فیض حمید اینڈ کمپنی کی عاصم منیر مخالف سازش کی کہانی

جنرل ریٹائرڈ اظہر عباس اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جانب سے جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکنے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے۔سینئر صحافی اعزاز سید نے انکشاف کیا چند روز قبل چیئرمین نادرا کی جانب سے 4 سینئر افسران کو عہدوں سے ہٹانے کی پس پردہ تفصیلات نے تہلکہ برپا کر رکھا ہے۔ اب تک کی انکوائری میں سابق چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل (ر) اظہر عباس اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تقرری کو روکنے کی سازش کے ماسٹر مائنڈ نکلے ہیں۔
اعزاز کے مطابق ابتدائی طور پر نادرا کی ڈیٹا لیک کی انکوائری بریگیڈیئر (ر) خالد لطیف کی زیر نگرانی تھی تاہم بعد میں علم ہوا کہ وہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے قریبی ساتھی اور معتمد تھے۔ اس لیے خالد لطیف کو ہٹا کر یہ ذمہ داری سینئر افسر علی جاوید کےسپرد کر دی گئی۔صحافی اعزاز سید نے بتایا کہ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی نادرا موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے اہل خانہ سے متعلق ڈیٹا لیک کرنے والوں کی شناخت کے لیے انکوائری کو حتمی شکل دینے کے لیے تیار ہے۔ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر حاصل کردہ معلومات کا استعمال گزشتہ سال نومبر میں موجودہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی تقرری کو روکنے کی کوشش میں کیا گیا تھا۔ ڈیٹا لیک ہونے کی انکوائری کا حکم چیئرمین نادرا طارق ملک کی جانب سے دیا گیا ہے۔
اعزاز سید نے اپنے یوٹیوب چینل پر انکشاف کیا کہ ایک کیس کی انکوائری شروع ہوئی ہے جس کے” کھرے “نقش ایک اہم واقعے سے ملتے ہیں ، جس کی کہانی اکتوبر 2022میں شروع ہوتی ہے، جب بلوچستان کے علاقے کوہلو میں واقع نادرا سنٹر کے ایک جونیئر ایگزیکٹو فاروق احمد کے پاس کوئی آرڈر آتا ہے جس میں ایک شناختی کارڈ نمبر دیا جاتا ہے اور اس سے شناختی کارڈ کے ڈیٹا کو ایکسیس کیا جاتا ہے اور وہ شناختی کارڈ کسی اور کا نہیں بلکہ حاضر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی اہلیہ کا تھا۔
سینر صحافی کے مطابق ان کا فیملی ڈیٹا لیا گیا اور اس کام میں نادرا کے مزید لوگ بھی آئے جن میں سے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد علی ، محمد ساجداور سیف اللہ یہ لوگ انڈر ٹریننگ تھے اس کے علاوہ اسلام آبا د سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رشید احمداور اسلام آباد سے ہی رحمان محمود بٹ اس کام میں شامل ہوئے جو کہ پروجیکٹ ڈائریکٹریٹ پاکستان آئی ڈی سے تھے۔ رحمان بٹ کو موجودہ آرمی چیف کی فیملی کے آئی ڈی کارڈز نمبر دیئے گئے اور کہا گیا کہ ان نمبرز کا پاسپورٹ کارڈ پن دیا جائے اور یہ ڈیٹا ان کے سینئرز نے ان سے مانگا تھا، جن میں ایک خالد عنایت اللہ اور عامر بخاری کا نام آتا ہے کہ انہوں نے یہ ڈیٹا اپنے جونئیرز سے مانگا تھا اس کے بعد اس ڈیٹا کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ایف آئی اے کے سسٹم آئی بی ایم ایس یعنی اینٹی گریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم میں ڈالا گیا یہ وہ سسٹم ہے جس میں کسی بھی بندہ کا آئی ڈی کارڈ ڈالیں تو اس کا سارا ٹریول ریکارڈ آ جاتا ہے، اس کارروائی کا مقصد یہ تھا کہ چیک کیا جائے کہ جنرل عاصم منیر کی فیملی کہاں کہاں ٹریول کرتی ہے اور بالخصوص یہ دیکھنا تھا کہ کہیں ان کے بچے ایران تو سفر نہیں کرتے ؟ سینئر صحافی نے اس بات کے پیچھے ایک سابقہ واقعہ کا بھی ذکر کیا اور انکشاف کیا کہ یہ سب چیک کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ان کے بارے میں غلط اطلاع سعودی عرب کو دی گئی تھی کہ وہ اہل تشیع ہیں اور جب پاکستان حکومت کو یہ خبر پتا چلی تو انہوں نے سعودی اتاشی کو رات کے وقت اٹھایا تھا کہ یہ خبر جھوٹی ہے ، کچھ لوگوں نے یہ چیک کرنے کی کوشش کی کہ آیا ان کی فیملی نے ایران سفر کیا ہے یا نہیں ، اور پھر اس بات کو بطور ثبوت پیش کرنا تھا کہ دیکھیں جی انہوں نے ایران سفر کیا ہے اور یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ اہل تشیع سے تعلق رکھتے ہیں ۔
سینئر صحافی نے اپنے وی لاگ میں انکشاف کیا کہ جنرل عاصم منیر کے بارے میں یہ بات بھی سعودی حکومت کو بتائی گئی تھی کہ وہ اہل تشیع میں کنورٹ ہو چکے ہیں، یہ اطلاع سعودی حکومت کیلئے بہت حیران کن تھی کیونکہ جنرل عاصم منیر تو سعودی عرب میں ڈیوٹی سر انجام دے چکے تھے اور سعودی حکومت کو معلوم تھا کہ یہ تو اہل تشیع نہیں ہیں ، اسی وجہ سے اطلاع دینے والے نے الفاظ کنورٹ کے استعمال کیے کہ جب وہ سعودی عرب میں تھے تب نہیں بلکہ بعد میں وہ اہل تشیع ہوئے ہیں۔اس کے بعد جب سب معاملہ ہو گیا سعودی عرب کو یقین دہانی کرا دی گئی اور جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تعیناتی ہوگئی تو پھر کسی نے ڈائریکٹ بھی جنرل عاصم منیر سے پوچھا کہ جنرل صاحب آپ کا بیٹا اہل تشیع ہے ؟سینئر صحافی نے اس سوال کی وجہ بھی بتائی کہ دراصل یہ شک اس لیے کیا جا رہا تھاکیونکہ ان کے خاندان کے کچھ افراد اہل تشیع ہیں ۔
اعزاز سید کے مطابق مبینہ طور پر اس طرح کے الزامات پاکستان کے قریبی اتحادی سعودی عرب کی نظروں میں اعلیٰ فوجی افسر کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جانے تھے۔اعزاز سید نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنرل عاصم منیر پہلے بھی سعودی عرب میں خدمات انجام دے چکے تھے اس لیے سعودی حکومت نے ان معلومات پر شدیدحیرانی کا اظہار کیا۔ مزید برآں، جنرل عاصم کے بارے میں جانا جاتا ہے کہ وہ ‘فرقہ وارانہ ذہنیت’ نہیں رکھتے ۔ لیکن یہ ساری سازش “آرمی چیف کی تقرری کو روکنے کے لیے تیار کی گئی جس کے تحت سعودی عرب کو غلط معلومات فراہم کی گئیں۔ اس کے بعد سعودی حکومت نے وزیر اعظم شہباز شریف سے رابطہ کیا۔جنہوں نے اپنے سسٹم سے ان معلومات کو چیک کیا۔ تمام تفصیلات کی تصدیق کے بعد ایک نئی رپورٹ تیار کی گئی، اور سعودی حکومت کو بتایا گیا کہاس سے قبل دفاعی اتاشی کی طرف سے دی گئی معلومات غلط ہیں۔اعزاز سید کا کہنا ہے کہ نومبر 2022 کے آخر میں جنرل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف تعیناتی میں تاخیر کی اصل وجہ ان جھوٹی رپورٹس سے پیدا ہونے والی بدگمانیاں تھیں۔
اس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے اتحادی حکومت کے ساتھ اتنی سنگین نوعیت کی جھوٹی رپورٹس شیئر کرنے کے پیچھے سازش کو بےنقاب کرنے کے لیےتحقیقات کا آغاز کیا۔ چونکہ اس مذموم اقدام کے لیے نادرا اہلکاروں کا استعمال کیا گیا۔اس لیے نادرا کے چھ افسران فاروق احمد (جونیئر ایگزیکٹو)، رحمان بٹ (ڈپٹی ڈائریکٹر)، رشید احمد (اسسٹنٹ ڈائریکٹر)، سیف اللہ (ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر)، ساجدسرور (اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ) اور محمد علی (ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر) کے خلاف انکوائری شروع کی گئی۔ ساجد سرور (اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ) اور محمد علی (ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر) کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔
اعزاز سید کے مطابق ان جونیئر اہلکاروں نے ثبوت پیش کیے کہ انہیں ان کے اعلیٰ افسران نے متعلقہ ڈیٹا پر مشتمل رپورٹس بنانے کا حکم دیا تھا۔ اور یہ ممکن تھا کہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ نادرا کے ڈیٹا بیس سے کس کا ڈیٹا حاصل کر رہے ہیں اور کیوں۔ واضح رہے کہ نادرا نے انکوائری کے آغاز پر 14 دسمبر کو ان 6 جونیئر اہلکاروں کو معطل کر دیا تھا اور تاحال انہیں ان کے عہدوں پر بحال نہیں کیا گیا۔انکوائری کے دوران، نادرا کے دو سینئر افسران، خالد عنایت اللہ (ڈائریکٹر جنرل) اور امیر بخاری (ڈائریکٹر) کے نام سامنے آئے جو آرمی چیف اور ان کے اہلخانہ کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی کے پیچھے تھے۔ دونوں افسران نے مبینہ طور پر ان سینئر جرنیلوں کے قریبی رشتہ داروں کا نام لیا جو اکتوبر 2022 میں آرمی چیف کے عہدے کے امیدوار بھی تھے۔ ان قریبی رشتہ داروں کی جانب سے اس ڈیٹا کی درخواست کی گئی تھی۔
پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) ایجنسی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر بڑے پیمانے پر شبہ ہے کہ انہوں نے انٹیلی جنس، ملٹری، بیوروکریسی اور یہاں تک کہ عدالتی اداروں میں اچھے عہدے داروں کے نیٹ ورک کو ترتیب دے رکھا ہے تاکہ ان سے کام نکلوایا جاسکے۔ جو رپورٹس منظر عام پر آئی ہیں ان کے مطابق یہ نیٹ ورک اس وقت بھی کام کر رہا تھا جب فیض حمید انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ نہیں تھے۔ اس نیٹ ورک نے مبینہ طور پر ممکنہ آرمی چیف کے طور پر ان کی امیدواری کا نعرہ اس وقت لگایا جب وہ بہاولپور میں کور کمانڈر تھے۔ مبینہ طور پر یہ نیٹ ورک فیض حمید کے فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی فعال ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید آرمی چیف کے عہدے کے لیے سابق وزیر اعظم پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے پسندیدہ امیدوار تھے۔ فیض حمید نے گزشتہ سال فوج سے جلد ریٹائرمنٹ کی درخواست کی تھی جسے بڑی سرعت سے منظور کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ان پر آمدن سے زائد دولت جمع کرنے کا الزام ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے فیض حمید پر فوج کے ضابطوں کے تحت مقدمہ چلانے اور کورٹ مارشل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اعزاز سید کے مطابق جاری انکوائری سے توقع ہے کہ نادرا اور دیگر جگہوں پر ایسے چہرے بے نقاب ہوں گےجو آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف اس سازش میں شامل ہیں۔ تاہم ان افسران کو یہ غیر قانونی سرگرمیاں کرنے پر اکساتے یا مجبور کرنے کے پیچھے جو اصل ’ماسٹر مائنڈز‘ہیں انہیں کبھی بھی عوامی سزا کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ لیکن اعزاز سید کے مطابق اب تک کی انکوائری میں سابق چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل (ر) اظہر عباس اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے نام سامنے آئے ہیں۔
