پاکستان میں حملوں کے بعد افغانستان پر فضائی بمباری کا امکان

اسلام آباد کچہری میں ہونے والے خودکش دھماکے اور وانا کیڈٹ کالج پر دہشت گردوں کے حملے نے خطے میں ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور ممکنہ پاک افغان جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے افغانستان پر دوبارہ فضائی کارروائیوں کی تنبیہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں کابل کا ہاتھ پایا گیا تو اسلام آباد خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ادھر وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا ہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں افغان طالبان اور بھارت کا گٹھ جوڑ سامنے آ رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق انڈیا اور افغانستان کا تزویراتی گٹھ جوڑ اب براہِ راست پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جس سے خطے میں بڑی جنگ شروع ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ پاکستانی عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان انڈیا گٹھ جوڑ توڑنے کے لیے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دوبارہ سے بڑے پیمانے پر پاکستانی فضائی حملوں کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کچہری میں ہونے والے خودکش دھماکے نے وفاقی دارالحکومت کو لرزا کر رکھ دیا۔ یہ دھماکہ نیو دہلی میٹرو سٹیشن کے قریب کار بم دھماکے کے صرف 13 گھنٹے بعد ہوا جس میں 12 لوگ شہید ہو گئے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق دنوں واقعات کی ٹائمنگ کوئی اتفاق کی بات نہیں بلکہ ایک کلیئر میسج ہے کہ بھارت کی مودی سرکار اور افغانستان کی طالبان حکومت اب پاکستان مخالف کارروائیوں میں قریبی ہم آہنگی کے ساتھ سرگرم ہیں۔ اسلام آباد دھماکے کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان کے ذیلی گروپ جماعت الاحرار نے قبول کی ہے، جبکہ وانا میں ہونے والے فدائی حملے میں بھی افغان سرزمین کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغان حکومت کے حالیہ رویّے میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کا حالیہ دورۂ بھارت ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں بھارتی ہم منصب ڈاکٹر سبرامنیم جے شنکر سے ملاقات کے دوران متقی نے نہ صرف بھارت کے ساتھ اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور دیا بلکہ پاکستان کے حوالے سے شدید تنقیدی مؤقف بھی اپنایا۔ انہوں نے انڈین میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قیمت پر تیار ہے اور ہم کسی ملک کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ اس بیان کو سفارتی حلقوں میں پاکستان پر بالواسطہ تنقید کے طور پر دیکھا گیا تھا۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ انہی افغان طالبان کو ماضی میں بھارتی حکومت پاکستان کا سٹریٹیجک اثاثہ کہا کرتے تھے۔ مگر اب حالات یکسر بدل چکے ہیں؛ وہی طالبان آج بھارت کے ساتھ کھڑے ہو کر پاکستان کے خلاف سفارتی و سیاسی محاذ پر سرگرم ہیں۔ یاد رہے استنبول میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کے بعد وقتی جنگ بندی تو قائم ہے، لیکن اعتماد کی فضا بحال نہیں ہو سکی۔ کابل حکومت نے مذاکرات کے بعد غیر ملکی سفیروں کو ایک بریفنگ دی لیکن پاکستان کو دعوت نہیں دی گئی۔ افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے پاک افغان مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار اسلام آباد کو قرار دیا جبکہ پاکستان نے اسے افغان فریق کی ہٹ دھرمی کا نتیجہ بتایا۔ دفترِ خارجہ پاکستان کے مطابق افغان وفد مزاکرست کے دوران عملی اقدامات سے گریز کرتا رہا اور محض بیانات کے ذریعے وقت گزاری کرتا رہا۔
ریٹائرڈ بریگیڈیئر آصف ہارون کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور وانا میں ہونے والے دہشت گرد حملے بھارت اور افغانستان کے مابین سٹریٹیجک الحاق کا حصہ ہیں۔ انکے مطابق بھارت کی موجودہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ پاکستان کو مشرقی، مغربی اور اندرونی سطح پر الجھایا جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت نے طالبان حکومت کو اسرائیلی ساختہ ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کی ہے، جسے اب پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ بریگیڈیئر آصف ہارون کے مطابق بھارت نے سرینگر میں رافال طیارے تعینات کر کے جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں، جبکہ افغانستان میں وہ اپنے پرانے آٹھ قونصل خانوں کو دوبارہ فعال کرنے جا رہا ہے۔ یہ تمام اقدامات پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایسے میں پاک افغان جنگ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی ماہر مائیکل کولگلمین کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والا خودکش حملہ ہمیں طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کو دی گئی حالیہ دھمکیوں کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دونوں حملے محض دہشت گردی نہیں بلکہ افغانستان کی ریاستی پالیسی میں خطرناک تبدیلی کی علامت ہیں، جو براہِ راست پاکستان کے لیے نیا چیلنج ہیں۔ انکے مطابق طالبان حکومت دوہری پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ دوحہ معاہدے کی بات کرتی ہے، دوسری طرف ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کی میزبانی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا اب خطے میں پراکسی جنگ کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ اس برس مئی میں پاکستان پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد بھارت اپنی ہزیمت چھپانے کے لیے اپنی سرزمین پر دہلی کار بم دھماکے جیسے فالس فلیگ آپریشنز کروانے کے علاوہ افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔
اسلام آباد دھماکے کے بعد لاہور اور کراچی میں بھی حملوں کا خطرہ
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ پالیسی، بھارت کے بڑھتے اثر و رسوخ، اور طالبان حکومت کے دوغلے مؤقف نے خطے میں امن کی امید کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اگر دہشت گردی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن عسکری اقدام اٹھانے میں دیر نہیں کرے گا۔ لہذا اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ اگلے 48 گھنٹوں میں پاکستانی فضائیہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر دوبارہ بمباری کا سلسلہ شروع کر دے گی۔
