اکبر ایس بابر یا عمران خان، PTI آزاد کشمیر کا اصل سربراہ کون؟

 

 

 

 

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی معاملات ایک نئے بحران کی شکل میں کھل کرسامنے آ گئے ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں قائم پاکستان تحریک انصاف کے مقابلے میں اب پارٹی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر سے وابستہ گروپ بھی متحرک ہو گیا ہے، تازہ پیشرفت کے مطابق اکبر ایس بابر کے حمایت یافتہ رہنماؤں نے الیکشن کمیشن آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کو اپنے نام سے رجسٹر کروانے کے لیے باضابطہ درخواست جمع کروا دی ہے۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے آزاد کشمیر چیپٹر کی قیادت اور نمائندگی کے حوالے سے باہمی اختلافات نے نہ صرف اندرونی دراڑوں کو بے نقاب کر دیا ہے بلکہ تنظیمی وحدت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ انتخابات سے قبل پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے بیک وقت دو مختلف دعویداروں کا سامنے آناپارٹی کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے، جو اس کی سیاسی پوزیشن اور انتخابی کارکردگی پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔ جس سے آمدہ الیکشن میں پی ٹی آئی کا دھڑن تختہ ہونا یقینی ہو گیا ہے

خیال رہے کہ تحریک انصاف آزاد کشمیر چیپٹر کے حوالے سے 2 دعویدار سامنے آ گئے ہیں۔ پیر کے روز پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں و کشمیر کو پی ٹی آئی پاکستان کے نام سے رجسٹر کرانے کے لیے باضابطہ طور پر نئی درخواست جمع کرا دی گئی ہے الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر میں جمع کرائی گئی درخواست میں جماعت کو مقامی انتخابی قوانین کے تحت بطور سیاسی جماعت رجسٹر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

 

مظفرآباد کے علاقے گوجرا کے رہائشی درخواست گزار شیراز خان نے چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر کو تحریری طور پر مؤقف پیش کیا ہے کہ جماعت کو آزاد جموں و کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 کے سیکشن 128 اور آزاد جموں و کشمیر الیکشن رولز 2020 کے تحت باقاعدہ سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر کیا جائے تاکہ وہ آئندہ انتخابات میں حصہ لے سکے۔ درخواست میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پارٹی کے بانی اکبر ایس بابر ہیں جنہوں نے تحریری اختیار نامہ جاری کرتے ہوئے انھیں یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر میں پی ٹی آئی پاکستان کی رجسٹریشن کے تمام مراحل مکمل کریں اور جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے انتخابی عمل میں حصہ لیں۔ اس ضمن میں ایک اتھارٹی لیٹر بھی الیکشن کمیشن میں جمع کرایا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق پارٹی اپنے نظریاتی مؤقف میں پاکستان کے نظریے اور ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی مکمل حمایت کرتی ہے اور اسی بنیاد پر آزاد جموں و کشمیر کے آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتی ہے۔

 

درخواست کے ساتھ جماعت کا آئین، مقاصد، تنظیمی ڈھانچہ، مرکزی اور مقامی عہدیداران کی فہرست اور رکنیت کی تفصیلات بھی الیکشن کمیشن کو فراہم کر دی گئی ہیں۔علاوہ ازیں پارٹی کے مالیاتی معاملات اور فنڈنگ سے متعلق معلومات بھی جمع کرائی گئی ہیں تاکہ انتخابی قوانین کے مطابق شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق درخواست کے ساتھ دیگر ضروری دستاویزات بھی جمع کرائی گئی ہیں جن میں عہدیداران کے شناختی کارڈز کی نقول، حلف نامے، مالی تفصیلات اور یہ ثبوت بھی شامل ہیں کہ پارٹی نے کسی بھی ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل نہیں کیے۔درخواست میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ فراہم کی گئی تمام معلومات درست اور مستند ہیں اور پارٹی آزاد جموں و کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 اور متعلقہ قوانین کی مکمل پابندی کرے گی، جس میں مالی حسابات کی شفافیت، انتخابی اخراجات کی تفصیلات اور دیگر قانونی تقاضوں پر عمل شامل ہے۔

 

شیراز خان نے اپنی درخواست میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ جماعت پی ٹی آئی پاکستان کو جلد از جلد بطور سیاسی جماعت رجسٹر کیا جائے اور آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پارٹی کو انتخابی نشان بھی الاٹ کیا جائے۔

کیا عمران خان کے بیٹے واقعی باپ کو ملنا چاہتے ہیں یا نہیں؟

آزاد کشمیر میں سامنے آنے والی اس پیشرفت کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر میں ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد رہ پائے گی یا یہ اندرونی تقسیم انتخابی نتائج پر بھی اثر انداز ہوگی؟ ماہرین کے مطابق انتخابات سے قبل اس نوعیت کی صف بندی اور دھڑے بندی نہ صرف پارٹی کے ووٹ بینک کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ مجموعی سیاسی منظرنامے کو بھی تبدیل کر سکتی ہے۔ اب نظریں الیکشن کمیشن کے فیصلے پر مرکوز ہیں، جو یہ طے کرے گا کہ آیا اس نئی درخواست کو منظور کیا جاتا ہے یا نہیں۔ اگر رجسٹریشن منظور ہو جاتی ہے تو یہ پیشرفت آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک نئی صف بندی اور ممکنہ طور پر تحریک انصاف کیلئے ایک بڑے سیاسی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

Back to top button