیاد رکھیں، تاکہ وہ عدالتوں کی جانب سے ممکنہ نااہلیوں کو سیاسی انتقام کے طور پر پیش کر سکیں۔ تاہم عمران خان نے فوری فیصلے سے گریز کرتے ہوئے "مزید غور و فکر” کا عندیہ دیا ہے۔

Back to top button