خامنہ ای کو مارنے کے لیے اے آئی کلاؤڈ ٹیکنالوجی استعمال ہوئی

معروف لکھاری اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی جان لینے کے لیے جدید ترین اے آئی کلاؤڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کا بظاہر مقصد تو اس کا نیوکلیئر پروگرام تباہ کرنا ہے لیکن اس کا اصل مقصد ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر کا کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

اپنے سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ امریکہ نے 28 فروری 2026 کو آیت اللہ خامنہ ای کو ہائی ویلیو ٹارگٹ کے طور پر نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں جدید اے آئی کلاؤڈ سسٹم استعمال کیا گیا، جو خامنہ ای کی لوکیشن، حملے کا پلان اور بعد کی تصویر کشی تک سب کچھ خودکار طریقے سے انجام دیتا رہا۔ ان کے مطابق یہ دنیا میں پہلی بار ہوا کہ اے آئی کلاؤڈ کے ذریعے کسی ہائی پروفائل ہدف کو اتنی مہارت کے ساتھ صفحہ ہستی سے مٹایا گیا ہو۔

سینیئر صحافی کے مطابق یہ منصوبہ ہر لحاظ سے مکمل تھا، لیکن اس کی بلا تعطل تکمیل کے لیے مستقل بجلی اور پاور کی فراہمی لازمی تھی، ورنہ سسٹم معطل ہو سکتا تھا۔ اس لیے حملے کا منصوبہ فول پروف بنایا گیا تاکہ خامنہ ای کے بچنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ سینیئر صحافی نے کہا کہ اے آئی کلاؤڈ سسٹم نے نہ صرف خامنہ ای پر حملے کی نگرانی کی بلکہ ہدف کی شناخت، حملے کے وقت اور مقام کی تعیناتی سمیت آپریشن کی تکمیل میں بھی اہم ترین کردار ادا کیا۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکی سروسز نے انسانی مداخلت کم سے کم کی اور کارروائی کی درستگی کو یقینی بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی اس کارروائی کا اصل مقصد ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر پابندی لگانا نہیں بلکہ ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر پر قابو پانا تھا۔ ایران نے جنیوا مذاکرات کے دوران یورینیم کی ریڈکشن کر کے اپنے پروگرام کو 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن امریکہ نے فوری طور پر حملہ کر دیا کیونکہ اس کا اصل مقصد کچھ اور تھا۔ انکا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران میں ریجیم چینج کے ذریعے اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومت لانا چاہتے ہیں۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ایران کے چاروں اطراف واقع ممالک خصوصاً قطر، عراق، بحرین، یو اے ای، سعودی عرب اور اردن میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی شدت بڑھ رہی ہے، لیکن امریکہ نے ان عرب ممالک کو ایران کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اپنے طویل مدتی اقتصادی اور فوجی مفادات کو مقدم رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی اور اسرائیلی کمپنیاں خطے میں موجود عرب ممالک کو دفاعی ساز و سامان فراہم کر کے اور ڈویلپمنٹ کے نام پر سرمایہ لوٹ کر اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتی ہیں، جس کی وجہ سے ایران پر براہِ راست حملہ ممکن ہوا۔

خامنہ ای کابیٹاقابل قبول نہیں،ایران میں مرضی کی حکومت بناؤں گا،ٹرمپ

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ ایران کا جغرافیائی محل وقوع اور تیل و گیس کے ذخائر اسے خطے میں ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔ ایران خلیج فارس کے اہم راستے اور توانائی کی عالمی مارکیٹ میں کلیدی کردار رکھتا ہے، جس کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل نے اس پر جدید ترین ہتھیار اور ٹیکنالوجی استعمال کی۔ جاوید چوہدری کے مطابق ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر حملے کا جواز محض ایک بہانہ تھا۔ امریکی سٹریٹیجک پلان میں ایران کے تیل اور گیس کے وسائل کا کنٹرول لازمی ہے، کیونکہ یہ خطہ عالمی توانائی مارکیٹ میں اہم ہے اور چین، روس اور دیگر ممالک کے ساتھ توازن کو متاثر کرتا ہے۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ خطے میں عرب ممالک کا کمزور ہونا اور آپس میں تنازعات پیدا ہونا بھی امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے مطابق ہے، تاکہ ایران کو اقتصادی اور فوجی طور پر محدود کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنائی کے قتل کا منصوبہ جدید جنگی ٹیکنالوجی، خودکار نظام اور اقتصادی پالیسیوں کے امتزاج کا نتیجہ تھا، جو ایران پر دباؤ ڈال کر خطے میں طاقت کے توازن کو امریکی اور اسرائیلی مفادات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں، یعنی ایران میں ریجیم تبدیل ہوتا ہے یا نہیں؟

Back to top button