عثمان ہادی کے بعد مزید انڈیا مخالف بنگلہ دیشی لیڈر خطرے میں

 

 

 

پاکستان کے بعد بنگلہ دیش بھی بھارتی ریاستی دہشتگردوں کے نشانے پر آ گیا، بنگلہ دیشی نوجوان رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد بھارتی فوج کے سابق میجر نے ایک اور بنگالی طالبعلم رہنما حسنات عبداللہ کو جان سے مارنے کی دھمکی دے دی ہے، بھارتی میجر کا کہنا تھا کہ حسنات باز آ جاؤ ورنہ اگلی باری تمہاری ہو گی۔ ناقدین کے مطابق مودی سرکار کی سرپرستی میں جاری ریاستی دہشت گردی اور تشدد کی پالیسیاں عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ پاکستان، کینیڈا، امریکہ اور آسٹریلیا کے بعد اب بنگلہ دیش میں ایسے واقعات سامنے آنا اس تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ بھارت اپنی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے سرحد پار کارروائیوں کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بنگلہ دیشی نوجوان رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد اب بھارتی فوج کے سابق میجر کا بنگالی نوجوان رہنما حسنات عبداللہ کو گردن میں گولی مارنے کی دھمکی دینا اس بات کا غماز ہے کہ بھارتی دہشتگرد بے لگام ہو چکے ہیں اگر انھیں ابھی سے پٹا نہ ڈالا گیا تو یہ جلد پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیں گے۔ تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت نے بنگلہ دیشی نوجوان عثمان ہادی کو قتل کیوں کروایا؟ اور اب نوجوان طالبعلم رہنماؤں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا اصل مقصد کیا ہے؟

خیال رہے کہ بنگلہ دیشی نوجوان رہنما عثمان ہادی کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد سامنے آ چکے ہیں۔ بنگلہ دیشی پولیس کے مطابق عثمان بادی پر فائرنگ کرنے والا عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم کا رکن ملزم فیصل کریم مسعود اور اس کا ساتھی موٹر سائیکل سوار عالمگیر شیخ حملے کے فوراً بعد بھارت فرار ہو گئے ہیں۔ بنگلہ دیشی پولیس ذرائع کے مطابق دونوں ملزمان جمعہ کے روز میمن سنگھ کے علاقے ہلو آ گھاٹ کے راستے سرحد عبور کر کے بھارت داخل ہوئے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے روز ملزمان میر پور سے غازی پور گئے۔ بعد ازاں مختلف گاڑیاں تبدیل کرتے ہوئے سرحدی علاقے تک پہنچے۔ عثمان بادی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا، جب وہ مسجد سے نماز پڑھنے کے بعد رکشے میں واپس جارہے تھے۔ قتل کی واردات کے بعد قاتل فیصل کریم اپنے ساتھی سمیت موٹر سائیکل پر اگر گاؤں میں واقع اپنی بہن کے گھر گیا۔ وہاں سے ایک سی این جی رکشے میں دونوں نکلے۔ اسی رات فیصل کریم اور عالمگیر شیخ بھارتی بارڈر کراس کر گئے۔ پولیس نے ان دونوں کو سرحد پار کرانے میں سہولت کاری کرنے والے سبون دیو اور سنجے جسم کو گرفتار کر لیا ہے۔  پولیس کی کسٹڈی میں دونوں ملزمان سے مزید تہلکہ خیز انکشافات متوقع ہیں، جس سے ساری تصویر واضح ہو جائے گی ۔ بنگلہ دیشی حکام کے مطابق عثمان بادی کو مودی سرکار نے اپنی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ”را“ کے ذریعے قتل کرایا۔ جبکہ را نے اپنی اس دہشتگردانہ کارروائی کیلئے اپنی بغل بچہ عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم چھاترالیگ کو استعمال کیا تحقیقات کاروں کے مطابق عثمان ہادی کا مبینہ قاتل فیصل کریم مسعود عرف داؤد بن فیصل چھاترا لیگ کا سابق مرکزی نائب صدر اور ڈھاکہ میٹرو پولیٹن شمالی یونٹ کا سابق صدر ہے۔

تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت نے عثمان ہادی کو قتل کیوں کروایا اس کا اصل مقصد کیا تھا؟ بھارت مخالف جواں سال عثمان بادی، شیخ حسینہ کا تختہ الٹنے والی تحریک کے ایک اہم اور فعال کردار تھے۔ وہ زی جنریشن کے زیر اہتمام بنائے جانے والے سیاسی پلیٹ فارم ” انقلاب منچہ کے ترجمان کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ بنگلہ دیش میں جولائی انقلاب کے بعد، وہ نو جوانوں کی زیر قیادت تحریکوں میں ایک نمایاں شخصیت کے طور پر ابھرے۔ جنہیں بنگلہ دیش میں بھارتی تسلط کے خلاف اپنے فعال سیاسی موقف اور جولائی کے شہداء کے حقوق کی وکالت کے لیے بھی جانا جاتا تھا۔ عثمان بادی کے قریبی لوگوں کے مطابق ان کے دوٹوک بھارت مخالف سیاسی موقف، ان کی شعلہ بیانی، حسینہ واجد کے خلاف جولائی کی بغاوت اور عوامی لیگ پر پابندی کی تحریک میں ان کے اہم کردار نے ان کی زندگی کے لیے خطرات بڑھا دیئے تھے۔ اسی تناظر میں انہیں کافی عرصے سے بنگلہ دیش کے مقامی اور بھارتی فون نمبرز سے سنگین دھمکیوں کا سامنا تھا۔ لیکن اس کی پرواہ کیے بغیر وہ بنا سیکورٹی کے گھوما پھرا کرتے تھے۔ اسی لیے ایک رکشہ میں جاتے ہوئے ، قاتلوں کا آسان ہدف بن گئے۔ مبصرین کے مطابق بھارت عثمان بادی کو قتل کروا کر بنگلہ دیشن میں اپنی دھاک بٹھانا چاہتا تھا اور بنگلہ دیشی سیاسی رہنماؤں کو یہ باور کروانا چاہتا تھا کہ وہ سب اس کے نشانے پر ہیں۔ تاہم بھارت کا یہ قدم اس کے گلے پڑ گیا اور اس وقت پوار بنگلہ دیشن انڈیا مخالف نعروں سے گونج رہا ہے۔

مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ بھارت اور اس کی پالتو عوامی لیگ کی آنکھوں میں ہادی اس لئے بھی کھٹک رہے تھے کہ وہ نہ صرف عوامی لیگ پر پابندی لگانے کی تحریک میں پیش پیش تھے، بلکہ شیخ حسینہ واجد کے دور میں بنگلہ دیش میں ہونے والی بھارتی مداخلت کے کڑے ناقد بھی تھے۔ ان کے قریبی ساتھیوں کے بقول بھارت کو سب سے زیادہ پریشانی عثمان بادی کے اس موقف سے تھی ، جس میں وہ بھارت کے زیر قبضہ شمالی ریاستوں سیون سسٹرز کو واپس لینے کی بات کیا کرتے تھے اور اس کا اظہار کھلے عام اپنی شعلہ بیان تقریروں میں کرتے۔ وہ سکھوں کی خالصتان تحریک کے بھی زبر دست حامی تھے۔ حتیٰ کہ اپنے قتل سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے بھارت کا جو نقشہ جاری کیا، اس میں بھارتی پنجاب کو خالصتان کے طور پر ایک الگ ریاست دکھایا گیا تھا۔

PIA کے جہاز کی بھارت میں لینڈنگ،انڈین سیکیورٹی فورسز میں کھلبلی

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی سرکار کا عثمان ہادی کے قتل کرنے کے پیچھے اصل مقصد طلبہ تحریک کو مشتعل کر کے بنگلہ دیش میں انارکی پھیلانا تھا کیونکہ مودی سرکار کی پناہ میں بیٹھی حسینہ واجد نہیں چاہتی کہ بنگلہ دیش میں الیکشن ہوں۔ چنانچہ ایک ایسے موقع پر جب بنگلہ دیش میں عام انتخابات سر پر ہیں، ایک ایسی شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے چنا گیا، جس کے قتل سے بنگلہ دیش میں فسادات پھیل جائیں۔ تاہم بھارت کا یہ اقدام اس کے اپنے گلے پڑ گیا ہے اور بنگلہ دیش میں بھارت مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔

Back to top button